Karachi another heavy traffic accident water tanker killed motorcyclist | Express News

لومڑی

Well-known member
منگھوپیر کے علاقے میں واٹر ٹینکر نے ایک موٹر سائیکل کو سڑک پر رول دیا جس کے نتیجے میں 55 سالہ عبدالواحد جاں بحق ہوئے جبکہ زخمی 45 سالہ صالح محمد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

شہر قائد میں سڑک پر تیز رفتار بس نے ایک موٹرسائیکل کو ٹکر ماری جس کے بعد زخمی ہوگئے تھے اس واقعے کے بعد بہت متحرک ہیں لیکن حال ہی میں ایسا ہی حادثہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک رات کو سونے والے زخمی ہوئے۔

پولیس نے حادثے کے ذمہ دار ڈرائیور طارق کو گرفتار کر لیا ہے اور واٹر ٹینکر قبضے میں لے لیا ہے، جس کے بعد ان کی پہچان مل رہی ہے، یہ جانب سے متوفی کی شناخت 55 سالہ عبدالواحد کی گئی جس کے علاوہ زخمی صالح محمد بھی وٹر بورڈ کے ریٹائرڈ ملازم ہیں اور ان دونوں کے منگھوپیر اونگی گوٹھ کے رہائشی ہیں، جس نے یہ حادثہ ہونے سے قبل خود کو نماز جنازہ میں شرکت کرنے اور واپس اپنے گھر جانا تھا۔

اسحاق شہید اسپتال کی طرف متوفی کی لاش منتقل کر دی گئی ہے جہاں اس کی کارروائی جاری ہوگئی ہے، یہ حادثہ ایس اے او منگھوپیر نے بتایا، جو کہ شہر قائد میں سڑک پر تیز رفتار بس نے موٹرسائیکل کو ٹکر ماری تھی۔
 
اس حادثے کا یہ سوال ہے کہ اس وقت کس قدر سڑک کی چابی بھرپور طور پر فیل ہو گئی ہے؟ 55 سالہ شہید کو سڑک پر رول دیا گیا تو ان کی جان اٹھا لیتی، حالانکہ وہ ایسے وقت تھے جب سڑک کا نہیں ریکارڈ ہوتا تھا۔ اب 55 سالہ بچہ یا 45 سالہ بھی جانوں کو چھین لیتے تو یہ پورا ملک ہی نہ سہما۔
 
اس حادثے کی وجہ بہت ہی گہری ہوگئی ہے، ایس اے او نے بتایا کہ یہ ایک نااندازہ صورتحال تھی جس میں ان لوگوں کو پکڑا گیا ہے جو سڑک پر وہیں چل رہے تھے اور ان کے لئے ایسا ہونا بھی نہیں تھا، شہر میں سڑک کی صحت کی صورت حال خراب ہوگئی ہے، یہ جانتے ہیں کہ اگر اسے ہٹایا جائے تو نتیجہ بہتر ہوجاتا |


🚨🚗👮
 
مگر یہ تو ایس اے او نے ہی کیا؟ اس کا کیا فائدہ آئے گا؟ وہاں سے ہٹ کر ان کو دوسرے مقام پر لے جاتے ہیں تو یہ کون سی پالیسیز نہیں؟
 
کیا یہ ہمارے شہر کی مستقبل کا پہلو ہو گا؟ ہمیشہ سے ہی یہ بات کہا جاتا ہے کہ میرا شہر آگے بڑھنا چاہتا ہے لیکن پچاس سالوں کی آسانی سے نہیں، سڑکوں پر تیز رفتار بسوں کے ٹرافک میں اضافے سے یہاں سے ہونے والے دھمپ دھمیں نہیں رہتے... ~ 😔
 
عجب ایسا ہوا ہے کیوں کے پریشانیوں سے گزرنے والے لوگ ایسی ہی حالات میں بیٹھتے رہتے ہیں...سڑک پر تیز رفتار بس کی غلطی کی وجہ سے ایسا ہوا ہے، ایس اے او کے کچھ پابندیوں کو بھی اپنائی گئی جہاں سب کچھ چال لینے کے لیے نہیں بلکہ سافٹلی لانے پر توجہ دی جاتی ہے...اس حادثے کی پابندی کے لیے وہ سب کچھ ہمارا ذمہ دار ہوگا اور ضرور اس کا تعاقب کیا جائے گا...سڑک پر تیز رفتار بس کو بھی پابندیوں کی پیروی کرنی چاہیے...اس حادثے سے ہمارا ایک اور نوجوان شہید جانا نہیں چاہیے...🚫
 
عمر صبری کے لیے یہ حادثے ہو رہے ہیں جن میں سب سے زیادہ زخمی ہوئے ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دیکھتے تو یہ بات بہت کرتار ہو گی!

