سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عدلیہ کی قوت، صرف اسی وقت بلند رہ سکتی ہے جب ججوں کے فیصلے کو قانون کی روشنی میں ہونے چاہیں، اس لیے انھیں ذاتی مفادات یا بیرونی دباؤ سے بالاتر کرकर فیصلے کرنے چاہیئں۔
انھوں نے کہا ہے کہ عدلیہ کی قوت، صرف وہ وقت تک منصفانہ رہ سکتی ہے جب جیسٹس کو قانون کی بالادستی کو مقدم رکھ کر فیصلے کرنا چاہیں اور وہ ان کے ذاتی مفادات سے بالاتر رہنے چاہیں۔
انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ عدلیہ کی قوت، صرف وہ وقت تک منصفانہ رہ سکتی ہے جب عوام کو بروقت اور منصفانہ انصاف فراہم کرنے پر مرکوز کیا جائے۔
انھوں نے آئین کی بالادستی کو مقدم رکھकर فیصلے کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے، اور انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ عدلیہ کا مقصد صرف سیلین کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور انصاف کی فراہمی ہی ہے۔
بڑا ایسا کیا ہوا ہوگا، جج نے سچائی بتائی ہے کہ عدلیہ کے فیصلے وہیں رہنے چاہیئں جو قانون کے ذریعے نکل رہیں اور انھیں ذاتی مفادات سے بالاتر کرکر فیصلے کرنا چاہیئے، اس لیے عدلیہ کی قوت صرف وہ وقت تک منصفانہ رہ سکتی ہے جب عوام کو بروقت اور منصفانہ انصاف فراہم کرنے پر مرکوز کیا جائے।
اسے تھوڑا سا دھیڈن دیکھو، آئین کی بالادستی کو مقدم رکھنا ہی عدلیہ کی قوت کا اہم ترین حصہ ہے، اور جسٹس نے یہ بھی بتایا ہے کہ عدلیہ کا مقصد صرف سیلین کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور انصاف کی فراہمی ہی ہے، تو چل رہے ڈرامے!
[مذاق میں آئین کو پھول کے گُل کے طور پر دیکھنا ہے]
[انھوں نے عدلیہ کی قوت کو ایک سائنسدان کی طرح سمجھنا چاہیئے: "سائنسدان اپنے تجربات اور ذاتی مفادات سے بالاتر رہنے کی کوشش کرتی ہے، لہذا عدلیہ بھی ایسا ہونا چاہئیے!"
[شریعت کو شہزادہ سے کم اور قانون کو شہزادی سے زیادہ محترم سمجھنا चاہئیے: "شہزادہ میں کچھ نہ ہو، اور شہزادی بھی نہیں!"
[اکثر وقت ڈرامے میں عدلیہ کو ایک بدسوز شہزادہ کے طور پر دیکھنا پڑتا ہے: "عدلیہ! عدلیہ!"
سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل کی بھارتی عدلیہ کی قوت کو سستا نہ رکھنا چاہیئے، انھوں نے یہ بات بھی بتائی ہے کہ عدلیہ صرف وہ وقت تک منصفانہ رہ سکتی ہے جب عوام کو سستا اور بروقت انصاف فراہم کرنے پر مرکوز کیا جائے۔ اگلی بات یہ ہے کہ عدلیہ کی قوت کو قانون کی بالادستی کو مقدم رکھنا چاہیئے، نہیں تو انھوں نے اپنی جسٹس کا کام پورا کر لیتے ہیں۔
یہ کہاں چل گیا ہے؟ سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل نے دھاروائے قانون کی بات کھو دی، یہاں تک کہ انھوں نے آئین کی بالادستی کو مقدم رکھنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ عدلیہ کا مقصد صرف سیلین کے حقوق کا تحفظ ہی نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی بھی ہے۔ اب یہ وہ بات ہے کہ کس پر انصاف کی فراہم کرنے کا فैसलہ لگایا جائے گا اور کس کو ناکام رکھنا پڑے گا۔ یہ تو دیکھو کس طرح عدلیہ کی قوت سے بھرپور معاملات میں دھاروائے قانون کی بات چلتا رہتا ہے۔
اس وقت کی عدالتوں میں آج بھی وہی Problem تھا جس سے میری والدین کے دور میںProblem تھا ، انھوں نے 80وں اور 90وں کی دہائیوں میں بھی یہی بات کہی تھی کہ عدالتوں کو قانون کے ساتھ وعدہ جات کرنا چاہیئے ، لگتا ہے انھوں نے ہمیشہ ہی یہی بات کہی تھی اور اب بھی یہی بات سنان رہی ہے۔ آئین کی بالادستی کو مقدم رکھنا صرف ایک دیکھ بھال نہیں ہے بلکہ عدالت کا اہم ترین مقصد ہے، میں یقینی تھا کہ انھوں نے آئین کی بالادستی کو مقدم رکھکر فیصلے کرنا چاہیئے ، اب تو ہمیں اس بات پر یقین ہوگيا کہ عدالتوں میں بھی ایسے اہم شخص جو انھیں وعدہ جات کرنا چاہتے ہیں ، میری والدین نے بھی یہی بات کہی تھی اور اب تو لگتا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ یہی بات سنان رہی ہے ، لاکھا لاکھ پرچلوں میں بھی یہی بات سنان رہی ہے۔
یہ بات بھی محسوس ہوتا ہے کہ جب سٹین لائیڈز نے شائع ہوا تو ان کی پابندیاں کیا گئی تھیں، اور اب جسٹس جمال مندوخیل کے الفاظ سنیے تو یہ بات بھی محسوس ہوتا ہے کہ عدلیہ کی قوت اس وقت صرف منصفانہ رہ سکتی ہے جب وہ لوگوں کو بروقت اور منصفانہ انصاف فراہم کرنے پر مرکوز ہو۔
اس جسٹس کے لئے مچھلی بھاگ کر چل رہی ہے وہ کہتے ہیں عدالت کی قوت صرف اس وقت بلند رہ سکتی ہے جب فیصلے قانون کی روشنی میں ہوں اور انھیں اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر کر کر فیصلے کرنا چاہیئے। اس کے بعد یہ کہتے ہیں عدالت کی قوت صرف وہ وقت تک منصفانہ رہ سکتی ہے جب عوام کو بروقت اور منصفانہ انصاف فراہم کرنے پر مرکوز کیا جائے۔ اگر انھیں یہ بات نہیں آتی تو وہ اس کے لئے صرف ایک چھوتا پہنچایا ہوگا
سپریم کورٹ کی بات ہوئی ہے کہ عدلیہ کو صرف وہ وقت تک منصفانہ رہنا چاہیئے جب جیسٹس کو قانون کی بالادستی کو مقدم رکھ کر فیصلے کرنے کی जरورت ہو اور ان کے ذاتی مفادات سے بالاتر رہنا چاہیئے۔ یہ بات تو بہت اچھی ہے، لکین ابھی تو اس پر کس طرح عمل کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے؟ کہیں انھوں نے یہ بات بھی بتائی ہو کہ عوام کو بروقت اور منصفانہ انصاف فراہم کرنے پر فوج ہو رہی ہے؟
عدالت میں جسٹس کو قانون کی جانب سے فیصلہ کرنا چاہیئے تاکہ وہ منصفانہ رہ سکے اور عوام کے حق میں کامیاب ہو سکیں۔
مگر اگر جسٹس کو اپنے ذاتی مفادات کے تحت رہ کر عدالت کی قوت کمزور ہوجاتی ہے تو یہ بھی معقول نہیں گا۔
آئین کی بالادستی کو مقدم رکھنا اور فیصلوں میں قانون کی جانب سے آگاہی رکھنا ایسا واحد طریقہ ہے جس سے عدالت کے فیصلوں کی نیت اور صلاحیت کو یقینی بنایا جا سکتی ہے۔
لگتا ہے یہ بات اس وقت پر تازہ ہے جب عوام کو بروقت اور منصفانہ انصاف کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے جو عدالت کی قوت کو کمزور کرنے میں مدد دے گا۔