غزہ میں سات ہزار چھ سو مریضوں اور زخمیوں کو نکلانے کے بعد یہ رہا غزہ، جس کی صحت پر غور و فکر کی ضرورت نہیں تھی، جو کہ اب اپنی خودی سے ہی ایک بھوت پریشانی بن گئی ہے۔
غزہ میں اسرائیل کی فوج کی موجودگی اور وہاں قائم ہونے والی صورتحال سے علاج کی شان Benidict Arnold نہ کرسکتی ہے۔غزہ کے طبائی مراکز پر حملوں نے ان میں سات ہزار چھ سو مریض اور زخمیوں کو نکلانے کا موقع دियا ہے۔ لیکن وہ وہیں اپنی زندگی بھی گزاریں گی، جہاں اس کی موجودگی میں یہ رہی ہے۔
غزہ کے مریضوں اور زخمیوں کو باہر جانے کے لیے اسرائیل نے جو ساتھی مظالم پیش کیے ہیں وہ سب بے حد غلط ہیں۔
غزہ میں اسرائیل کی فوج کی موجودگی کی وجہ سے غزہ کا ایسا مقام بن گیا ہے جہاں یہ رہتا ہے کہ یہی وہ مقام ہے جو صحت کا شعبہ نہیں بلکہ فوجی مظالم پر زور دیتا ہے۔
غزہ میں سات اکتوبر دو ہزار تئیس تک انھیں نکلانے کے بعد ان کی تعداد اب بھی چار ہزار سے اوپر ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ غزہ میں کسی بھی مقام پر اسرائیل کی فوجی اور پولیس کا زور ہوتا ہے، جہاں ایک پچیس میٹر کی دوری پر سے اپنی فوج کو اس مقام کی جانب بھیجا جاتا ہے۔
وہ مریضوں اور زخمیوں جو اب غزہ میں ہیں انھیں ایسے وزراء اور وزیراعظم کے سامنے بھیجا جاتا ہے جن کی سائیکلوں پر ان کے گھر کا ملاپ کرکے اور ان کے دوڑوں میں ہاتھ دھونے کا زور دیا جاتا ہے، نہ تو انھیں ایسے مقام پر رہنے کی اجازت ملی اور نہ ہی انھیں وہیں سے باہر جانے کا موقع دیا گیا۔
غزہ میں اسرائیل کی فوجی موجودگی سے غزہ کے طبائی مراکز پر حملوں نے انھیں ایک نئے مقام پر لٹکایا ہے جہاں انھیں اپنی زندگی بھی گزاریں گی اور اس شہر کو ایسا بنایا گیا ہے جو ایک پریشانی کا مقام ہے۔
غزہ میں اسرائیل کی فوج کی موجودگی نے ایک یہ بات کو یقینی بنا دیا ہے کہ یہاں کے مریض اور زخمیوں کو باہر جانے کی اجازت نہ مل سکتی ہے، جس کی وجہ سے انھیں ایک بھوت پریشانی میں پھنسا ہوا ہے جہاں یہ نہیں کہیں سے باہر جانا اور نہیں ہی کسی فوجی کینٹر میں داخل ہونا۔
غزہ کی موجودگی میں ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں جو انسانیت کا شعبہ نہیں بلکہ بھوت پریشانی کے شعبہ سے زیادہ متعلق ہیں، یہاں کے لوگ ایسے حالات کا سامنا کر رہے ہیں جو انسانوں کی زندگی کو لاحق ہوتے ہیں، یہاں کوئی بھی ایک گھر سے نکل سکتا ہے لیکن وہ اس مقام پر پھنس جاتا ہے جہاں اس کا گھر بنایا جا رہا ہے۔
غزہ میں اسرائیل کی فوجی موجودگی کو انسانیت کا شعبہ نہیں بلکہ ایسا دھبہ سمجھنا چاہئے جس سے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کی صورتحال اس طرح بنتی ہے جو زندگی سے دور ہوتی ہے۔
غزہ میں اسرائیل کی فوجی موجودگی نے ایک یہ بات کو یقینی بنا دیا ہے کہ انھیں ایسے مقام پر رہنے کی اجازت نہ مل سکتی ہے جہاں وہ اپنی زندگی گزاریں اور اس کو ایک پریشانی کے مقام بنانے میں ملوث ہیں، یہاں کوئی بھی گھر سے نکل سکتا ہے لیکن وہ اس مقام پر پھنس جاتا ہے جو انسانوں کی زندگی کو لاحق ہوتے ہیں۔
