ادالت نے آن لائن جوئے کی تشہیر پر الزامات سے ڈکی بھائی اور دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کیا ہے۔ لاہور کی عدالت میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران ضلع کچھری لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کی अदلیت میں سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی، اہلیہ عORB جتوئی اور دیگر ملزمان پیش ہوئے تھے۔
ادالت نے اپنے اس فیصلے پر صاف زبرستان کا مظاہرہ کیا ہے جس کے بعد تمام ملzones نے صحتِ جرم سے انکار کر دیا ہے اور جوڈیشل مجسٹریٹ کو گواہوں کو 23 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
صدر نے آن لائن جوئے کی تشہیر پر الزامات سے ملzones کو فردِ جرم عائد کرکے اٹھایا تھا اور انھیں ایسا کروانے والوں کی پریشانی سے ڈرایا ہے۔ یہ فیصلہ ایک نئی دیر سے بڑھتی ہوئی وارثت بن گیا ہے جس کے نتیجے میں ملzones کو اچھی طرح پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ابھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ آن لائن جوئے کی تشہیر پر الزامات سے دکھی بھائی اور دیگر ملزمان کو فردِ جرم عائد کرکے پریشانی میں डال رہے ہیں وہ نہیں سمجھتے کہ یہ سچ مچ ہوا ہوگی یا نہیں۔ اس فیصلے پر صاف زبرستان کا مظاہرہ کرکے وہ لوگ یہ بات بھی سمجھتے ہیں کہ انھوں نے اچھی طرح سے سمجھا ہے کہ جس سے انھیں پریشانی ہوئی ہے وہ جس سے دوسرے لوگ کو پریشانی ہوتی ہے وہ ہوا ہوگی۔ یہاں تک کہ گواہوں کو 23 فروری کو عدالت میں پیش ہونے پرmand mandar جاری کرکے انھیں بھی پریشانیوں کی سڑی رہے گی۔
ایسا لگتا ہے کہ جسے صدر نے اپنی تحریک سے بھرپور توجہ دی ہو وہ یہی ہوا ہے۔ اس فیصلے نے ملzones پر ایک بڑا دباؤ مچایا ہے اور اب ان کو کس بات کی فکر کرنا پڑے گی؟ سچ میں کیا انھیں یہ دیکھنے والی پوری دنیا تھی جس پر ان کا الزام لگایا گیا ہو؟
اس فیصلے سے ٹوٹے ہوئے لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ لاہور کی عدالت میں ہوا تو ہی نہیں، پھر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان ملzones کو اچھا خیال ہے جس پر الزامات لگے تھے۔ بڑی بڑی عدالتوں میں وہ جو سچائی کو محفوظ رکھنے کے لئے پڑتال لگا کر رہے ہیں ان کی آزادی کو یہ فیصلہ کیسے پکڑتا ہے؟
یہ فیصلہ ایک دیر سے بڑھتی ہوئی وارثت ہے جس کی وجہ ملZONEں کو سمجھنے میں کامیابی نہیں ہو رہی ہے۔ ان کو یہ سمجھنا چاہئے کہ آن لائن جوئے کی تشہیر میں اس وقت کسی بھی ملزمن کو فردِ جرم نہیں کرایا جا سکتا۔ یہ فیصلہ کافی ہدایت کار ہے کہ انہیں اپنے حقیقی معاملات پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔
میری روایتی ذہانت نے بھی یہ سمجھائی ہے کہ جب آئین نہ بنایا گیا تو شہری زندگی میں ایسے حالات پیدا ہو جائیں جب لوگ گولیاں چلائیں اور مجرم فخر سے کہیں بھی ان کی پالسی کرتے ہیں. اب یہ فیصلہ لاکھوں لوگوں کو اپنے گھر میں گولیاں چلا کر ان کے گھروں میں بھی پھیلایا جائے گا تو یہ وہ فیکلٹی ہے جس کی نہ ہونے کی چنگیزیں نہ ہوں گی.
