جنید اکبر سمیت پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کا لاہور کے خفیہ دورے کا انکشاف | Express News

الو

Well-known member
پاکستان تحریک انصاف کی نائب محترمی جنید اکبر اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے لاہور میں خفیہ دورہ کیا ہے جس پر انکشاف ہوا ہے۔ ان دونوں رہنماؤں نے سلمان حسیب چوہدری کی بیٹی کی شادی میں ملاقات کی اور وہ دو سال قبل تک پی ٹی آئی میں شامل تھے لیکن علیم خان سے تعلقات خراب ہونے کے بعد انہوں نے علیم خان گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی۔

علاوہ ازیں ان دونوں رہنماوं نے لاہور میں مختلف مقامات پر ملاقاتیں کیں اور اس دورے کا استقبال سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے کیا تھا۔ تاہم، پی ٹی آئی کے مقامی قیادت کو اس دورے سے متعلق کوئی اطلاع نہیں دی گئی اور انہیں بلایا نہیں گیا تھا۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی بھی 9، 10 اور 11 دسمبر کو لاہور آئیں گے جو تحریک چلانے کی وجہ سے تھے۔ ان کے دورے کا مقصد وہی تھا جس کے لیے انہوں نے اپنے پورے دورے میں ملاقات کرائی ہیں۔
 
بزور عجیبیت، ان رہنماؤں نے لاہور میں شادی کا تقابلہ سلمان حسیب چوہدری کی بیٹی کے ساتھ کر دیا اور وہ دو سال قبل ٹی پی آئی سے باہر تھیں ۔ لگتا ہے ان رہنماؤں کو اس دورے میں یہ بات بنانے کی ضرورت نہیں کہ وہ کبھی ٹی پی آئی میں شامل تھے۔
 
ابھی لاہور میں دو سے تین دن گزر گئے ہیں اور اس لاکھ روپے کے معاملے میں اب بھی کوئی نتیجہ نہیں آگیا ۔ دیکھو وہ کیسے ایسے رہنماؤں کی طرف ہٹ گئے ہوتے ہیں جو دو سال قبل ٹیوٹر پر چل رہے تھے اور اب وہ پارلیمنٹ کے صدر بھی بن گئے ہیں ۔ کیا اس نے دیکھا ہوگا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو دو سال کی دیر سے چلوڈیں ہیں اور وہ ابھی بھی پچاس کی دوسرے میں تھے؟
 
اس دورے کی کچھ اچھی لگ رہی ہے، جنید اکبر اور اسد قیصر نے ایسے مقامات پر ملاقات کی جو سب کو دل چکایا گیا ہو، لیکن پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے کچھ بات نہیں ہوئی، یہ تو بے پینا ہے... 🙄

سلمان حسیب چوہدری کی بیٹی کی شادی میں ان دونوں رہنماؤں نے ملاقات کی تھی اور وہ دو سال قبل تک پی ٹی آئی میں شامل تھے، لیکن علیم خان سے تعلقات خراب ہونے کے بعد انہوں نے علیم خان گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی... یہ لگتا ہے کہ ان دونوں رہنماؤں کو اس بات سے پتہ نہیں چلا ہے کہ وہ کس مقام پر کون سے لوگوں سے ملاقات کر رہے ہیں...

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی بھی لاہور آئے گے، ان کے دورے کا مقصد وہی تھا جس کے لیے انہوں نے اپنے پورے دورے میں ملاقات کرائی ہیں... یہ لگتا ہے کہ اس دورے سے کچھ فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں... 💡
 
اس دورے کی بہت سارے सवाल ہیں... جنید اکبر اور اسد قیصر کا کیا مقصد تھا کہ وہ دو سال قبل پی ٹی آئی سے باہر ہو گئے تھے? وہ کیسے ان علیم خان گروپ سے تعلقات قائم کر سکے؟ اور لاہور میں سارے مقامات پر ملاقات کیں? یہ سب کوئی نہیں جانتا... 🤔
 
اس دورے سے متعلق معلومات اچھی نہیں دکھائی گئیں... ان رہنماؤں نے ایسے مقامات پر ملاقات کی جہاں پی ٹی آئی کے مقامی قیادت کو بھی اپنے دورے سے بتایا نہیں گیا... لگتا ہے انہوں نے اپنی سیاسی مخالفینوں کے ساتھ ملاقات کی ہوں... یہ وہ وقت ہے جب سارے رہنماؤں کو ایک دوسرے کے استقبال پر بیٹھنا چاہیے... لطیف کھوسہ نے بھی اس دورے کا استقبال کیا ہے اور اب یہ محض یہ بات ہے کہ پانی پی لیں یا پانی ختم کیے جائیں...
 