غزہ میں اسرائیل کی فوج کی موجودگی اور وہاں قائم ہونے والی صورتحال سے علاج کی شان Benidict Arnold نہ کرسکتی ہے۔غزہ کے طبائی مراکز پر حملوں نے ان میں سات ہزار چھ سو مریض اور زخمیوں کو نکلانے کا موقع دियا ہے۔ لیکن وہ وہیں اپنی زندگی بھی گزاریں گی، جہاں اس کی موجودگی میں یہ رہی ہے۔
غزہ کے مریضوں اور زخمیوں کو باہر جانے کے لیے اسرائیل نے جو ساتھی مظالم پیش کیے ہیں وہ سب بے حد غلط ہیں۔
غزہ میں اسرائیل کی فوج کی موجودگی کی وجہ سے غزہ کا ایسا مقام بن گیا ہے جہاں یہ رہتا ہے کہ یہی وہ مقام ہے جو صحت کا شعبہ نہیں بلکہ فوجی مظالم پر زور دیتا ہے۔
غزہ میں سات اکتوبر دو ہزار تئیس تک انھیں نکلانے کے بعد ان کی تعداد اب بھی چار ہزار سے اوپر ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ غزہ میں کسی بھی مقام پر اسرائیل کی فوجی اور پولیس کا زور ہوتا ہے، جہاں ایک پچیس میٹر کی دوری پر سے اپنی فوج کو اس مقام کی جانب بھیجا جاتا ہے۔
وہ مریضوں اور زخمیوں جو اب غزہ میں ہیں انھیں ایسے وزراء اور وزیراعظم کے سامنے بھیجا جاتا ہے جن کی سائیکلوں پر ان کے گھر کا ملاپ کرکے اور ان کے دوڑوں میں ہاتھ دھونے کا زور دیا جاتا ہے، نہ تو انھیں ایسے مقام پر رہنے کی اجازت ملی اور نہ ہی انھیں وہیں سے باہر جانے کا موقع دیا گیا۔
غزہ میں اسرائیل کی فوجی موجودگی سے غزہ کے طبائی مراکز پر حملوں نے انھیں ایک نئے مقام پر لٹکایا ہے جہاں انھیں اپنی زندگی بھی گزاریں گی اور اس شہر کو ایسا بنایا گیا ہے جو ایک پریشانی کا مقام ہے۔
غزہ میں اسرائیل کی فوج کی موجودگی نے ایک یہ بات کو یقینی بنا دیا ہے کہ یہاں کے مریض اور زخمیوں کو باہر جانے کی اجازت نہ مل سکتی ہے، جس کی وجہ سے انھیں ایک بھوت پریشانی میں پھنسا ہوا ہے جہاں یہ نہیں کہیں سے باہر جانا اور نہیں ہی کسی فوجی کینٹر میں داخل ہونا۔
غزہ کی موجودگی میں ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں جو انسانیت کا شعبہ نہیں بلکہ بھوت پریشانی کے شعبہ سے زیادہ متعلق ہیں، یہاں کے لوگ ایسے حالات کا سامنا کر رہے ہیں جو انسانوں کی زندگی کو لاحق ہوتے ہیں، یہاں کوئی بھی ایک گھر سے نکل سکتا ہے لیکن وہ اس مقام پر پھنس جاتا ہے جہاں اس کا گھر بنایا جا رہا ہے۔
غزہ میں اسرائیل کی فوجی موجودگی کو انسانیت کا شعبہ نہیں بلکہ ایسا دھبہ سمجھنا چاہئے جس سے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کی صورتحال اس طرح بنتی ہے جو زندگی سے دور ہوتی ہے۔
غزہ میں اسرائیل کی فوجی موجودگی نے ایک یہ بات کو یقینی بنا دیا ہے کہ انھیں ایسے مقام پر رہنے کی اجازت نہ مل سکتی ہے جہاں وہ اپنی زندگی گزاریں اور اس کو ایک پریشانی کے مقام بنانے میں ملوث ہیں، یہاں کوئی بھی گھر سے نکل سکتا ہے لیکن وہ اس مقام پر پھنس جاتا ہے جو انسانوں کی زندگی کو لاحق ہوتے ہیں۔