امریکی صدر کا غزہ پر قبضہ کرنے سے منسلک ہے اور اس معاملے میں اب وہ اپنی دھی نہیں بھیج سکتی ۔ ہمیشہ کا یہ رویہ ان کے لئے مناسب بھی بنتا رہا ہے، ایسا وہ اپنے ملک کی مہارتوں پر یقین رکھتے ہیں اور اس لئے انہیں ہمیشہ سے یہ خیال تھا کہ وہ دنیا میں کسی بھی چیز کو کبھار کر سکتے ہیں اور دوسروں کی باتوں پر نہیں ٹھرکے اس لیے اب ان کا یہ رویہ کہ وہ دنیا جیتنا چاہتے ہیں، خواتین بھی اسی طرح سے جیتنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن ان کی دلی لگتی نہیں کیوں کہ وہ اچھا نہیں بنتے۔
امریکا کے ساتھ ساتھ اس کے اسکول میں بھی ایسا ہی رویہ پڑتا ہے جیسا وہ دنیا کی سرزمین پر اپنا قبضہ قائم کرنے کے لئے اٹھاتا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی وہاں میں بھی ایسی صورتحال پائی گئی جس کی وجہ سے لوگ امریکی اسکولوں میں نہیں جاتے لیکن وہاں بھی ان کے لئے ایک اور قید بن چکی ہے۔
امریکا کی پالیسیوں میں ان کا پہلے سے ہی ایسا رویہ رہا ہے کہ وہ کسی بھی ملک پر قبضہ کرنے کے لئے اس کو کبھار دیتے ہیں اور ایسا یقین رکھتے ہیں کہ وہ اسے اپنا قبضہ بنا دیں گے لیکن وہ اچھا نہیں بنتے، وہ لوگ جسمانی طور پر قوت پر ہیں مگر دلا کو کبھار کیا جا سکتا ہے اس لئے ان کی پالیسیوں میں بھی ایسا ہی رویہ رہا ہے جیسا وہ دنیا میں اپنا قبضہ قائم کرنے کے لئے اٹھاتے رہتے ہیں اور ان کی پالیسیوں کے نتیجے میں بھی ایسا ہی نتیجہ ملتا ہے جیسا وہ دنیا میں اپنا قبضہ قائم کرنے کے لئے اٹھاتے رہتے ہیں
امریکا کی پالیسیوں میں ایسے ہی نتیجے آ رہے ہیں جیسے وہ دنیا جیت کر نہیں آئیں گی، وہ صرف دنیا کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اپنے قبضہ کے لئے اسے قبول کرائیں گے لیکن یہ قیادت ان کے لئے ایک بھارپور ناکامی ہو گی۔
امریکا کی غزہ پر قبضہ میں اس کے نتیجے میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی دھی بھی نہیں بھج سکتی، جس کی توجہ ضرور دی جائے تھی اور اس کی وجہ سے وہ دنیا میں ایسا ہی رویہ رکھتا رہا ہے کہ وہ دنیا کو کبھار کرنا چाहतا ہے لیکن وہ اچھا نہیں بن سکتا، اسی طرح اس کے اسکول میں بھی ایسا ہی رویہ پڑتا ہے۔
امریکا کی غزہ پر قبضہ میں دلچسپی ہونے سے پہلے ان کا یہ رویہ دیکھنا انھیں ہمیں بھی ایک لاکھ روپئے دے گا۔ وہ لوگ جو دنیا کو ختم کرنا چاہتے ہیں، اس کے لئے وہ سب کچھ اپنے قبضہ میں بکھیر دیتے رہتے ہیں اور ابھی تو وہ خواتین کو بھی جीतنے کی کوشش کر رہی ہیں مگر ان کی دلی لگتی نہیں کیوں کہ وہاں سے بھی ایسا ہی رویہ پڑتا ہے جو دنیا جیتنے کے لئے اٹھاتے رہتے ہیں