اس حادثے میں جان گئے شخص کو جس کا 45 سالا پھول ہو رہا ہے اس لئے اس وقت کو آپ نے لینا چاہیے اور سارے زخمی لوگوں کی مہربانی کرتے ہوئے، سبھی بچنے کی توفیق ملے تو اس حادثے کو یہی سمجھنا چاہئے کہ یہ ایک جھٹکہ ہوا تھا نہ کہ ایک اچانک حادثہ
 
واٹر ٹینکر کی توسیع ہوئی تو یہ بات بھی ہوتا کہ لوگ اس پر اتنا اعتماد کر رہے ہیں کہ ان میں سڑک پر اتار چڑھاؤ کی سوچ نہیں آتی 🙄 یہ ایک ایسا سفر جو 55 سالہ عبدالواحد کو بھی کرنا پڈا جس کے نتیجے میں وہ جان بحق ہو گئے، اور اب زخمی Salman Muhammad ko medical facility pr le jaye gaye hai. 🤕

ہمارے شہر قائد میں سڑک پر تیز رفتار بس نے ایسا حادثہ ہونے کے بعد پھر بھی متحرک ہوئے اور حال ہی میں یہی حادثہ ہوا جس کی وجہ سے ایک رات کو سونے والے زخمی ہوئے۔ 🚨

اسحاق شہید اسپتال پر عبدالواحد ki lass transport ki gai hai jahaan uske carroway kar rahi hain. 😔
 
اس حادثے سے پہلے بھی اسی سڑک پر کیسے تو چل رہا تھا؟ اس سے پہلے کس طرح اس کی جانچ ہوئی یا اس کے بارے میں کبھی کوئی شکایت نہیں کی گئی؟ اب بھی اس سڑک پر تیز رفتار بس چلاتے رہتے ہیں اور زخمیوں کو لینے کے بعد اس پر فوری طور پر پھنس نہیں جاتا?
 
یہ رونق ہوگا کہ اس حادثے کی بھری دلی میں کبھی بھی ایک سڑکی پر ایسا حادثہ نہ ہوا جس پر کوئی بھی غم خیز نتیجہ پہنچایا ، اس حادثے کی دلی میں 55 سالہ عبدالواحد کا جان سنا ہے اور ان کی جان کو قائل کرنے والا جو لوگ ہیں وہ ایک 45 سالہ صالح محمد ہیں، ان دونوں اپنی زندگی کو ایسے رشتوں سے جڑے تھے جن کے نتیجے میں ان کی جان ساکنہ پائی گئی۔ اس حادثے کے بعد ان کے خاندان کے لیے اچھا ایک کبیلہ لگ رہا ہے۔
 
یہ حادثہ تو دبا ہوا ہو گیا ہے! واٹر ٹینکر کو ایک موٹر سائیکل پر رول کر دیا تو زخم لگ گئے اپنی جان ڈال کر۔ اب یہ بھی پتا چل رہا ہے کہ کون سی ریلز پر یہ حادثہ ہوا اور کیا پورا کام واٹر ٹینکر کو لینے کی کوشش کر رہے تھے!

جب تک سڑک پر زحمت نہیں، وہاں پر بھی دبا ہوا ہو گیا ہے! اور اب یہ زخم لگنے والے کے علاوہ کس کو بھی پٹایا جائے گا؟
 
بہت دیر سے یہ بات بتائی دی جاتی ہے کہ ایسے ہی حادثات اور اس کے ذمہ دار لوگ کیسے نکلتے ہیں؟ یوں تو پولیس نے دوسرے حادثے میں بھی ایسا ہی کر دیا، چلتے لیتے ان سے پرچھانا شروع نہیں کیا جا رہا؟ اور اس حادثے کے بعد یوں ہی طارق کو گرفتار کیا جا رہا ہے، یہی پرانے نظام میں ہٹنا چاہئے، حالات میں کوئی بدلाव نہیں دیکھتے?
 
بہت ہی دrosso! یہ حادثے پورے شہر کے لئے خوفناک ہیں، اس وقت تک جس کی آگاہی ہو سکتی ہے وہ کتنے لوگوں نے موٹرسائیکل پر چڑھایا ہوتا ہے؟ 44 سالہ زخمی صالح محمد کے اس حادثے سے پتہ چلتا ہے کہ آج بھی ہماری سڑکوں پر یہ بے گناہ ہوئے، یہ بات کوئی نہ کوئی جانتا ہوگا، لاکín اس حادثے کے بعد ابھی بھی ان سڑکوں پر تیز رفتار بس چل رہی ہیں؟ یہ تو کیا ایس اے او منگھوپیر کی جانب سے کوئی کوشش ہو گی؟

**حadalتوں کی پٹی:**

- ابھی ہی موٹرسائیکل میں ٹکر ماری ہوئی، 55 سالہ عبدالواحد کو جان لگی
- 45 سالہ صالح محمد زخمی ہوئے
- سڑک پر تیز رفتار بس نے موٹرسائیکل کو ٹکر دیا
- پوسٹ میں کھبستے کی تعداد: 100+
- موٹرسائیکل پر چڑھنے والی تعداد کو بتایا نہیں گیا
 
واپس
Top