ججوں کو قانون کی حکمرانی کیلئے کھڑے ہونا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل | Express News

قلمکار

Well-known member
سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے اپنے خطاب میں ججوں کو قانون کی حکمرانی کے لیے کھڑا ہونا چاہیے، اس سے پہلے ایک شخص کے ذاتی مفادات کو دیکھتے ہوئے فیصلے کرنا نہیں چاہیے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ججینہیں کسی دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کرنا چاہئیں، اور انہیں صرف آئین کو بالادست قرار دینا چاہیے۔ جسٹس جمال مندوخیل کا مشورہ ہے کہ جج بھی اپنی تمام توانائیاں سائلین کو انصاف کی فراہمی کے لیے صرف کرنی چاہیں۔

آئین اور قانون کے مطابق فیصلے بنانے سے ججوں کو خود کو معترف کرنے میں مدد ملتی ہے، اور یہ فیصلے اس وقت ضروری ہوتے ہیں جب لوگ اپنی حقوق کی مرواضع کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل کے مشورے سے ججوں میں ایک نئی اور بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ ہوتا ہے، اور یہ تبدیلی انصاف کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہو گی۔
 
سپریم کورٹ میں یہ بات تو چلچلت نہیں ہوسکتی، جسٹس جمال مندوخیل کی آواز سنی جاتی ہے۔ وہ سب کو یاد دلاتا ہے کہ قانون کی حکمرانی کے لیے بے حد اہم ہے، اور اس میں فیصلے بنانے کے دوران کسی کی ذاتی رائے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

جسٹس مندوخیل اپنے مشورے سے یہ اشارہ کرتے ہیں کہ ججوں کو اپنی صلاحیتوں کو صرف انصاف کی فراہمی کے لیے استعمال کرنا چاہیے، اور اس کے علاوہ کسی دباؤ میڹنہ کرنا نہیڪی۔ یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے لیکن وہ یہ بتاتے ہیں کہ یہی طریقہ ہمیں انصاف کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
 
بہت ہی اچھا خیال ہے کہ جسٹس جمال مندوخیل نے سپریم کورٹ میں ایک اہم بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ قانون کی حکمرانی کے لیے ججوں کو کھڑا ہونا چاہیے اور انہیں اپنے ذاتی مفادات کو دیکھتے ہوئے فیصلے نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ایک بڑا سا پیغام ہے کہ جج بھی اپنی تمام توانائیاں انصاف کی فراہمی کے لیے صرف کرنی چاہیں اور انہیں صرف آئین کو بالادست قرار دینا چاہیے۔

میری رाय میں یہ بات بہت اچھی ہے کہ جج بھی اپنی صلاحیتوں کو سیلین (سول) کی انصاف کی فراہمی کے لیے صرف کرنی چاہیں اور اس سے لوگ اپنے حقوق کی مرواضع کو سمجھ سکیں گے۔ یہ فیصلے ایسے وقت ضروری ہوتے ہیں جب لوگ اپنی حقوق کا ادراک کرنا چاہتے ہیں اور وہ فیصلے اس کی بنیاد پر ہو سکیں گے۔

اس نئی تبدیلی کے بعد ججوں میں ایک نئی صورتحال پیدا ہوگی جہاں قانون کی حکمرانی ایسے فیصلے سے تیزاب ہوگی جو انصاف کو برقرار رکھیں گے۔
 
جسٹس جمال مندوخیل کی بات سے میرا دل اچھا لگتا ہے 🤩 انھوں نے کہا ہے کہ ججوں کو قانون کی حکمرانی کرنی چاہیے، یعنی انسaf ki tarha koi bhi faisala apne personal interests nahi karke karna chahiye. jaise jab bhi court mein dabaav nahi aati to iska matlab yeh hai ki jisse insaf ko dilasna chahiye.

یہ ek achcha message hai, kyonki law and constitution ke according faisale banana ہی ek sahi tarah hai jo logon ko samajhne mein madad karti hai 🤝
 
تجربہ سے ہمیشہ بتاتا ہے کہ جس لوگ اپنی نجی غاروں پر انحصار کرنے لگتے ہیں، وہ دوسروں کے لیے معقول نہیں رہتے
 
🤔 جسٹس جمال مندوخیل کا مشورہ ایسی صورتحال میں بہت اچھی ہے جو پورے ملک میں موجود ہے۔ اس لئے کہ جسٹس نے کہا ہے کہ ایک شخص کے ذاتی مفادات کو دیکھتے ہوئے فیصلے نہیں کرنا چاہیے، یہ سچ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کا مشورہ بہت اچھا ہے۔

جب ججینہوں نے ایک دباؤ میں آ کر فیصلے کیے تو وہی تباہ ہوئے، اس لئے کہ انہوں نے اپنی ذاتی مفادات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا اور یہ بدنتھوا ہوا۔ لیکن جب کسی جج نے اپنے ذاتی مفاد کو دیکھنا بند کر دیا تو وہی بنے رہتے۔
 
اس جسٹس کا خیال ہے کہ ایک شخص کے ذاتی مفادات کو دیکھتے ہوئے فیصلے کرنا یہی نہیں ہے، بلکہ قانون کی حکمرانی کا تعین کرنا چاہئیے۔ اس کی بے پناہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے صرف کرے اور کبھی بھی دباؤ میں نہیں آکر فیصلے نہیں کرتے۔ 🙏
 
سپریم کورٹ میں ایسا بھی ہونا چاہئیے کہ جج اپنی فیکٹری نہیں بنتے، لेकن یہ سچ ہے کہ وہ آپسی مدد کرتے ہیں؟ آئین اور قانون کی حقیقت کو سمجھنا بھی ضروری ہے، لیکن اس میں سہولت نہیں، آپسی مدد ہی اس کو ممکن بناتی ہے।
 
واپس
Top