gul plaza tragedy chances of identifying 40 deceased individuals have ended | Express News

رنگینخیال

Well-known member
گل پلازہ میں آگ سے جھلسے 40 سے زائد افراد کی شناخت کا امکان ختم ہو گیا، عمارت سے ملنے والی باقیات میں سے ڈی این اے کے لیے نمونہ ملنا ممکن نہیں ہوا کیونکہ آگ کی شدت نے ان جسموں کو روکھ دیا تھا جو اس عمل سے باہر رہ سکے۔

ایکسپریس کے مطابق گل پلازہ میں لگنے والی شدید آگ کے نتیجے میں 12 روز گزر چکے ہیں، اس دوران عمارت میں لگنے والی آگ سے 6 افراد جا پھونکے ہوئے ہیں جن کے جسم مکمل طور پر آگ کے شعلوں میں پھنس گئے تھے اور صرف ایک کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ممکن ہوئی تھی جسے اس نے اپنے شناختی کارڈ سے شناخت دی تھی۔

گل پلازہ میں پھنس کر زندگی کی بازی ہارنے والوں کی ٹکڑوں میں سوختہ لاشیں اور ان کی ملنے والی باقیات ریسکیو کارٹی سے نکال کر اسپتال پہنچائی گئی تھیں لیکن اب وہ 40 سے زائد افراد کی شناخت کا امکان ختم ہو گیا جو آگ میں جا پھونکے ہوئے تھے، عمارت میں موجود ڈی این اے کے نمونے ملنے کی صورت حال میں بھی کوئی یقین نہیں ہے۔

آگ پر قابو پایا گیا تھا اور اس کے بعد سرچنگ کی کوشش کی گئی لیکن 30 سے زائد افراد میں سے 27 کی شناخت کا عمل مکمل ہو چکا ہے جن کے پیارے کو ڈی این اے نے اپنے نتائج میں شامل کر لیا تھا جس میں سے 20 افراد کی شناخت ممکن ہوئی اور انھوں نے اپنے شہری کا شناسک کیا ہوا جو اس سے باہر پاتا تھا، 6 افراد کی شناخت چہرہ نشانی کے ذریعے اور ایک شہری کی شناخت اس کے پاس ملنے والی قومی شناختی کارڈ سے ممکن ہو سکتی ہے۔

غم و غصہ اور مظاہرے

لاپتا افراد کے اہل خانہ نے مظاہرہ کرکے اپنے شہیدوں کی میت بھیجنی کی آگ لگی ہوئی۔

غم و غصہ کے خاتمے کے لیے مظاہرے نے گل پلازہ کے سامنے چلایا جس میں لوگ گھروں سے آئے اور محفوظ آف سیس کی گئی لیکن ڈی سی ساؤتھ نے اچانک تلافی کیا اس کے بعد لاپتا افراد کے اہل خانہ نے اپنے پیاروں کی میٹ بھیجنی کی کوشش کی لیکن پولیس کے حوالے سے اس عمل پر کوئی یقین نہیں ہوا۔

ان کا مطالبہ ہے کہ جو بھی شہید ہو گئے ان کی میٹی دے دی جائے تو وہ آرام سے چلے جائیں گے، غم و غصہ کو ختم کرنے کا ان کی کوشش ہے، لیکن اس عمل پر یقین نہیں ہوا اور لوگ فریاد کر رہے تھے، جبکہ ڈی سی ساؤتھ آفیس سے کہا گیا کہ پوری کوشش ہوئی لیکن اس عمل پر یقین نہیں ہوا اور مظاہرے ختم ہو گئے۔
 
یہ تو بھارپور صورتحال ہے، کتنا دکھا دیا، یہ بتاتے نہیں کیا گیا کہ وہ لوگ کس طرح پھنس کر آگ میں ہو گئے تھے اور اب ان کی شناخت کا امکان کتنا مشکل ہو گیا ہے؟ یہ لگتا ہے کہ ڈی این اے کی کامیابی سے کبھی بھی موافقت نہ ہوسکتی ہے، چاہے وہ کیسے کی جائے، اس صورتحال میں کسی کو یقین نہیں ہوا اور اب ان لوگوں کی میت بھیجنی جاری ہے... :(.
 
اس گل پلازہ میں آگ سے جھلسے لوگوں کی شناخت کا حال تو حیرانی کا کہنا چاہیے، آگ کو روکنے والوں نے ان کے جسم کو پھنسایا ہوا تھا، کیا یہاں تک ڈی این اے کی نمونہ کے لیے بھی آگ کو روکنا چاہئیے؟ مظاہرے نے غم و غصہ کا سامنا کیا تھا، میت بھجائی جاتی تھی تو کیوں نہیں؟ پھر یہاں تک ڈی سی ساؤتھ نے اچانک تلافی کیا، ایسا کیسے کرے جب لوگ فریاد کر رہے تھے؟ آج بھی اس گل پلازہ میں ہلچی کی سڑائی ہوگی، یہاں تک کی جان کی کیا قیمتی ہوگی? 😔
 
