Ex-Cricketer Message To BCCI | Express News

چاند تارا

Well-known member
بھارت کی سابق اسپننگ ٹیم نے ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کے لیے ایک اسپینٹسٹ اسپنر کی ضرورت پر زور دیا ہے اور اس میں دو تجویزات کی گئی ہیں - کلدیپ یادو اور ورون چکرورتی کے درمیان۔

انھوں نے کہا کہ بھارت کے پاس ایسا ہونا چاہیے جو ان کے پچھلے میچز میں دیکھا گیا ہے کہ وہ بلے کی کامیابی سے بھی جگہ لے سکتے ہیں اور ان کے پاس اکشر پٹیل، واشنگٹن سندر اور رویندر جڈیجا جیسی تجویزات موجود ہیں۔

انھوں نے ایک جانب سے یہ بات بھی کہا کہ دو اسپنرز کا کھلا رہنا مشکل ہے اور انھیں ٹیم میں نمبر اٹھ پر ہونا چاہیے تاکہ وہ ایک ساتھ کام کر سکائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت کو صرف ایک اسپشلسٹ اسپنر سے جانا چاہیے اور اس کی ناکامی میں انھینہ تک رسائی نہ ہونے پائے۔
 
بھارتی ٹیم کو ایک اسپنٹسٹ اسپنر کے بجای دو جگہوں پر رکھنا چاہیے، یہ تجویز کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے؟ انھوں نے کہا ہے کہ دو اسپنرز کا کھلا رہنا مشکل ہے لیکن وہ دوسرے میچز میں بھی جگہ لے سکتے ہیں، یہ کہنا کہ ایک اسپنٹسٹ اسپنر کے بجای دو نہیں ہو گا، بہت زیادہ Problem ہوسکتی ہے 🤔
 
اللہ کرے! ٹیم کے لیے ایک نئا دور شروع ہوگا? سب سے زیادہ ایسپنر پر مشتمل ٹیم دیکھی گئی ہے اور اب اس کی کوئی جادوگری تاج کے لیے کوئی نئی تجویزات آ رہی ہیں 🤯

کل迪پ Yadav vs Virat Chahar? یہ دو ایسی چھلांगیاں ہیں جو ٹیم کے لیے زیادہ ترقی کی سہولت دیتی ہیں اور ایک نئا دور شروع کرتی ہیں!

اس کے علاوہ، اس ٹیسٹ میچ میں، واشنگٹن Sundar, Ashwin Patel اور Ravi Jadeja جیسی اسٹارز نے بھی اپنا گیندबازی کی پریشانی کو حل کیا ہے! 🤓
 
اس کھیل میں ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنا بہت مشکل ہے... اور ابھی بھی دو اسپنرز کو ایک ٹیم میں نمبر اٹھ پر رکھنا مشکل ہے... اگر ایک دوسرے کا ساتھ نہ ہو تو وہ ایسے مچز جیت سکتے ہیں جو ان کی قدر بن سکتے ہیں...
 
😊 یہ بات بہت اچھی ہے کہ بھارت کی پہلی اسپننگ ٹیم نے وین ڈے ورلڈ کپ کے لیے ایک اسپنٹسٹ اسپنر کی ضرورت پر زور دیا ہے اور ابھی تک ان کے پاس دوسرے بہت سارے تجویزات ہیں جیسے اکرش پٹیل، واشنگٹن سندر اور رویندر جڈیجا جن سے بلے باز کی جگہ لینے کا امکان ہے۔

لگتا ہے انھیں بھارتی ٹیم کو دیکھنے کے لیے ایک نئی اچھی خلا ہو گئی ہے اور یہ بات بھی درست ہے کہ دو اسپنرز کا کھلنا مشکل ہے تو اس لئے انھیں نمبر ایک پر ہونا چاہیے۔
 
اس ٹیم کو ایسا ہونا چاہیے جو بلے کھیلوں اور اسپن سے بھی کامیاب ہوا کرو۔ وہ ایسا اسپنر نہیں چاہتے جو صرف ایک قسم کی گیند کھیل سکے، بلکہ وہ گیند کھیل سکے جیسے وہ بلے کھیل سکیں۔ کلدیپ اور ورن چکرورتی دونوں بہت ہی ناکام رہے ہیں اور یہاں کچھ تجویزات کی گئی ہیں تو ان پر ہرگز نظر نیٹ کیا جا سکےga.
 
میں سمجھتے ہوئے کہ اچھا کو بہتر سے بہتر ہوتا چلا گیا ، فہرست میں دو اسپنرز ڈالنا ایسا ہی ہوگا جیسا پہلے کیا گیا تھا اور وہی نتیجہ نکلتا ہوگا ، مگر یہ بات اس وقت تک بتائی دی جا سکتی ہے جب وہ دو اسپنرز ٹیم میں شامل ہوجانے پے.
 