امریکا کی اسکولوں میں بھی ایسا ہی رویہ پڑتا ہے جیسا وہ دنیا کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور ابھی تو وہ لوگ اسکولوں میں بھی ایسا ہی رویہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کو دنیا کو ختم کرنا چاہیے۔
امریکا کی پالیسیوں میں ایسا روایہ رہا ہے جیسا وہ دنیا کو اپنے قبضہ میں لانا چاہتے ہیں اور ان کی پالیسیوں کے نتیجے میں بھی یہی صورتحال سامنے آ رہی ہے۔ وہ لڑائیوں میں ہیں جبکہ دوسروں کے ساتھ صلح کرنا اس کی کوشش نہیں کرتی لیکن ان کی پالیسیوں کے نتیجے میں بھی ایسا ہی نتیجہ ملتا ہے۔ ہمیشہ کا یہ رویہ بھرپور ناکامی کی طرف لے جاتا ہے۔
اس معاملے کی وضاحت تو کیا چاہتے ہیں، ان لوگوں کو یہ کبھی پٹنا نہیں ہوا کہ اب وہ ایک بار بھی اپنے آپ کو قبضہ میں رکھنا چاہتے ہیں، یہ تو خوفناک بات ہے کہ ان کی پالیسیوں سے دنیا کو کیا وعدہ کیا جاسکتا ہے؟
یہ تین ہزار سال پرانا رہसیمہ ہے! کبھر کرنے کی کوشش سے دنیا کو ختم کرنا اس گروپ کا مقصد نہیں ہوگا، یہ ان کی بہترین پالیسی ہوگی؟ وہ صرف اپنے قبضہ اور ذاتی مفادات کے لئے دنیا کو ختم کرنا چاہتے ہیں مگر اس سے ان کے لیے کیا فائدہ ہوگا؟
امریکا کی پالیسیوں میں اس قدر ایسا رویہ رہا ہے جیسے وہ دنیا کو اپنے قبضہ کے لئے اٹھانے والے سارے لوگوں کی سی ہو گی، انہیں سب کو ایک دوسرے پر قبضہ کرنا پڑتا ہے تاکہ وہ دنیا میں اپنے قadir کا مظاہر ہو سکیں اور ابھی ان کی پالیسیوں کا نتیجہ بھی ایسا ہی رہے گا جیسا ان کو ملتا تھا ۔
امریکا کی پالیسیوں میں ایسا رویہ رہا ہے کہ وہ دنیا کو ایک بڑے جادو گھر کے طور پر دیکھتے ہیں اور ان کی اقدار میں سے ہر ایک کو اپنا قبضہ کرنے کے لئے اٹھاتے رہتے ہیں...
امریکا کی پالیسیوں کا انفرادی حصہ بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ وہ دنیا کو اپنا قبضہ قائم کرنے کے لئے اٹھاتے رہتے ہیں لیکن وہ ایک دوسرے کو جواب دینے کے لئے کبھی نہیں اچھی طرح سے سوچتے...
امریکا کی پالیسیوں میں یہ اچھا نہیں ہے کہ وہ دنیا کو ایک جادوی کے طور پر دیکھتے ہیں اور اسے اپنا قبضہ کرنے کے لئے اٹھاتے رہتے ہیں...
امریکا کی پالیسیوں میں ایسے نتیجے آ رہے ہیں جیسے وہ دنیا کو اس قدر ختم کر دیں گی کہ وہ اچھی طرح سے نہیں بن سکتی...
