بھینس کالونی روڈ نمبر 12 میں ایک جانب سے نہیں بلکہ دوسرے جانب سے فائرنگ کا واقعہ آگے بڑھتا جارہا تھا، جس کی وجہ سے دو جوانوں کی زندگی ختم ہو گئی اور ایک نوجوان زخمی ہو گیا۔
جنہین کا تعلق مقتول 30 سالہ سدھیر عبدالحمید عمر اور 27 سالہ صائمہ سدھیر عمر سے تھا، ان کے پڑوس میں ایک فائرنگ سے جیسا کہ چھیپا ذرائع نے بتایا اس واقعے کی پہلی اطلاع دی گئی تو سدھیر کی والد صائمہ زخمی ہوئی اور ان سے کوئی شکار نہیں ہوا لیکن ان کے شوہر سدھیر کی جان ختم ہو گئی۔
ان واقعات کا منظر اس وقت کھل رہا تھا جب ایک ماہ قبل یہ جوڑا کورٹ مریج کرنے لگا تھا۔ اسی دوران ان کے گھر میں ایک فائرنگ سے ان دونوں کو بحق کردیا گیا، جس کی وجہ سے جیسا کہ 35 سالہ نامعلوم راہگیر کو پہچانا گیا وہ زخمی ہوا تھا اور اس واقعات میں کراچی شہر کے ایک نوجوان فائرنگ سے جیسا کہ شریعت خانی کے مطابق نامعلوم اہلکار کو پچھتہ کیا گیا تھا۔
یہ واقعہ بھنور پر کس طرح لگ رہا ہے، میرے لئے یہ ایک انتہائی عجیب واقعہ ہے جس کی وجہ سے دو جوانوں کی زندگی ختم ہو گئی اور ایک نوجوان زخمی ہو گیا। میرا خیال ہے کہ یہ واقعات پوری شہر پر لگ رہے ہیں اور اس سے ہمہ وقت گھبراہٹ کی لہر میں تھک گیا ہے
عقلی بات یہ ہے کیوں ان واقعات کو نہیں پہچانا جاسکتا اس سے قبل 35 سالہ نامعلوم رہiggins کو پہچانا گیا تھا اور وہ زخمی ہوا تھا، لیکن اب تک یہ کہا نہیں گیا کہ اس سے قبل کیسے واقعات پیش آئے? ان واقعات میں دو جوان کی جان ختم اور ایک زخمی ہوئی، یہ کیا کسی بھی فائرنگ سے پہلے کیسے واقع ہوا؟
یہ دوسرا واقعہ ہو رہا ہے جس سے میں یہ سوچتا ہوں کہ پہلے بھی ایسی ہی صورتحال ہو چکی ہے، یہ فائرنگ کا واقعہ جو رہا کرنے والے کے گھر میں ہوا، اور وہی گروپ جو پچھتہ ہو کر رہا ہے، یہ سارے واقعات ایک ایسا پٹا ہیں جس کی وجہ سے ہر سال نوجوانوں کی زندگی ختم ہوتی جاتی ہے।
یہ واقفہ ہمیں اچانک لٹکایا ہے، ایسے میں کیوں نہیں سوچتے تھے کہ فائرنگ کے بعد یہ سارے واقعات اس طرح اور اس طرح آگے بڑھ جائیں گے؟ 30 سالہ سدھیر کی جان ختم ہو گئی، یہ ایک نوجوان تھا جو اپنی زندگی کے لیے کوئی اور چھोडنا نہیں چاہتا تھا۔ ان کے شوہر کو 27 سالہ صائمہ سدھیر عمر زخمی ہو گیا، یہ ایک بڑی گمشدگی ہے۔ اور پہلے یہ جوڑا کورٹ مریج کرنے لگا تھا، اب اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں؟
میری یاد میں ایسا بات چیت سہام تھی، جب وہ دو نوجوان اور دوسریSide کے فائرنگ کے واقعے تھے۔ اب یہ توہین آمیز ہو گیا ہے، اس طرح سے خوفناک ہیں۔ 35 سالہ نامعلوم راہگیر کو پچھتہ کیا گیا تھا، اور اب یہ سارے واقعات اسی طرح ہی چل رہے ہیں؟
اسے سمجھنے میں مشکل ہے کہ حقیقہ کی کیا ہے؟ یہ توہین آمیز ہے، اور اب یہ سارے واقعات اس طرح ہی چل رہے ہیں۔