پاکستان میں اب ایسی صورتحال ہر وقت پیدا ہوتی رہتی ہے کہ لوگ پتا نہیں کہ کون اور کب کیا کروغا۔ لازمی سوال یہ ہوتا ہے کہ ان تمام ملاقاتوں میں کیوں شامل ہوا کر رہے ہیں؟ آپ کو لگتی ہے نا کہ یہ سارے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بچپن میں دوست ہیں اور ان کی تعلقات دیر سے ہی جڑی ہوئی ہیں؟

لیکن اگر آپ کا درنگ نہیں تو اس بات کو بھی یقین رکھیں کہ کچھ نئے بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اور یہاں سلمان حسیب چوہدری کی شادی میں شامل ہونے کا کچھ راز بھی نکل گا جس سے آپ کو اپنی واقفیت حاصل ہو سکتی ہے۔
 
اس دورے کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ جنید اکبر کو اس دوران ایک ایسا مقام ملا جس پر انہوں نے دوسرے لوگوں کے ساتھ لڑائی کی تھی اور وہ پوری لڑائی ہار گئے تھے... کیا یہ ایک ایسا مقام ہے جس پر انہوں نے اپنی جیت کو محسوس کیا؟ 😂

اور اس میں بھی پٹی چلنے والوں کی فہرست مفت لگ رہی ہے... سلمان حسیب چوہدری، علیم خان، لطیف کھوسہ... یہ سب ایک دوسرے سے مل کر ہیں... 🤦‍♂️
 
اس دورے کی گنجائش بہت زیادہ تھی ،لیکن کچھ لوگ اسے ان دونوں رہنماں کے خوف سے کہتے ہیں جو اس وقت پی ٹی آئی میں شامل ہونے کا دباؤ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں ،اس دورے سے قبل ان دونوں نے بہت سی ملاقات کیں اور وہ دو سال قبل تک پی ٹی آئی میں شامل تھے لیکن علیم خان سے تعلقات خراب ہونے کے بعد انہوں نے علیم خان گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی،اس دورے سے پہلے بھی ان دونوں نے کچھ مقامات پر ملاقات کی اور وہاں سے کچھ نئی باتें سامنے آئیں ہیں
 
اس دورے کی مندرجہ ذیل بات پر توجہ دیتا ہوں کہ یہ ایک حقیقی شاندار معاملہ ہے، جنید اکبر اور اسد قیصر نے ان تمام مقامات کی ملاقات کی جو وہیں تھے اور پوری طرح سمجھتے ہیں۔ اس دورے کا مقصد ان دونوں رہنماؤں کو ایسے لوگوں سے ملاقات کرنے کے لیے تھا جو وہیں رہتے ہیں اور ان سے اپنی رائے بھی سنتی ہیں۔
 
ابھی اس بات کی ٹیسٹ کر رہے تھے کہ جس رہنما کا ایک دورہ ہوتا ہے اس کے بعد کچھ کہا جاتا ہے اور ابھی یہ دورہ ہو گیا تو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی مگر وہیں بھی ۔ اگر سلمان حسیب چوہدری کا بیٹا ایسا رہا ہوتا تو کیا انہیں دورے کرنے کی जरورت تھی؟ اور یہ دونوں اسد قیصر اور جنید اکبر کا کیا کام ہے کہ وہ 2 سال قبل سے پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے ملازمت پر یہ دورے کریں؟ نہ صرف اس دورے کا مقصد یہ بتانے کی ضرورت تھی کہ انہوں نے اس گروپ میں شمولیت اختیار کی ہے یا نہیں اور نہیں اس کے ساتھ رشتہ بھی بتانے کی ضرورت تھی! 🤔
 
اس لئے کہ سلمان حسیب چوہدری کی بیٹی کی شادی میں جنید اکبر اور اسد قیصر نے ملاقات کی، یہ ایک نئی بات ہے یا نہیں؟ دو سال قبل انہیں پی ٹی آئی میں شامل ہونے کا موقع تھا لیکن علیم خان سے تعلقات خراب ہونے کے بعد وہAliam Khan group میں شمولیت اختیار کی تھی، اب وہ اسد قیصر کی بیٹی شادی میں اے سے مل رہے ہیں تو کیا یہ پی ٹی آئی کی ناکام پالیسی کی کوئی نئی شکل نہیں؟
 
عجीब دیکھنا ہی بے حد چیلنجنگ ہے کہ اس وقت انساف کی رہنماؤں نے تین سالوں سے پی ٹی آئی میں شامل ہونے والا شخص علیم خان سے ملاقات کرلی اور اب وہ اس کے گروپ میں شمولیت اختیار کی ہوئی ہے۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ ان رہنماؤں نے سابق اسپیکر پیدائش سے دو سال قبل پتہ لگانا شروع کیا تھا اور اب وہ اس گروپ میں شامل ہوئی ہیں۔ یہ ملاقات بھی ان کے ایک معرکلی دورے کی پہلنی ہے جس کے لیے انہوں نے مختلف مقامات پر ملاقاتیں کی ہیں اور جس کا مقصد تحریک چلانے کی وجہ سے تھا۔
 
واپس
Top