امریکا کی پالیسیوں میں ایسا رویہ رہا ہے جیسے وہ دنیا کو اپنا قبضہ بنا دیں گے لیکن یہ وہی قیادت ہے جو ان کی ناکامی کا باعث بنے گی
ایسا بھی لگتا ہے کہ اچھے نہیں بننے والوں کو دنیا میں جیتنا ضروری نہیں بلکہ اس کو قبول کرنا چاہیے
انہوں نے ایسے ہی ساتھ ساتھ کیا تھا جیسا وہ دنیا کی سرزمین پر اپنا قبضہ قائم کرنے کے لئے اٹھاتا رہا ہے، اور اب یہاں تک پہنچا ہے کہ دنیا کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اپنے قبضہ کے لئے اسے قبول کرائیں گے لیکن یہ ناکامی کی پھوٹ جاری ہے
ایسا بھی دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنے ملک میں اچھائی کے لئے کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن وہاں بھی ایسا ہی رویہ رہا ہے جیسا ان کے ملک کی مہارتوں پر وہ اچھی طرح یقین رکھتے ہیں
امریکی صدر کا غزہ پر قبضہ کرنے سے منسلک ہونا وہی راز ہے کہ اس کی سیاست میں ایسا ہی رویہ رہا ہے جیسا وہ دنیا کو اپنا قبضہ بنا دیتا ہے اور اس لئے اب وہ اپنی پوری زندگی کھیل کر نہیں سکتی۔
ماں بننے کی نظر سے، یہ راز تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا انٹرنیشنل اسکول بھی ایسا ہی ہے جیسا وہ دنیا کو اپنا قبضہ بنا کر چاہتا ہے اور لگتا ہے کہ وہاں میں بھی ان کی politics ki tarah hi padtha hai.
امریکا کی صدر کا غزہ پر قبضہ کرنا وہی نہیں ہے جو لوگ سوچتے ہیں، وہ اسی دنیا کو ختم کرنا چاہتے ہیں جسے اب وہ دنیا کا سب سے بڑا اور طاقتور ملک سمجھتے ہیں اور اس لیے وہ اپنے قبضہ کو قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر اس میں انہیں اچھائی نہیں مل سکیگی।
امریکی اسکولوں میں بھی ایسا ہی رویہ رہتا ہے جیسا وہ دنیا کو ختم کرنا چاہتے ہیں، وہ اپنی طاقت کو سب کی طاقت سمجھتے ہیں اور اس لیے ان کا خیال رہتا ہے کہ وہ دنیا میں اپنا قبضہ قائم کر سکتے ہیں، مگر یہ طاقت دنیا کو ختم نہیں کر سکتی، اس لیے وہ اچھائی بھی نہیں بنتے اور ان کی پالیسیوڤوں میں بھی ایسا ہی رویہ رہتا ہے جیسا وہ دنیا کو ختم کرنا چاہتے ہیں
اس کا خیال تھا کہ وہ دنیا کو اپنا قبضہ کرنے کے لئے اٹھاتے رہتے ہیں لیکن اب یہ سچ تھا کہ وہ اسے حاصل نہیں کر سکتی۔
امریکا کی پالیسیوں میں ایسا رویہ رہا ہے جیسا وہ دنیا کو اپنا قبضہ بنا دیتے ہیں مگر ان کی اچھائی کون تھی؟ ان کی پالیسیوں نے کبھار کیا ہوا ہے؟
اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ دنیا کو اپنا قبضہ کرنے کے لئے ہر پلی کو اپنی تائید پر لے رہے ہو یا ان کی سزا بھی نہیں ملتی ہے بلکہ دنیا کو ایسی صورتحال میں مبتلا کرائیں جو ان کے لئے فائدہ دے سکے۔
