پاکستانی ڈراموں میں ٹرانس جینڈر کرداروں کی پیشکش پر ماریہ بی نے سخت ردعمل دیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ ایک گرلز کالج کے سین میں ایسا کردار دکھایا گیا ہے جو بائیولوجیکلی مرد ہے لیکن خواتین کے درمیان موجود ہے، جس پر انہیں شدید اعتراض ہے اور یہ ایک ’’چالاکی‘‘ تھی جو ڈرامہ سازوں نے سمجھی، لیکن پاکستانی قوم نے اس بات کو فوراً پہچان لیا۔
MARYAM BE N E JOOTI HAI
کسی بھی شخص کے جسم پر اپنے لئے نام نہاد ’’جنس‘‘ یا ’’لنگ‘‘ کا نام لگایا جائے تو وہ شخص اس سے باہر ہو کر جارہا ہے اور وہ اپنے ساتھیوں کو بھی اس طرح بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اکیلے نہیں، ماریہ بی نے مزید کہا کہ یہ موضوع دنیا کے مختلف ممالک میں سنگین واقعات کا باعث بنتا ہے، اس لیے ایسے موضوعات کو معمول بنا کر پیش کرنا خطرناک ہے۔
دنیا کے ایسے لوگ ہیں جو اپنے جسم پر ’’جنس‘‘ یا ’’لنگ‘‘ کا نام لگانے سے اس سے باہر ہو کر کھیلتے ہیں اور اس طرح لوگوں کو دوسروں کی جگہ بناتے ہیں، ماریہ بی نے کہا کہ خواتین کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں اور اداکاراؤں کے روزگار کو بھی خطرہ لاحق ہے۔
MARYAM BE N E JOOTI HAI
کسی بھی شخص کے جسم پر اپنے لئے نام نہاد ’’جنس‘‘ یا ’’لنگ‘‘ کا نام لگایا جائے تو وہ شخص اس سے باہر ہو کر جارہا ہے اور وہ اپنے ساتھیوں کو بھی اس طرح بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اکیلے نہیں، ماریہ بی نے مزید کہا کہ یہ موضوع دنیا کے مختلف ممالک میں سنگین واقعات کا باعث بنتا ہے، اس لیے ایسے موضوعات کو معمول بنا کر پیش کرنا خطرناک ہے۔
دنیا کے ایسے لوگ ہیں جو اپنے جسم پر ’’جنس‘‘ یا ’’لنگ‘‘ کا نام لگانے سے اس سے باہر ہو کر کھیلتے ہیں اور اس طرح لوگوں کو دوسروں کی جگہ بناتے ہیں، ماریہ بی نے کہا کہ خواتین کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں اور اداکاراؤں کے روزگار کو بھی خطرہ لاحق ہے۔