گل پلازہ کے-sanحہ کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ تیار ہوئی ہے، جو کمشنرکراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مشتمل کمیٹی نے تیار کی ہے اور وزیراعلی سندھ کو اسے پیش کرنے کا منصوبہ بناتے ہوئے وہ رپورٹ اسی دن پہنچائی جائے گی۔
آگ لگنے کی وجوہات، آگ بچھانے سمیت ریسکیو سے متعلق تفصیلات اس رپورٹ میں شامل ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی نے فائر بریگیڈ، ایس بی سی اے ، ریسکیو1122، واٹر کارپوریشن سمیت دیگر اداروں سے معلومات حاصل کی ہیں۔
ریسکیوحکام، متاثرین اور عینی شاہدین سے حاصل معلومات درج کی گئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ میں آگ رات دس بجکرپندرہ منٹ پر لگی اور فائر بریگیڈ کو آگ کی اطلاع 10بجکر26 منٹ پر ملی۔
آگ لگنے کا پہلا فائر ٹینڈر 11منٹ بعد پہنچا تھا جو 10 بجكر37منٹ پر رپورٹ میں لکھا ہوا ہے، جبکہ ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے 10 بجکر 30منٹ پر گل پلازہ پہنچا تھا اور ریسکیو1122 کا عملہ 10 بجکر53 منٹ پر پہنچا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گراونڈ فلور پر موجود بچے فلاورشاپ موجود تھے جن کے پاس ماچس یا لائٹر موجود تھا جس سے دکان میں آگ لگی اور پھراس نے پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
رپورٹ کے مطابق آگ تیزی سے پھیلی اور ائیر کنڈیشن کے ڈکٹس کی طرف سے زیادہ شدت سے پھیلی جو بے قابو ہوگئی، جس سے 79 اموات ہوئی ہیں اور زیادہ اموات گل پلازہ کے میزنائن فلور پر رہیں۔
رپورٹ میں اہم نکات اب تک سامنے نہیں آئے ہیں جس میں آگ پر قابو پانے میں تاخیر کی کیا وجوہات ہے، لوگوں کو ریسکیو نہ کرنے سمیت دیگر اہم نکات ہیں جو اب تک منظر عام پر نہیں آسکے ہیں۔
آگ لگنے کی وجوہات، آگ بچھانے سمیت ریسکیو سے متعلق تفصیلات اس رپورٹ میں شامل ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی نے فائر بریگیڈ، ایس بی سی اے ، ریسکیو1122، واٹر کارپوریشن سمیت دیگر اداروں سے معلومات حاصل کی ہیں۔
ریسکیوحکام، متاثرین اور عینی شاہدین سے حاصل معلومات درج کی گئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ میں آگ رات دس بجکرپندرہ منٹ پر لگی اور فائر بریگیڈ کو آگ کی اطلاع 10بجکر26 منٹ پر ملی۔
آگ لگنے کا پہلا فائر ٹینڈر 11منٹ بعد پہنچا تھا جو 10 بجكر37منٹ پر رپورٹ میں لکھا ہوا ہے، جبکہ ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے 10 بجکر 30منٹ پر گل پلازہ پہنچا تھا اور ریسکیو1122 کا عملہ 10 بجکر53 منٹ پر پہنچا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گراونڈ فلور پر موجود بچے فلاورشاپ موجود تھے جن کے پاس ماچس یا لائٹر موجود تھا جس سے دکان میں آگ لگی اور پھراس نے پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
رپورٹ کے مطابق آگ تیزی سے پھیلی اور ائیر کنڈیشن کے ڈکٹس کی طرف سے زیادہ شدت سے پھیلی جو بے قابو ہوگئی، جس سے 79 اموات ہوئی ہیں اور زیادہ اموات گل پلازہ کے میزنائن فلور پر رہیں۔
رپورٹ میں اہم نکات اب تک سامنے نہیں آئے ہیں جس میں آگ پر قابو پانے میں تاخیر کی کیا وجوہات ہے، لوگوں کو ریسکیو نہ کرنے سمیت دیگر اہم نکات ہیں جو اب تک منظر عام پر نہیں آسکے ہیں۔