اس ٹورنامنٹ کے لیے بھارت کو ایک اچھا اسپنسر ضروری ہے، لیکن یہ بات مشکل ہے کہ وہ اس جگہ پر ہی رہے جو اکش پٹیل اور واشنگٹن سندر جیسے بلے بازوں نے بھر ہوا ہے۔ یہ دیکھنا مشکل ہوگا کہ انھیں کب جگہ دینا پائے گا؟
 
تخلیق کرنا تو آسان ہے لیکن ٹیم کو ایسا ہونا پوا گا جیسا کہ انھوں نے پہلے اور وہ دیکھایا ہے کہ انھیں بلی کرنا بہت مشکل ہے۔ دو اسپنرز کی ٹیم میں نمبر اٹھ پر جانا ہوگا تاکہ وہ ایک ساتھ کام کریں۔ لہٰذا انھیں ٹیم کو ایسا ہونا پوا گا جو اس کے لیے بہت مشکل ہوگا۔
 
بھارتی کرکٹ ٹیم کو ایک اسپنٹسٹ اسپنر کا تعین کرنا بہت اچھا Idea Tha 🤔, جس سے انھیں ایک ساتھ بلے کی کامیابی سے اور اسپننگ کی موثر سہولت ملا سکتی ہو... Lads Akshar Patel, Washinton Sundar aur R Ashwin jese Khaas Niyatein Hai 🤝.
Lekin yeh ek Problem hai ki Do Sportsman ka Khala Rehna mushkil hai... Woh Team Mein Number one ya number two Banne Chahien Taki Unhe Ek Sath Kam Kar Sakien Ge... Aur agar Bhi wo Team ko Single Spinner se hi Jeeta hai toh uss Naiyati mein Rishta Nahin Hoga 😐
 
اس بات پر مبنی تھوڈا سا کچھ بھی لگتا ہے جو دوسرے ٹیموں نے اپنے اسپن سیزز میں تجویز کی ہے وہاں تک وہ بھی پورے ملک کے لوگوں سے نمبر اٹھ کر کام کرتے ہیں؟ اور دوسری جانب بھارتی اسپن سیزز میں ہونے والی یہ بات بھی کیا جائے گا کہ وہاں تک ان کی ناکامی میں ان کے پچھلے تجویز تھے؟
 
اس کھیل میں بھارت کو ایک بری کرنے والا سیکھنا چاہیے کہ وہ اپنی فوج کی جگہ پلوں پر نہ رہو... 😐 اور یہی وجہ ہے کہ انھیں ایک اسپنسٹ اسپنر سے جانا چاہیے لیکن اس کے ساتھ دو اسپنرز بھی رکھنا پوہیں نہیں... فائن لینڈ کی جگہ میچز پر لگائی جانے چاہیے...
 
ایسا مینا کچھ بھی ہونا چاہیے? یہ دو سپنرز کو ایک ٹیم میں رکھنا مشکل ہوگا تو کیا ایک سپنسر سے پوری کارکردگی نکلنی ہے؟ انھیں واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ دونوں سپنرز کو ایک ساتھ کام کرنا پڑے گا اور یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ایک ہی طرح سے کارکردگی دیکھائیں گے؟
 
بھارتی ٹیم کو ایسے اسپنرز کی ضرورت ہو رہی ہے جو کہلاتے ہیں ان کا کھلا رہنا یہ لوگ صرف اس میں ناکام ہوتے ہیں ….. 😔
 
اس کھیل کو بھی ایسا بنانا ہوگا جو بلے بازوں کے لئے فائدہ مند ہو، مگر اس میں دوسروں کے کام کو بھی یقینی بنانا چاہیے
 
ایسا تھوڑا سا یقین ہے کہ 2027ء ون ڈے ورلڈ کپ میں بھارت کی اسپننگ ٹیم کو ایک بالکل مختلف ہیٹر پر فокس کرنا پڑے گا.
میری رائے یوں ہے کہ انہیں کوئی نئی اور خوفناک تیز رفتار اسپنر کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ وہی معاذاللہ بن سچ کھلاڑی چاہیے جس پر وہ اپنی سب سے بہتر ٹیموں میں فیلڈنگ کر رہے ہیں.
ناکامیت کی بہت کم ہی گئیں ہیں، اور وہی لینڈنگ پاؤنڈ اور اسپنر کی سچائی کھلاڑی کا انتخاب کریں۔
 
اس 2027 ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے میچز دیکھتے ہوئے، مجھے یہ لگتا ہے کہ بھارتی ٹیم کو ایک اسپن کی ضرورت نہیں تھی، اسے بلے بازوں کے ساتھ کمائی کی چاہیں جتنی زیادہ بلے کے ماحول میں مچا دیا جائے اور ان ٹیمز کے پاس بھی اس طرح کوئی تجویز نہیں ہوگئی۔
 
واپس
Top