کراچی میں ایک منظر جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے، یہ کہ ایک Angry خاتون نے گلستانِ جوہر کے قریب گاڑی پر پتھراؤ کرنے کے بعد سفید رنگ کی گاڑی کے ڈرائیور کو تھپڑ مار دیا۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس خاتون نے گاڑی سے باہر نکلا تو ڈرائیور کو تھپڑ جڑ دیا اور وہ بھی ڈرائیور کی جانب سے گہرے تعرض کا شکار ہوئی۔
اس واقعے میں ایک سیاہ رنگ کی گاڑی میں سوار نے گاڑی سے باہر نکلا تو تین خواتین اس کے قریب بیٹھ کر ڈرائیور کو مغلظات بکتی رہیں، جبکہ دوسری گاڑی میں سوار خاتون نے گاڑی سے باہر نکلا تو تین خواتین اس کے قریب بیٹھ کر ڈرائیور کو مغلظات بکتی رہیں اور وہ بھی ان کی جانب سے گہری تعرض کا شکار ہوئی۔
آخری واقعے میں اس سیاہ رنگ کی گاڑی میں بیٹھ کر تین خواتین نے روانہ ہوگئیں، جبکہ سفید رنگ کی گاڑی سے باہر نکلا تو وہ ان خواتین کے ساتھ اس واقعے کی ویڈیو بنائی۔
اس واقعے کے بعد پولیس نے معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور متاثرہ افراد سے رابطے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جبکہ پولیس کے مطابق اس واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یہ واقعہ بہت حیران کن ہے، وہ خواتین جو یہ واقعہ کیا ہے وہ کیسے اٹھ پائیں گے؟ ہمارے ملک میں اس طرح کی سزائش کا کوئی ثبوت نہیں دیکھا گیا، یہ سارے واقعے کے بعد یہ سوچنا بہت مشکل ہو رہا ہے کہ ان خواتین کو اس سے محفوظ رکھا جائے گا?
میرے لئے یہ واقعہ بہت غم دہ ہے، ایک خاتون نے گاڑی پر پتھراؤ کرنے کے بعد تھپڑ مار دیا اور اس سے متاثرہ شخص کو بھی نقصان پہنچا۔ یہ واقعہ دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ شہر میں قومی ایکٹ کی ناکامی کی بات ہے، مگر مجھے اس کی وجوہات پتہ نہیں چلیں گے اور مجھے یقین ہے کہ اگر شہریوں نے خود کو کنٹرول میں رکھا تو اس سے پتھراؤ نہیں ہوتا۔
یہ صورتحال بہت گھریلو اور دھکے والا ہے، پھر بھی یہ بات غلط نہیں کہ اس صورتحال کو کبھی بھی دور کرنا نہیں ہوگا اس لیے یہ چھپنے والے لوگ بھی کس قدر خوفزدہ ہوں گے۔ میں ایک پرانے ٹی وی سے لاحقہ بنایا ہوا ایک صاف دلیل دیا تھا کہ اتنے زیادہ تعرض سے ہونے والے زخمیات بڑھتے ہیں، لہٰذا یہ بات ضروری ہے کہ ایسے واقعات پر رکاوٹ پائی جائے اور لوگوں کو تعلیم دیا جائے کہ پتھراؤ کرنے سے اور کسی بھی شے پر حملے سے بچنا ہے۔
اس سے پتھراؤ کرنے والی خواتین کو ہفتے میں ایک بار ٹھپڑ مارنا نہیں چاہئیے، اس طرح کے واقعات ہونے پر انہیں پھٹنے دیتے ہیں، وہ جب بھی کچھ کہتے ہیں تو لوگ انہیں بدنی مानतے ہیں
یہ وائرل ویڈیو ہمارے ملک میں ہوا کر رہی ہوئی حالات کی وضاحت کرتا ہے، جب کہ اس کا انکشاف ہر منظر سے متعلق نہیں ہے بلکہ یہ واقعات ایسے لوگوں کو بھی متاثر کرتے ہو جिन کی آگہی اور قیادت پر گزارا پڑتا ہے۔
اس واقعے میں جو ہوا کر رہی ہے وہ کچھ لوگوں کو فریڈم کے دروازے سے باہر نکال دیتی ہے، جس سے یہ بات ابھی بھی اس وقت تک پتہ چلتا ہے کہ وہ ہمارے ملک میں کس طرح سے موجود ہیں۔
یہی نہیں بلکل، یہ دیکھنا منظم ٹھیک نہیں ہے۔ ایک خاتون نے تھپڑ مارا اور فوری طور پر پولیس کو گاڑی کی جانب بلاایا۔ لگتا ہۈ کہ اس واقعے کی وجوہات کو پوچھنا چاہئے۔ مینے سے نہیں، لیکن یہی دیکھ رہا ہے کہ جب آپ کو کچھ ناواقف اور غصے والا سامنا کرنا پڈتا ہے تو آپ جو کرتے ہیں وہی کیا جاتا ہے؟
اس سے بات چیت نہیں کر پائے گی، اور وائرل ویڈیوز کو دیکھتے ہوئے کچھ لوگ لڑائی میں شامिल ہونے لگتے ہیں... سوشل میڈیا پر سب کچھ وائرل ہو جاتا ہے اور لوگ دیکھ کر بڑے پیمانے پر سنجیدگی نہیں لیتے. میری opinion یہی ہے...