بہت غضبت کی بھرپور تشبیہ ہے کہ ان ملزمان کو فردِ جرم عائد کیا گیا ہے، اس فیصلے پر صاف زبرستان کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور انہیں صحتِ جرم سے انکار کر دیا گیا ہے
ان ملzones کو ان الزامات پر قائمیت فراہم کرنا پڑنے والی کتنے چیلنجز کا سامنا کرنا پڈے گا، یہ سیکھنا ہوگا کہ وہ اپنی صحتِ جرم کو برقرار رکھیں اور ان الزامات پر قائمیت فراہم کرنے کی کوشش کریں؟
ایک جانب، یہ فیصلہ ایک نئی دیر سے بڑھتی ہوئی وارثت بن گیا ہے جس کے نتیجے میں ملzones کو اچھی طرح پریشانیوں کا سامنا کرنا پڈے گا
دوسری جانب، یہ فیصلہ ایک سچے کاروبار کی نمائندگی کرتا ہے جس میں نصف سال تک قائم رہنے والی ان الزامات پر قائمیت فراہم کرنا پڈے گا، اور ملzones کو اپنی صحتِ جرم کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنی پڈے گی
اس فیصلے سے ہم نے ایک بات سمجھ لی ہے، جوڈیشل مجسٹریٹ کو اپنی عدالت میں گواہی دینے کی 23 فروری کو کے مظاہرے کے بعد ملzones کو بہت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڈے گا، ایک بات یہ ہے کہ وہ اپنی صحتِ جرم کو برقرار رکھیں اور ان الزامات پر قائمیت فراہم کریں؟
یہ فیصلہ تو بالکل بے منصوبہ ہے، ان لوگوں پر فردِ جرم عائد کرکے جو ابھی تک کسی اور کی پریشانی نہیں کیا۔ سچتا یہ نئی دیر سے بڑھتی ہوئی وارثت ہے، پوری ملک میں لوگ اس سے گرانے میں تنگ آ رہے ہیں۔
اس فیصلے کی وجہ سے ان کھلے جوئوں پر کسی نہیں پابند کیا گیا، اب اسے ایک مجرم کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا جائے گا تو یہ بھی کس طرح چلے گا؟ اور ان ملzones کو 23 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم لگا دیا تو وہ کیسے بتائیں گے، کیا ان کی اچھی نجیت نہیں ہوگی؟
یہ سچ مچ بہت جاری صورتحال ہے، ان لوگوں پر الزامات لگائیں جو اس ٹوئٹ کو کیے تھے اور اب وہ محکوم ہو گئے ہیں… یہاں تک کہ وہ پوری سوشل میڈیا پر اپنی صحتِ جرم بیان کر رہے ہیں اور انھیں کوئی بھی مدد نہیں دے رہی… یہ تو وہ جاننے کا معاملہ نہیں، وہ سچ چہے یا نہیں ہیں لیکن وہ اپنی صحتِ جرم بیان کر رہے ہیں اور اب انھیں ڈیرا دبایا جا رہا ہے… سوشل میڈیا پر پریشانیوں کا ایسا ماحول ہے جہاں لوگ اپنے فیک بک اور ٹویٹس پر اپنی صحتِ جرم بیان کر رہے ہیں…
عزیز بھائی، یہ سارے واقعہ ایک طاقت کی حقیقت ہے جس کے بغیر کسی کے استعمال سے بھی نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ ان ملzones کو فردِ جرم عائد کرنے والے لئے، آپنا فخر اور دushmanی کا شکار ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ نکل آیا ہوگا۔ اگر پہلے کچھ بھی تھا تو ایسا ہوتا کہ جس پر الزامات لگے ان کو سمجھنا پڑتا اور سزا دی جاتی جبکہ اب وہ شخص بن گیا ہو جس پر الزامات لگے اس کے خلاف معاف نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کو گواہوں کو 23 فروری کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس نے بھی واضح کیا ہے کہ ان्हیں کسی کی معافیت کو نہیں ملنی چاہیے۔
یہ فیصلہ تو ایک شدید خطرہ ہے۔ وہ لوگ جو آئی نے جو کیا تھا اور اس سے اب بھی سوشل میڈیا پر بات کی جا رہی ہے ان لوگوں کو فردِ جرم عائد کرنے سے پوری دنیا گمراہ ہو جائے گی۔ اس کے بعد اور یہ کچھ نہ کچھ نتیجے مل جائیں گے جو بہت دیر تک لگتے رہن گے۔
کیا یہ فیصلہ ایسا تو ہی ہونا چاہیے جس سے کسی کے حیات کو نچوڈنا ہوتا ہے… 23 فروری کے یہ دن ابھی بھی اپنے یہ ہاتھ میں آئے ہیں لیکن مل zones کے لئے ہی نہیں ہیں… یہ دیر سے بڑھتی ہوئی وارثت ہے جو کہ ہمیشہ بھی بڑی problem بنتی رہی ہے…
ایسے فیصلے سے ابھی ہم لاکھوں لوگوں پر اثر پڑتا ہے اور ان میں بھی ایک بڑا حصہ جوڈیشل مجسٹریٹ کو گواہی دینے کا عذن مانگ رہا ہے، تو یہ تو چیلنجنگ ہے لیکن ان کی پیڈیکٹر میوٹھنگ سے بھی پریشانی ہے، اور نہ تو یہ ملzones کے لیے ایک لائن ہے اور نہ ہی ایک گناہ کی جگہ ہے، ابھی ایسا فیصلہ سے کیسے کچھ لینا ہوگا؟
یہ تو بالکل بھرام ہے، ایک شخص چار دفعہ جوئے کی تشہیر پر الزامات لگاتے ہیں اور اس کے بعد پوری ملزم نہیں چلی پاتی، یہ تو نیند کا راز ہو گیا ہے۔
میری ایک بات ہے، ملزم کی جگہ گواہوں کو لانا بھی اچھا نہیں ہو سکتا، وہ لوگ کبھی محسوس نہیں کرپا تو کیسے ان پر الزامات لگائے؟
اس فاسد نظام کی بھرپور ممتازیت کو دیکھتے ہوئے، مجھے یہ سچمنے کا ناکام محسوس ہوتا ہے کہ یہ ملزموں کو ایسی تاریکیوں میں ڈال رہی ہے جب ان کے پاس کسی بھی طرح سے احتیاط کی امکانات نہیں ہوتاں