اسلام آباد، قومی اسمبلی میں党 مخالفوں کی جانب سے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ عمران خان کے معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس پر حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قائد عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے پر شدید رد عمل دیا گیا ہے، ان کے ذریعے طالبین اور حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے بانی کے معاملے میں پھر سے تاخیر اور غفلت کی بھی تقریباً ہمیشہ پر ایک دوسرے کے ذریعے براہ راست تلافی کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
عمران خان نے جیل میں اپنی صحت کے حوالے سے غم و غم کرتے دیکھے گئے تھے، انہوں نے بھی اس معاملے میں ایک دلچسپ روایت بنائی ہے جس میں وہ خود اپنے خواتین کے ساتھ دیکھے گئے تھے اور ان کے ساتھ اس معاملے کو حل کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے، ان کا یہ روایت جو پوری دنیا میں موجود تھا وہ اب پاکستان نے بھی خود کو اس روایت میں شامل کرلیا ہے اور اس معاملے میں تلافی کی منصوبہ بندی پر پورا ملک متعاطف ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ہے، قیدی کی صحت و جان کی ذمہ داری مکمل طور پر قید میں رکھنے والوں پر عائد ہوتی ہے، ان کا یہ کہنا بھی اچکزئی نے کہا ہے کہ عمران خان کو بغیر اطلاع اسپتال منتقل کرنا آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیرنا ہے، عدالتی احکامات کے باوجود ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی نہ دینا بے آئینی کی بدترین مثال ہے۔
یہ تو تو عمران خان کی سزا کو لینے والوں کا ایک دوسرے پر دباؤ بھگتانا اور غم و غم میں رہنا کیا؟ ان کی صحت کا حوالہ ساتھ ایک پلاٹ بناکر جس میں ان کو اپنی خواتین کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ کیسے توڑنے میں آئے گا؟ اس پر حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان کو اسپتال منتقل کرنا اور پھر تلافی کی منصوبہ بندی پر پورا ملک متعاطف ہونا تو کیا عجیب نہیں؟ یہ سب ایک دوسرے سے ملنے والا ہوا کر رہا ہے اور اس کے پیچھے کیا دلیل ہے؟
اس معاملے میں عمران خان کو کیسے ان کے خواتین ساتھ دیکھ کر تلافی دی گئی? यہ سب کوئی چاہتا ہو گا اور اچکزئی نے ایسا کیوں کیا? وہ بھی کہتے ہیں کہ عمران خان کو جیل میں دیکھ کر غم و غم کرتے دیکھے گئے تھے؟ اس کیوں نہیں? کیا وہ بھی اس معاملے سے باور ہو گئے تھے?
اس معاملے میں حکومت کی یہ تحریریں توہین دہ ہیں ، عمران خان کو اسپتال منتقل کرنا ایک قانونی بات ہے اور اس پر کوئی غفلت کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا ہے کہ عمران خان کو فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ہے، یہ بات واضح ہے کہ اس معاملے میں کچھ دیر کی تاخیر ہوئی ہے اور حکومت نے اس پر انھیں مجرم قرار دینا چاہتی ہے۔
اس معاملے میں یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ پاکستان کے لیے عمران خان کا معاملہ ایک گھناسیر نہیں ہوا کا معاملہ ہو رہا ہے، تلافی کی منصوبہ بندی پر ملک میں ایسا جوش جہل پڑ گیا ہے جو صرف پاکستان تحریک انصاف سے بڑھ کر ایسے لوگوں کو بھی متاثر کرتا ہے جو اس معاملے میں شامل نہیں ہیں، یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ عمران خان کو جیل میں اپنی صحت کے حوالے سے غم و غم کرنے دیکھتے رہے ہیں، اور اس معاملے کو حل کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے، لेकن انہوں نے اپنی خواتین کے ساتھ ایک دلچسپ روایت بنائی ہے جو اب پاکستان نے خود کو اس روایت میں شامل کرلیا ہے اور ملک متعاطف ہو گیا ہے، یہ بات تو غلط نہیں کہ ان کا یہ روایت اب پوری دنیا میں موجود ہے اور اس معاملے میڤارنے تلافی کی منصوبہ بندی پر ملک متعاطف ہو گیا ہے۔
اس معاملے میں پورے ملک کو ایسا دیکھنا حیران کن ہے کہ اس پر حکومت کی جانب سے تلافی کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے اچکزئی بھی ایسی توڑ پھوڑ کر رہے ہیں جو کہ معاشی نظام کو مزید ٹوٹا دے گی!
