سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے اپنے خطاب میں ججوں کو قانون کی حکمرانی کے لیے کھڑا ہونا چاہیے، اس سے پہلے ایک شخص کے ذاتی مفادات کو دیکھتے ہوئے فیصلے کرنا نہیں چاہیے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ججینہیں کسی دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کرنا چاہئیں، اور انہیں صرف آئین کو بالادست قرار دینا چاہیے۔ جسٹس جمال مندوخیل کا مشورہ ہے کہ جج بھی اپنی تمام توانائیاں سائلین کو انصاف کی فراہمی کے لیے صرف کرنی چاہیں۔
آئین اور قانون کے مطابق فیصلے بنانے سے ججوں کو خود کو معترف کرنے میں مدد ملتی ہے، اور یہ فیصلے اس وقت ضروری ہوتے ہیں جب لوگ اپنی حقوق کی مرواضع کو سمجھنا چاہتے ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل کے مشورے سے ججوں میں ایک نئی اور بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ ہوتا ہے، اور یہ تبدیلی انصاف کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہو گی۔
انہوں نے کہا ہے کہ ججینہیں کسی دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کرنا چاہئیں، اور انہیں صرف آئین کو بالادست قرار دینا چاہیے۔ جسٹس جمال مندوخیل کا مشورہ ہے کہ جج بھی اپنی تمام توانائیاں سائلین کو انصاف کی فراہمی کے لیے صرف کرنی چاہیں۔
آئین اور قانون کے مطابق فیصلے بنانے سے ججوں کو خود کو معترف کرنے میں مدد ملتی ہے، اور یہ فیصلے اس وقت ضروری ہوتے ہیں جب لوگ اپنی حقوق کی مرواضع کو سمجھنا چاہتے ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل کے مشورے سے ججوں میں ایک نئی اور بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ ہوتا ہے، اور یہ تبدیلی انصاف کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہو گی۔