فیض حمید کی چائے کی پیالی خیبر پختونخوا کو مہنگی پڑی: گورنر

لوڈو کنگ

Well-known member
سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی عدالت کی جانب سے چار جرائم میں 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے، جیسا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا ہے کہ 'قوم برسوں فیض حمید صاحب اور جنرل باجوہ کے بوۓ ہوئے بیجوں کی فصل کاٹے گی'۔

اس فیصلے نے ملک کی مختلف سیاسی شخصیات کو حیران کر دیا ہے، کیونکہ اس سے ثابت ہوا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جاتا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنی ایک پوسٹ میں بتایا ہے کہ God Almighty humein maaf karega aur isteqlal aur takat ko unka ilaaj karwa dene ka tawafa dilaye. Khwabha-e-Allah unke liye honi chahiye.

انہوں نے مزید کہا ہے کہ اچھی طرح اور شفافیت کے ساتھ احتساب کا عمل بھی دیکھنے کو مل رہا ہے، جو اس فیصلے میں واضح ہے کہ اداروں میں خود احتساب کا نظام مضبوط ہے.

آزاد سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ اس فیصلے نے ایک حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جاتا، چاہے وہ طاقتور ادارے سے تعلق رکھتا ہو یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ اگر کسی فوجی کو بھی ریاست کے خلاف بغاوت کرے گا تو اسے سزا ملے گی، اور ایسا ہی فیض حمید کی صورت میں بھی ہوا ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت کے ساتھ ملوث رہے، جس سے سیاسی ماحول میں بے چینی پیدا ہوئی، اور اب اس کی وجہوں سامنے آ رہی ہیں۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ 'ہمارا صوبہ فیض حمید کی چائے کی پیالی سے متاثر ہوا'، اور انہوں نے مزید کہا کہ یہ 'چائے کی پیالی‘ ہی اس صوبے کو بہت مہنگی پڑ رہی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایک پاکستانی وہی ہوتا ہے جو ریاست سے بالاتر نہیں، پہلے ریاست آتی ہے اور پھرPolitics ہی، اور کسی بھی شخص کو اس سے بالاتر نہ سمجھا جاتا۔
 
بغیر ایسا کہ چار دہائیوں سے وہ پہلے بھی فوج کے اعلیٰ عہدوں پر رکھے ہوئے ہیں، فیصل حمید کو 14 سال کی سزا سنائی گئی ہے اور اس کا انفرادی کردار نہیں سمجھا جاتا؟ لگتا ہے کہ فوج کے اعلیٰ عہدوں پر رکھنے سے بھی فوج کو قانون سے بالاتر سمجھنا چلا گیا ہے!
 
فریق حمید کی دھمکیوں سے تو ہمیں بالکل متاثر نہیں ہوتا، ایسے کہتے ہوئے کہ وہ چار سال تک جیل میں رہنے کے بعد بھی بھیڑ بناتے رہوں۔ ان کی باتوں پر اچھا کام کرنا ہوتا تو اس وقت تک کہ وہ اپنی جگہ سے نکل پائیں اور کوئی نئی چاہن بھی نہیں بے چینی کی طرح اپنی جگہ کو تازگی دیکھے۔
 
یہ فیصلہ مجھے بہت متاثر کرتا ہے اور میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر کسی فوجی کو بھی قانون سے بالاتر سمجھا جاتا تو کیا وہ ان کے ساتھ اپنی حیثیت گم کر دے گا؟ مجھے یہ بات نہیں متوازن لگ رہی ہے کہ فوجی اداروں میں خود احتساب کا نظام مضبوط ہو جائے تو یہ پورا ملک آئندہ طور پر اپنی راہ پر چلنا شروع ہو گا
 
جب تک یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ فیض حمید کیسے ان حالات میں پایا گیا، اور اس سے متعلق تمام اقدامات کو کیسے جائز سمجھا جا سکتا ہے تو یہ سب کچھ نہیں سمجھایا جا سکتا 🤔
 
تاہم یہ حقیقت تو تو ہے کہ پاکستان میں قانون کی ایک نئی سطح پائی جا رہی ہے، لیکن اس سے ہمیں سوچنا ہوتا ہے کہ اداروں کو بھی اپنے احتساب کا نظام مضبوط بنانا چاہئے، نہ صرف انھیں خود کو انھائے میں محفوظ رکھنا چاہئے بلکہ انھوں نے بھی اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرنا چاہئے۔
 
بilkul 🤔, یہ تو ایک حقیقت کہ پاکستان میں قانون کا تعامل نہ ہونے کی طرف اشارہ ہے، لیکن اچھی طرح اور شفافیت کے ساتھ احتساب کا عمل دیکھنا بہت اچھا ہے، اس کی وجہ سے ملک کو نئے راستے پر چلنے کی تمکنہ حاصل ہوسکتی ہے।
 
سزا کی شدت سے ابھی تو فوری تناؤ پیدا ہوتا ہے لیکن واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان میں قانون کی قلت نہیں اٹھنی پہلی بار دیکھا گیا۔ جب فوج کو بھی قانون کے زخمی ہونے پر مجبور کرنا پڑتا ہے تو یہ ایک حقیقت ہو گئی ہے کہ کسی نہ کسی صورت میں احتساب کی ضرورت ہوتی ہے۔
 
واپس
Top