گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت کو گل پلازہ آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خط میں لکھا کہ 17 جنوری 2026 کو گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے میں قامی انسانی جانوں کا قابل تلافی نقصان ہوا اور اس پر عوام میں انتہائی تشویش پائی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کی سنجیدگی اور عوامی تشویش کے پیش نظر شفاف، آزادانہ اور معتبر انکوائری کی ضرورت ہے تاکہ وجوہات، ممکنہ انتظامی غفلت اور کسی قسم کی انفرادی یا ادارہ جاتی ذمہ داری کا تعین ہو۔
گورنر سندھ نے کہا ہے کہ اس طرح کی انکوائری سے احتساب کے تعین میں مدد ملے گی اور وسیع پیمانے پر عوامی مفاد میں مستقبل میں اس طرح کے حادثات سے بچنے میں بھی مدد ملے گی۔
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط میں انہوں نے سفارش کی ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کی زیر نگرانی ایک جوڈیشل انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ گل پلازہ آتشزدگی کے واقعے کی مکمل تحقیقات ہو اور بنیادی وجہ، غلطی سے متعلق حقائق یا قانون کی خلاف ورزی کی وجہ کا سراغ لگایا جائے۔
اس گل پلازہ آتشزدگی کے واقعے پر گورنر سندھ کامران خان کی یہ نومالائی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ عوام کو احتساب کا راستہ ملے اور اس طرح کے حادثات سے بچنے کے لیے بھی کوئی نہ کوئی کوشش ہو۔ مجھے یہ سوچنا مشکل ہے کہ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے اس حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل انکوائری کمیشن تشکیلنے پر اتفاق کیا ہوگا، لیکن یہ بات بھی یقینی نہیں ہے کہ یہ تحقیقات سندھ ہائی کورٹ کی زیر نگرانی ہوگی۔ مجھے لگتا ہے کہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو ایک ایسی انکوائری کمیشن تشکیلنے پر زور دینا چاہئیے جو اس حادثے کی مکمل تحقیقات کر سکے اور بنیادی وجوہات کو بھی سامنے لگائیں گی۔
میری رाय یہ ہے کہ اس حادثات پر تحقیقات کرتے Samay wala commission banaya jata hai to woh investigation bhi transparent aur free ho. agar wo committee ghar ghar ke logon ko mil sakti hai to public ki interest badhegi. yeh bhi zaroori hai ki us committee me bhi unlogon ka include hon jo us incident mein directly involved theye, taki woh actuality samajh sakein. aur phir wo committee ka result public ko mil jata hai, nahi to koi bhi log khud hi conclusion laga dete hain.
یہ ایک بڑا معاملہ ہے، اگر انکوائری سنجیدگی اور ٹھیک طرح سے کی جائے تو اس میں نکلنے والی باتوں کے بعد گل پلازہ پر یہ فخر کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے لیے اپنی جان گئی تھی۔
سندھ ہائی کورٹ میں ایسا جوڈیشل انکوائری کمیشن بنانا چاہیے جو لوگ اس معاملے سے متاثر ہوئے ان کے حقوق کی پیمانے کچھ یقینی بنانے میں مدد دے سکے۔ اور اگر جسٹس ظفر احمد راجپوت کو اس کمیشن کی سربراہی کی جائے تو ان کی انुभवات سے کام لینے والوں کو فائدہ ہوسکتا ہے۔
آج گھنٹوں سے آگ لگ رہی ہے گل پلازہ میں اور اب اس پر تحقیقات کا کچھ نتیجہ مل گیا ہے وہ بھی کافی بدخشان۔ گورنر سندھ کو یہ تو جاننا چاہیے کہ عوام کی تشویش کیا پورا کر رہے ہو یا انہیں ایسا مل گیا ہے جو آپ نے بھی نہیں سोचا تھا۔ جسٹس ظفر احمد راجپوت کو ایک کمیشن بنانے کی فوری ضرورت ہوگی تو وہی کیا پورا کر سکتے ہیں جو آپ نے اپنے خط میں بتایا ہے۔
اس وقت صرف ایک بات بھی سمجھنی پہلے ضرور چاہئیں کہ یہ واقعات کس طرح جڑے ہوئے ہیں اور اس پر پورا انعقاد کرنا ہوگا تو ایک ہی بات نہ کھلنی پڈی۔
ایک بھرپور تحقیقات کے بعد حالات میں سुधار ہونا چاہیے لेकن یہ 17 جنوری کو ہونے والے واقعات کی طرف دیکھ کر دل آسمان نہیں آ پڑ سکتا۔
میری رائے یہ کہ گل پلازہ آتشزدگی کا واقعہ ہونے پر عوام میں تشویش ہو رہی ہے اور کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اس حادثے کی تحقیقات سے منع کیا جائے تو یہ تو ناکام ہو گا، لیکن ایک ایسا معاملہ ہوتا ہے جس پر انکوائری کرنے سے بھی فائدہ ہوسکتا ہے اور اس طرح کے حادثات کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے، سندھ کی حکومت نے بہت سمجھنے والی رائے دی ہے اور جسٹس ظفر احمد راجبوت کو اپنی کوشش کرنا چاہیے تاکہ وہ اس معاملے میں انکوائری کی وضاحت کریں اور سچائی کی کوشش کریں
یہ واقعہ بہت غم بخش ہے گل پلازہ میں آتشزدگی سے کس کے جانے گئے؟ مجھے لگتا ہے یہ انکوائری تھیٹر میں نہیں تھی، اس میں سچائی اور احتساب کی بات کرو۔ چیف جسٹس کو اس پر عمل کرنا چاہئے جیسا کہ گورنر سندھ نے ان کی سفارش کی ہے۔ میرے خیال میں ایک جوڈیشل انکوائری کمیشن بنانے سے احتساب اور عوامی مفاد دونوں کا فائدہ ہوگا، حالانکہ یہ واقعہ ابھی 17 جنوری کو ہوا تھا لیکن مجھے لگتا ہے اس پر تحقیقات کرنے میں وقت بھر گزارنا چاہئے۔
آتشزدگی کے واقعے پر investigation karna zaroori hai. government ko aam logon ki istimal karni chahiye, jisse unke liye khushi ho sake . Chief justice ko apni zarurat ke hisaab se joڈیشل انکوائری کمیشن banayen, toh investigation ki tarah se complete ho sake .