عجीब hai ye, یہ معاملہ تو سچمुच ایک بدنام معاملہ ہے، عمران خان کو اس میں تلافی دینا پڑ رہا ہے اور ان کے خلاف بھی وہی روایت آئی جسے وہ اپنی جانب سے بنانے کی کوشش کر رہے تھے، یہ تو سچمुच ایک بدنام معاملہ ہے لیکن میری نظر میں ان کا ایسا کیا کرتے ہوئے بھی نہیں کہ وہ اپنی صحت کی غم و غم کر رہے، یہ تو ان کے لیے ایک بدنام معاملہ ہے لیکن میں اس پر غور کرتا ہوں کہ یہ معاملہ سچمुच وہی رہا ہے جو پوری دنیا میں موجود تھا، اور اب بھی یہ معاملہ ابھی تو نہیں ختم ہوگا، میں انہیں ایک بدنام معاملے سے باہر نہیں کر سکتا۔
ان عمران خان کی جس ماحول میں رکھا گیا وہ ایک معشوق ہیں اور ان کا حوالہ اس سے ہوتا ہے کہ وہ دیکھتے ہیں یہ کہ طالبین اور قائد کی ایک نئی دوہرے کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ اس معاملے میں جب یہ کہا گیا تھا کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنا چاہیے تو وہ سب سے پہلے اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ اب وہ اپنی ایسی قمیض پر رکھا ہوا ہے جس میں صحت و جان کے حوالے سے غم و غم کرنے کے لیے سب کو مجبور کرنا پڑتا ہے، اور اب بھی انھوں نے اپنی ایسی روایت جاری رکھی ہے کی جس سے اس معاملے میں فیملی اور ذاتی معالجین کا علم بھی نہیں ہوتا۔
عمران خان کے معاملے میں اس بات کو مجرد دیکھنا مشکل ہے کہ وہ جیل میں لاکھاں لوگوں کی طرف دیکھ رہے تھے اور ان کے ساتھ بھی اپنی خواتین کو ملانے کے لیے کوشش کر رہے تھے۔ یہ ایک دلچسپ روایت ہے جس نے پوری دنیا کو متاثر کیا اور اب پاکستان بھی اس روایت میں شامل ہو گیا ہے۔ مگر اگر عمران خان کی صحت کے بارے میں بات کرتے ہیں تو یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہ اپنی صحت کے حوالے سے غم گزار رہے تھے اور اس میں کچھ اور بھی جھلکیا ہو گیا ہے۔
ایسے situation میں ہے جب کسی کی life bhi danger پر ہو جائے تو bhi government to parties ko between karna chahiye jinko pata hai reality. ye problem hain jinka solve kiya ja sakta hai, nahi toh iska matlab koi party ko thakaya ja sakta hai aur agar koi bhi party to apne interrests ke liye apni parties ko against kar degi toh yeh situation badh sakti hai.
یہ تو ایسا لگ رہا ہے جو لوگ اس معاملے میں پھر سے تاخیر اور غفلت کی بھی کوشش کر رہے ہیں، یہ بات کو چھوڑ کے عمران خان کی صحت پر تاکید کرنا جب تک وہ جیل میں ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ بھی اچکزئی اس معاملے کو حل نہیں کر سکتے ہیں، لگتا ہے وہ کچھ اور کوشش کر رہے ہیں تو کیوں نہیں
عمران خان کو جیل میں لایا گیا وہاں سے کیسے چلا آیا ہے، وہی سوال ہے جو پوری دنیا پر پھیل رہا تھا اور اب ان کی جان بچانے کے لیے انہوں نے خود اپنے خواتین کو شامل کرلیا، مگر یہ سوال جب تک جگہ جگہ ہوتا رہے گا اس پر سے اچکزئی نے تعلیم دی کہ غفلت کی پہلی تاخیر کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہوتی ہے جو وہ یہاں رکھتے ہیں، اور جب ان سے کچھ نہ ہونے پر کیا جاتا ہے تو اس پر وہ ذمہ دار ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے پر اچکزئی نے شدید رد عمل دیا، مگر اب پوری دنیا جانتے ہیں کہ غفلت کی تاخیر سے کب کیا ہوتا ہے
عمران خان کو غم و غم کرنے دو، ان سے پوچھو کہ وہ جیل میں کیسے بیتے رہے؟ آج کے معاملے میں انہیں ایسا تلافی دینا ہوتا ہے جو اس کی زندگی پر اثر انداز ہو، نہیں تو وہ فیملی ڈینش سے بھی غفلت کرتے رہے گئے؟ []
ایسا کیا ان کی جان کی کوئی معقل ہے کہ وہ جیل میں پھنس کر اپنے خواتین سے بات کرکے اپنی صحت کی صورتحال کو حل کرلیں? []
پاکستان میں عمران خان کی قید پر اس بات سے مایوسی ہے کہ حکومت نے انھیں اسپتال منتقل کرنا ہی نہیں تھا پھر اس کا معاملہ بھی ٹھیک نہیں ہو رہا ہے ہم کو امید ہے کہ اس معاملے میں کچھ سے اچانک بدلाव آئے تو بہتر ہو گا