یہ تو بھی میرا آپ کو پھنسایگی وائرل ویڈیو دیکھتے ہی اس سے لگتا ہے کہ یہ ایک فلم کیScene ہے نہ کہ واقعہ مگر وہ واقعہ تو بڑا غضبانی ہوا ہو گا اگر اس کی اصل وجوہات پتہ چل جائیں تو میرا خیال ہے کہ یہ سڑکوں پر نر و جنس کو بدسخت لگایتی ہے اور جھٹکے کی فہمی بھی پھیلاتی ہے
اس گھسپے سے یہ بات بھی بتاتی ہے کہ کراچی میں پولیس کی صلاحیت اور سمجھ نہیں پائی جاتی ہے۔ اور اس واقعے کو توئٹ کرنے والوں پر ان کو یہ بات سچ بھی تھی کہ انہیں گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہوتی یا وہ بھی مجرم بنے اور ایسے ہی واقعات کو ٹوٹا پھوٹا کرنا پڑتا ہے۔ اور جب یہ واقعے ہوتے ہیں تو وہ ویڈیوز بھی ٹوٹا پھوٹا ہوئے ہوتے ہیں۔
یہ واقعہ اتنا عجیب ہے، میرا خیال ہے اس میں کوئی معاملہ نہیں ہو سکا، صرف ایک خاتون گاڑی پر پتھراؤ کرنے کے بعد ڈرائیور کو تھپڑ مار دیا، لیکن دوسری گاڑی میں بیٹھ کر تین خواتین نے اس کے ڈرائیور کو تھپڑ مارنا جاری رکھا اور وہ بھی ان کی جانب سے تعرض کا شکار ہو گئے، یہ کیا اس میں کسی خاتون کی دیکھ بھال نہیں کئی جائے?
یہ وائرل ویڈیوز دیکھتے ہوئے میں اس بات پر مجھے سوچنا پڑ رہا ہے کہ شہر کی گھنٹی نہ صرف ایک دوسرے گاڑی چلانے والے کو پتھرااؤ کرتی ہے بلکہ اس میں خواتین بھی شامل ہو رہی ہیں، اس سے ہٹ کر وہ دو چھوٹے دوسرے گاڑی چلانے والوں کی جانب تیز چلی جاتے ہیں اور ان کے ساتھ بھی ہتک آف فربیلینس کیا جا رہا ہے؟
اس واقعے سے یہ بات کوئی جان نہیں دے گی کہ لڑکیوں اور خواتین کی قوت ہنسی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے وہ دو گاڑی چلانے والوں کو یہ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر بھار دے رہے ہیں اور ان کے ساتھ عائلی تعلقات رکھتے ہیں؟
اس واقعے میں پیدل رہنے والوں کی بات بھی نہیں آئی، وہ دیکھ کر کچھ انہیں چلا جانا ہوگیا ہے اور اس کے لیے ایک دوسرے سے منسلکوں کو بھی نہیں بتایا گیا ہے، اس سے یہ بات کوئی جان نہیں دے گی کہ ان تمام واقعات کی وجہ سے لڑکیوں اور خواتین کو گاڑی چلانے والے کے ساتھ تعلقات بنانے کی مجبوری ہوئی ہوگی؟
اس وقت کچھ کھید کی ضرورت ہے تاکہ ان تمام واقعات کی وجہ کو پہچانیا جائے اور اس سے لڑکیوں اور خواتین کو بھی محفوظ رکھا جا سکے۔