عمران خان کی صحت پر تشویش کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بتایا کہ انھوں نے پوری قوم کو تشویش ہے، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو نا حق قید کیا ہوا ہے۔ عمران خان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور یہ شاندار واقعہ ہے کہ ہر منگل کو کیمیکل والا پانی ان پر پھینکا جاتا ہے، Alima Khan اور ان کی قربانیوں کو تسلیم کرنے کے لیے ہم پاکستان تحریک انصاف کے ورکر ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ عمران خان کی بہنیں ہمارے سروں کا تاج ہیں، ہم پی ٹی آئی کے ورکر ہونے کی حیثیت سے ان کے شانہ شانہ کھڑے رہیں گے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم اور سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کو جیل میں رکھا گیا ہے، جبکہ ان کی آنکھ کا آپریشن جیل میں ہی کر دیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ عمران خان کو میڈیکل ٹیرارزم کی گئی، جب وہ اسی طرح کا رویہ رکھتے تو احتجاج کے علاوہ ہمارے پاس کیا آپشن رہتا؟ تمام قانونی دروازے کھٹکھٹانے کے بعد بھی کوئی سنوائی نہیں ہوتی۔
انھوں نے بتایا کہ ہمارے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، بانی پی ٹی آئی نے ان پر اعتماد کر کے یہ ذمہ داریاں ان کے حوالے کی ہیں، احتجاج اور مذاکرات دونوں کا اختیار ان دونوں شخصیات کے پاس ہے۔
انھوں نے بتایا کہ 8 فروری پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دن ہے، جس دن وہ کیا گیا جو 1971 اور 1973 میں کیا گیا تھا، بانی پی ٹی آئی نے ہمیں اجازت نہیں دی کہ ہم قانون ہاتھ میں لیں۔
انھوں نے بتایا کہ ایک سیاسی جماعت کو انتخابی نشان سے محروم کیا گیا، نشان چھیننے کے بعد ہمارے نمائندوں سے کاغذات سرعام چھینے گئے، ڈنڈے کی زور اور بندوں کی نوک پر فارم 47 بنا کر نااہلوں کو ہمارے ساتھ مسلط کیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ عمران خان کی بہنیں ہمارے سروں کا تاج ہیں، ہم پی ٹی آئی کے ورکر ہونے کی حیثیت سے ان کے شانہ شانہ کھڑے رہیں گے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم اور سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کو جیل میں رکھا گیا ہے، جبکہ ان کی آنکھ کا آپریشن جیل میں ہی کر دیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ عمران خان کو میڈیکل ٹیرارزم کی گئی، جب وہ اسی طرح کا رویہ رکھتے تو احتجاج کے علاوہ ہمارے پاس کیا آپشن رہتا؟ تمام قانونی دروازے کھٹکھٹانے کے بعد بھی کوئی سنوائی نہیں ہوتی۔
انھوں نے بتایا کہ ہمارے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، بانی پی ٹی آئی نے ان پر اعتماد کر کے یہ ذمہ داریاں ان کے حوالے کی ہیں، احتجاج اور مذاکرات دونوں کا اختیار ان دونوں شخصیات کے پاس ہے۔
انھوں نے بتایا کہ 8 فروری پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دن ہے، جس دن وہ کیا گیا جو 1971 اور 1973 میں کیا گیا تھا، بانی پی ٹی آئی نے ہمیں اجازت نہیں دی کہ ہم قانون ہاتھ میں لیں۔
انھوں نے بتایا کہ ایک سیاسی جماعت کو انتخابی نشان سے محروم کیا گیا، نشان چھیننے کے بعد ہمارے نمائندوں سے کاغذات سرعام چھینے گئے، ڈنڈے کی زور اور بندوں کی نوک پر فارم 47 بنا کر نااہلوں کو ہمارے ساتھ مسلط کیا گیا۔