جنگِ عظیم اوّل کی یادگار سے متعلق ایک بار پھر گمراہ کن خبریں پھیلائی گئی ہیں جس میں ان کے مطابق یہ کہا گیا ہے کہ یہ یادگار مسمار نہیں دی گئی بلکہ محفوظ بنانے کے لیے منتقل کی جارہی ہے۔
حالیہ دنوں سے لوگ اس یادगर کی مناقشہ میں تھے اور کہتے رہے تھے کہ یہ یادگار مسمار نہیں دی گئی لیکن آج یہ واضح ہوچکا ہے کہ اسے محفوظ بنانے کے لیے منتقل کیا جارہا ہے۔
اتھارٹی نے بیان کیا ہے کہ یادگار کو ایک زیادہ موزوں، محفوظ اور عوام کی رسائی والی جگہ پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ تاریخی ورثے کا تحفظ اور طویل مدتی دیکھ بھال کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس عمل میں تحفظ کے دائرے میں آنے کے بجائے انہدام کے دائرے میں آتا ہے۔
واضح ہوتا ہے کہ یہ Yadgar کو اس وقت پر ایک زیادہ موزوں مقام پر منتقل کیا جائے گا جو عوامی احترام سے بنایا گیا ہے۔ اس یادगर کی حالت وقت کے ساتھ خراب ہوچکی تھی اور اس لیے اسے محفوظ بنانے کے لیے منتقلی ضروری تھی۔
سی ڈی اے نے بیان کیا ہے کہ یہ Yadgar مسمار کیے جانے کا دعوہ حقائق کے خلاف ہے اور یہ صرف ذمہ دارانہ تحفظ اور تاریخی ورثے کے تحفظ کا عمل ہے۔
اتھارٹی نے اس سلسلے میں بھی بیان کیا ہے کہ خبر شائع کرنے سے پہلے حقائق کی تصدیق کی جائے اور بغیر تحقیق سنسنی خیز اور گمراہ کن دعوے نشر کرنا غیر ذمہ دارانہ صحافت کے زمرے میں آتا ہے۔
حالیہ دنوں سے لوگ اس یادगर کی مناقشہ میں تھے اور کہتے رہے تھے کہ یہ یادگار مسمار نہیں دی گئی لیکن آج یہ واضح ہوچکا ہے کہ اسے محفوظ بنانے کے لیے منتقل کیا جارہا ہے۔
اتھارٹی نے بیان کیا ہے کہ یادگار کو ایک زیادہ موزوں، محفوظ اور عوام کی رسائی والی جگہ پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ تاریخی ورثے کا تحفظ اور طویل مدتی دیکھ بھال کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس عمل میں تحفظ کے دائرے میں آنے کے بجائے انہدام کے دائرے میں آتا ہے۔
واضح ہوتا ہے کہ یہ Yadgar کو اس وقت پر ایک زیادہ موزوں مقام پر منتقل کیا جائے گا جو عوامی احترام سے بنایا گیا ہے۔ اس یادगर کی حالت وقت کے ساتھ خراب ہوچکی تھی اور اس لیے اسے محفوظ بنانے کے لیے منتقلی ضروری تھی۔
سی ڈی اے نے بیان کیا ہے کہ یہ Yadgar مسمار کیے جانے کا دعوہ حقائق کے خلاف ہے اور یہ صرف ذمہ دارانہ تحفظ اور تاریخی ورثے کے تحفظ کا عمل ہے۔
اتھارٹی نے اس سلسلے میں بھی بیان کیا ہے کہ خبر شائع کرنے سے پہلے حقائق کی تصدیق کی جائے اور بغیر تحقیق سنسنی خیز اور گمراہ کن دعوے نشر کرنا غیر ذمہ دارانہ صحافت کے زمرے میں آتا ہے۔