ابھی بھی 12 روز گزر چکے ہیں اور یہ حالات کبھی تو کچھ ہو سکتے ہیں؟ گل پلازہ میں لگنے والی شدید آگ سے سچمنے کی صورت حق نہیں، چاہے وہ 40 سے زیادہ افراد کی شناخت کا امکان ختم کر دیں یا ان کی میت کی جاسکے تو یہ سب پھر ایسی ہی حالات بن سکتے ہیں؟

ابھی مظاہرے ہوئے اور غم و غصہ کا شکار ہو گئے لیکن یہ سب جھٹلے لگتے ہیں، آگ پر قابو پایا گیا اور اس کے بعد سرچنگ کی کوشش کی گئی لیکن ابھی بھی کچھ نتیجے نہیں مل سکتے؟ یہ سب کچھ ایک دوسرے کو کبھار دیتا ہے، اور ابھی وہ لوگ جو گھروں سے آئے تھے ابھی نہیں واپس چل سکتے! 🤔
 
یہ ایک بدترین معاملہ ہے، لگنے والی شدید آگ میں 40 سے زیادہ افراد جھیل پائے تھے لیکن اب ان کی شناخت کا امکان ختم ہو گیا ہے۔ یہ دوسرا معاملہ نہیں ہوگا جس میں بھی لوگوں کو اپنی پوری زندگی کے لیے کھو دیا جاے گا؟ غم و غصہ کے مظاہرے ہوئے لیکن یہاں تک کہ ڈی سی ساؤتھ نے بھی کچھ نہ کیا تاکہ ان کی میت دے سکے۔ یہ لوگوں کو تو کھو دیا جائے گا، لیکن انہیں اپنی محبت والی میت دے سکے؟ یہ ایک بدترین معاملہ ہے جو ہمیں یاد کراتا ہے کہ آگ کی شدت سے کوئی بھی چیز پر قبضہ نہیں ہوتا، اس طرح ایک انسان اپنی زندگی کے لیے کھو دیا جا سکتا ہے۔
 
ایسا تو نہیں تھا کہ گل پلازہ میں چھت سے دیکھنا شروع کر دیں، یہاں اب تک بے کار ڈی این اے نمونے کھلے ہوئے ہیں۔ 🤣
 
🤕 آگ میں جھلسے لوگوں کی شناخت کا امکان اب ختم ہو گیا ہے، یہ دکھاؤتا ہے کہ آگ نے ان کی زندگی کو بھی روکیا ہے

مظاہرے اور غم و غصہ

چہلے اٹھانے سے پہلے تازہ خبروں میں ایک دوسرا جھسکتا ہے، گل پلازہ میں آگ سے جھلسے لوگوں کی شناخت کا امکان ختم ہو گیا ہے

 
ایسا سے بھی نہیں لگ رہا جو شہدائے گل پلازہ کی جان کھو چکے ہیں ان پر مظاہرے نہیں کرنا چاہئے، ان کا کوئی بھی اہل خانہ اپنے پیارے کی میت لگانے کی کوشش کر رہا ہے ایسے سے نہیں ہوگا، پوری ملکیت میں ہم انھیں محفوظ آف سیس سے لے کر سوشل میڈیا پر بھی ان کی یاد دلاتے رہیں تاکہ کچھ نا کچھ ہونا چاہئے۔
 
ہمارے ملک میں ایسے واقعات بہت زیادہ ہوتے ہیں جن کے لیے کھل کر بات نہ کرسکتے ہوں، گل پلازہ کا واقعہ ان میں سے ایک ہے۔ جب آپ سمجھتے ہیں کہ ملک کی حکومت اور نئے ریکارڈز کی وجہ سے یہ طرح کی آگ سے لاپتا افراد کی شناخت ممکن نہیں ہو سکتی تو اس کا کوئی عجیب نہیں ہوتا، لگتا ہے کہ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی دیکھنے کے لیے ملتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ غم و غصہ کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیتے ہیں، اس طرح کی صورتحال میں کوئی سہارا نہ ملتا تو اسے ختم کرنے کا واحد رستہ مظاہرے ہی چلا جاتا ہے۔
 
Wow! 💥 40 سے زائد افراد کی شناخت کا امکان ختم ہونے پر لوگ غم و غصہ کے ساتھ مظاہرہ کر رہے ہیں، یہ ایک بے صIBہ حالت ہے جس میں پوری ملکیت ہارنے والوں کی طرف سے غصہ اور مظاہرے کی جانچپھاڑی لگ رہی ہے
 
اس گل پلازہ میں ہونے والی آگ سے ایسے بھی لوگ پریشان ہیں جو اس کے بعد جانے والے مظاہرے سے کم نہیں ہیں، یہ ریکارڈ شدہ دیکھنا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ایک اسٹریچ کھینچ کر دیکھا جا رہا ہو، کیا یہ ان کی زندگی پر یقین ہے؟
 
واپس
Top