Gul Plazہ mein hua incident kisi bhi tarique se aam logon par prabhav dalta hai . Unhein apni zindagi ke baare mein jaankaari deni chahiye, agar woh ichha rakhte hai . Aapke liye safety aur security ka bhi khayal rakhen!
اس گل پلازہ آتشزدگی کے واقعے پر اچھی چنگی ہو گئی ہے… میرے خیال میں جسٹس ظفر احمد راجپوت کو ایسا عدالتی کمیشن بنایا جا سکتا تھا جس پر ان کے ہاتھ ہارنے کی بھی کوئی Chance نہیں… لیکن گورنر سندھ کامران خان کا یہ مطالبہ تو لگتا ہے کہ وہ اپنی مظلومیت کا ایک نیا ذریعہ تلاش کرنے والے ہیں…
یے تو گل پلازہ آتشزدگی کے واقعے میں چیف جسٹس کے ساتھ گورنر سندھ کی اور ایک ایسا عدالتی کمیشن بنانے کی کوشش ہو رہی ہے جو کہ حقیقی وجوہات کو کھول دے گا یا نہیں۔ یہ کام 17 جنوری 2026 کو واقعے کے وقت سے شروع کرنا چاہئیے تاکہ اس پر اچھی طرح سے تحقیق کی جا سکے اور انفرادی ذمہ داریوں سے بھگت کر حقیقی مظالم کو سامنے لایا جائے۔
اس گل پلازہ آتشزدگی کے واقعے پر تو دھونڈنا اور حقیقت کو سامنے لاتے ہوئے بات چیت کرنا ضروری ہے، لیکن حکومت کو ایسے کام کی جانب بہت ترغیب ملنی چاہئے جس سے عوام کے دلوں پر گریپ ہو جائے
سندھ میں یہ واقعہ ہوا تو پورا شہر ہی دہ Shimla ہی بھلا چکا ہو گیا ہے، ایسے ماحول میں عدالتی کمیشن لگا کر یہ کام آئے گا۔ حقیقی جانور ہی کھانے والا تھا نہیں، لوگ سوشل میڈیا پر تو بات کرتے ہیں لیکن حقیقت بھی بات کرتی ہے، اب یہ حقیقت یہاں پہنچی ہے۔
اس گل پلازہ آتشزدگی کا واقعہ تو ہر کوئی جانتا ہوں گا اور یہ بات بھی پوری دیکھی جائے گی کہ ابھی تک کسی کو اس پر سربandi نہیں لگی تھی...
میری نظر یہ بات کے لیے زیادہ اہم ہو گی کہ اس واقعے کی تحقیقات میں اسٹیبلشمنٹ اور ایک ستیگत پریس کا بھی کردار نہیں تھا...
جب تک یہ بات محسوس نہیں ہوتی کہ 17 جنوری کو گل پلازہ میں انفلٹیشن ہوا اس پر عوام میں کچھ بھی غور و فکر نہیں تھا تو یہ صورتحال اور سچائی کے درمیان ایک گہرے ماحول کو جنم دے گی...
اس آتشزدگی کے واقعے پر ہر کوئی ایک ہی بات کہے گی اور پوری طرح جھوٹ بھولے گا لیکن اس حادثے کی سنجیدگی اور عوامی تشویش کو دیکھتے ہیں تو ہمیں بتانا چاہیے کہ یہ واقعہ ساتھ ہوا کیا تھا، یہ واقعہ سچائی سے بھرنا پڑا ہے اور اس پر ناقص تحقیق کی وہیں جسٹس کی ضرورت ہے۔
اس وقت حکومت نے اور گورنر نے بھی بتایا ہے کہ یہ حادثے ایک جسٹس کمشن سے ہٹنا پڑا ہے لیکن جب تک اس پر تحقیق کی جائے گا اور یہ حادثے میں قومی جانوں کا نقصان ہوا تو ہمیں بتانا چاہیے کہ ہم کی نیند سے بھاگتے ہوئے وہ لوگ جو اس حادثے میں مدد کر رہے ہیں وہیں یہ جسٹس کمشن کا حصہ بن گئے ہیں۔
اس جسٹس کمیشن کے بعد ہی صرف اور صرف ایک بات بتائی جائے گی کہ حادثے میں کیا ناکامی رہی، ہوا کرنے کی کوئی تھانے پر کھلی مایوسگی رہی، انساف کے اس راستے پر بھی یہ ہی بات بتائی جائے گی۔
یہسار میں یہ گھنٹا ہے جو 17 جنوری کو گل پلازہ میں ان Flames se burning tha اور اب چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے سامنے یہی سوال آ رہا ہے کہ واقعے کی پوری کھپت دیکھنی چاہئے اور انسفارل انکوائری کی ضرورت تو نہیں لیکن واضح، آزادانہ اور معتبر انکوائری بھی نہیں مل رہی ہے یوں کہ عوام کی چیلنجز کو پورا کیا جا سکے۔