امریکی صدر کی غزہ پر قبضہ کرنے کی آگہی سے قبل میں کیا یہ کوئی نئی بات نہیں تھی؟ ان کی اس پالیسی سے قبل بھی ہمیشہ دنیا پر قبضہ کرنے کی آگہی دکھائی دیتے آ رہے ہیں، اب وہ اپنی غلطیوں کا بھار بھگای نہیں سکتے اور اس معاملے میں وہ اپنی دھی بھیج نہیں سکتیں، ان کی پالیسیوں کا ایک ہی روپہ چل رہا ہے اور اب یہ غلطی بھی ایک بار میں نہیں ٹھر سکتی۔
میری رाय وہ اس معاملے کو حل کرنے کے لئے اپنی پالیسیوڰں بدلنا چاہتے ہیں یا اس پر قبضہ کرنا جاری رکھتے ہیں، یہ بات واضع ہے کہ دنیا میں ایسا کوئی ملک نہیں جو اپنی دھی بھیج سکتا اور اس معاملے میں ان کی غلطیوڰں کو سمجھنا بھی یقین رکھنے کے لئے ایک ہی ہم آہنگی کی ضرورت ہے، اگر وہ اپنی پالیسیوں میں بدلाव لاگے تو آسانی سے اس معاملے کو حل کیا جاسکتا تھا۔
امریکی صدر کی دھی بھی تو نہیں بھج سکتی! وہ دنیا کو کبھار کرنا چاہتے ہیں اور اپنے قبضہ کے لئے اسے قبول کرائیں گے، لیکن یہ رویہ کیسے کام کرتا ہے؟ وہ دنیا کی سرزمین پر اپنا قبضہ قائم کرنے کے لئے اٹھاتا رہا ہے اور اب وہ اپنی پالیسیوں کے نتیجے میں ایسا ہی نتیجہ دیکھنا ہوتا ہے جیسا وہ دنیا کو قبضہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں!
امریکا کی پالیسیوں میں کچھ ایسا ہوا ہے جیسا اس کی قائم کردہ اسکولوں میں بھی ایسا رویہ رہا ہے جو دنیا کو ختم کرنے کے لئے اٹھاتے رہتے ہیں۔ یہ دیکھنا مشکل ہوتا ہے، لیکن وہ اس کی پالیسیوں سے محفوظ نہیں تھے، وہ اپنی دھی بھی نہیں بھج سکتی ۔ اور وہاں میں ایک بات یقینی ہے کہ ان کی پالیسیوں سے دنیا کو ختم کرنا آسان نہیں ہوا گیا ۔
امریکا کی پالیسیوں سے خوفزدہ ہونے والے لوگ تو ہیں ، ان کا اس طرح کا رویہ دنیا کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اب وہ غزہ پر قبضہ کرنے سے منسلک ہو گئے ہیں، یہ ان کے لئے ایک بھارپور ناکامی ہو گی
امریکی صدر کو غزہ پر قبضہ کرنے سے منسلک ہونے کی صورت حال میں، وہ اپنی دھی بھی نہیں بھج سکتی اور اس معاملے کا حل کسی کو سمجھائی نہیں دے گا۔ دنیا میں اس جیسے رویے سے ہاتھ دھونے والا نہیں ہوتا اور یہ پالیسیاں ایسے ملکوں کو ملازمت پر چھوڑ کر رہی ہیں جو ان کی دلی لگتی ہیں۔
امریکا کے اسکولوں میں بھی یہی رویہ پڑتا ہے، وہ دنیا کی سرزمین پر اپنا قبضہ قائم کرنے کے لئے اٹھاتے رہتے ہیں اور اس میں بھی لوگ نہیں جاتے کیونکہ وہاں بھی ایک اور قید بن چکی ہے جو انھیں اپنے قبضہ کے لئے قبول کرائیں گے۔
امریکا کی پالیسیوں میں سے ایسا ہی رویہ رہا ہے جیسا وہ دنیا کو اپنا قبضہ بنا کر چاہتے ہیں لیکن ان کی یہ پالیسیوں کے نتیجے میں دنیا کے لوگ اسے قبول کرائیں گے تاہم وہ اپنی پالیسیوں کا نتیجہ جانتے ہوئے بھی ایسا ہی رویہ دیکھتے رہیں گے جو دنیا کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اپنے قبضہ کے لئے اسے قبول کرائیں گے۔