جے یو آئی اور تحریک تحفظ آئین 8 فروری کو الگ الگ یوم سیاہ منائیں گی | Express News

عقاب

Well-known member
اسلام آباد میں جے یو آئی اور تحریک تحفظ آئن نے 8 فروری کو الگ الگ یوم سیاہ منائیں گے۔

ابوزہین ایک روزہ احتجاج کا فیصلہ کر چکی ہیں جس میں انہوں نے طویل تحریک سے باہمی اتحاد کو جھلکایا ہے، اس طرح ایک ایسی تشدد بڑھنے کا امکان پیدا ہوا ہے کیونکہ یہ تحریک دیکھتی ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس اپوزیشن کو ختم کرنے کے لیے ایسے توپوں سے لڑنا پڑے گا جیسے انہوں نے 20 سال کی تحریک میں پیش کیا تھا۔

جبکہ ان کے لیے یہ ایک اہم دن ہے اس لئے کہ یہ دن ان کے لئے شہید بننے والی دوسری بار کی تھی، انہوں نے یہ اعلان بھی کر دیا کہ 8 فروری کو جس طرح سے انہوں نے پچیس سال قبل شہدت کی ایسی ہی صورت میں دیکھی ہے وہ اگلے دن دوسری بار یہی حال ہو گا۔

تحرک تحفظ آئین کے ساتھ یہ ایک ایسا احتجاج ہے جو اس سے پہلے ان کے لیے نہیں تھا۔
اس سلسلے میں محمود اچکزئی نے کہا کہ اس جگہ پر وہ اپنے ایک ایسے اجتہاد کی آواز کو بھر دیا ہے جو ان کے لئے پہلی بار ہو رہا ہے۔

ان نے 8 فروری کو جہاں اچکزئی نے اپنا ایک بھرپور خط ختم کیا تھا، اس میں انہوں نے یہ بات بھی کر دی ہے کہ وہ اس تحریک میں اپنےPolitical کارکو دیر سے شامل ہونے پر مجبور کیے گئے تھے، اور ان کی وہ نوجوان لڑائی جس نے وہاں اپنا شہید بننے کا موقع حاصل کیا تھا، اس نے ان سے بات کرکے پوچھا تھا کہ جب یہ تحریک دھمaki ہوئی تو ان کے پاس کتنے شہید اور زخمی تھے، جس پر نوجوان نے ان کے ساتھ اپنا شہید بننے کا موقع حاصل کیا تھا وہ اس پوچھنے میں ناکام رہ گئے۔
 
بجائے سے یہ ایک بڑی خطرات سے لپتا ہوا تھا کہ اس تحریک کو پی ٹی آئی پر پابند کر دیا جائے گا، اب ابوزہین نے وہی اور ایسا ہی راز اپنے سامنے رکھ دیا ہے، یہ تحریک دیکھتی ہے کہ پری ٹی آئی کو ان پر گھروں میں داخل کرنا ہوگا جیسا کہ وہ 20 سال کی تحریک سے بھی چلتے تھے، لاکھ لاکھ ایسی منظر نہیں دیکھے گئے ہیں۔
 
8 فروری کو یہ ماحول ہی بھی سائٹس پر موجود ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے پاس اپوزیشن کو ختم کرنے کے لیے ایسا توپہ لگا رہا ہے جس سے انہوں نے 20 سال کی تحریک میں لڑا تھا اور اب وہ اسے دوسری بار لڈنے کے لیے تیار ہوئے ہیں!
 
یہ واضح ہے کہ ایسے تحریک کی آواز کی ضرورت ہے جو دیکھتی ہے کہ لوگ ایسی بات کرنے لگ رہے ہیں جس سے تانے مانے ہوئے تنازعات بڑھتے ہیں، حالانکہ 8 فروری کو جب ان کی ایک روزہ احتجاج کا اعلان ہوا تو اس نے انہیں ایسے درجہ تک پہنچایا تھا کہ وہ شہدت کے دن پر بھی ایک ایسی تحریک کی مہم چلا رہے ہیں جو انہیں اس میں شامل کرتی ہے.
 
اس تحریک کو بہت متاثر کن دیکھنا ہوگا، ابزہین ایک روزہ احتجاج کرتے ہیں جس میں اس تحریک کی ایک نئی Seite دکھائی جا رہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی طویل جدوجہد میں کوئی نئی سوچ بھی حاصل کی ہے، جبکہ اس احتجاج کے بعد دیکھا جائے تو وہ دوسری بار یہی حال ہوگا۔
 
بہت اچھی ترسیل ہے اس تحریک کے ساتھ، یہ دیکھنا ہی اچھا ہے کہ ایک بار جب لوگ کسی بات کو سمجھنا شروع کر دوں تو وہی پورا دھماکہ دہی اچھا ہوتا ہے، یہ تحریک کا ایک بھرپور خط 8 فروری تک بھر دیا ہو گا یا نہیں؟
 
واپس
Top