اس واقعات پر بھی توجہ دیتے ہوئے یہ نہیں کہ پورے اس شہر میں نومولکیت کی پوری طرح توازن برقرار رہتے ہیں؟ فائرنگ کے واقعات سے پھر سے اچھے لوگ یہاں آنے لگے ہیں، ایسے میں وہ جو گھریلو معاملوں پر غور کرنے کے لئے پھر سے آتے ہیں تو فائرنگ کی گولیاں ہوتے ہیں اور وہ جو اپنی حیرت کو دیکھتے ہیں تو وہاں سے بچ نہیں جا سکتے…
یہ واقعہ بہت ہی نیند نہ لگنے والی ہے، فائرنگ کی صورت میں دو جانوں کی زندگی ختم ہو گئی اور ایک نوجوان زخمی ہو گیا، یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ ان دونوں نوجوانوں میں سے ایک کا شوق فائرنگ کے کورس میں تھا اور دوسرے کی بھی یہی تعلق تھا، اس سے پتہ چلتا ہے ان دونوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ کر دی تھی اور اب وہ دونوں کی زندگی بھی ختم کر دی گئی ہے
یہ دیکھنا ہی خوفناک ہے فائرنگ کے واقعات کی سیر سے پورے شہر میںFear لگ رہا ہے، آپ کو بتایا نہیں اور جب بھی یہ بات سامنے آتی ہے تو وہ شخص زخمی ہوجاتا ہے، مریضوں کی جانچ لگائی جاتی ہے، پھر کیسے ان پر فائرنگ کر دیا گیا اس بات کو بتایا نہیں مگر یہ بات واضح ہے کہ شہر میں سچائی کتنی کمزور ہو چکی ہے، اور پوری صورتحال سے بھی کسی کو نتیجہ نہیں ملتا ۔
یہ واقعات بہت دुखناک ہیں، میرا خیال ہے ان دو جوانوں کی زندگی ختم کرنے والے افراد کو پچھاننا چاہیے۔ اس کے بعد تو اس جگہ پر ایسے واقعات نہیں ہونے دیر ہو گی، مگر یہ بات بات کی گئی تھی کہ اس شہر میں فائرنگ سے بچا نہیں جا سکتا۔
یہ واقعات بہت ہی نیند آگے بڑھ رہے ہیں اور اب تک یہ ساری بات نہیں سامنے آئی ہے کہ اس پچھلے فائرنگ میں نہ کوئی شکار تھا نہ کوئی زخمی، اور اب تک کیسے سارے واقعات متعین ہوئے ان کی پیروں میں رکھا گیا? یہ بات بہت مشکل ہے کہ پولیس کا جو سسٹم بنایا گیا ہے وہ ایسی صورتحال کو کبھی نہ بناتا!
وہ ٹچسک کی چارٹ ڈیزائن کی بات کر رہے ہیں، ایسی سے آپ کو دیکھنا پڑتا ہے کہ لڑائی کی جگہ کون سی ہوتی ہے اور پھر نکلنے والا ایک جانب سے فائرنگ کر رہا ہے جس سے دوسری طرف کا کچھ نہیں چل سکا، اس لئے کوئی بھی سجائش نہیں ہو سکتی ہے؟ اور ایسے میں ان ڈیزائنز کو اپنانا بھی کچھ غیر ضروری سمجھتا ہوں، اس لئے آپ بھی دیکھو یہ کتنے لوگ اس چارٹ پر آ جاتے ہیں اور کتنی تعداد میں ہیں؟
فائرنگ کی وجہ سے دو جوانوں کی زندگی جو گئی وہ تو ہمارے لئے ایک تباہ کن واقعہ ہے، لیکن یہ بات بھی ہر جگہ پائی جاتی ہے کہ آپس میں نہیں بلکل آپس میں پھینکتی ہوئی معیشت کی وجہ سے ہمیں یہ پہلے بھی دیکھنا پڑا تھا، آج بھی یہ واقعہ اس کے ایک نئے طور پر پیش آیا ہے جو ہم سب کو پٹاتا ہے۔
یہ واقعہ کثافے سے بھرپور ہو رہا ہے ، دو جوانوں کی زندگی ایک ساتھ ختم ہونے والی ہو گئی اور ایک نوجوان زخمی ہو گیا ہے، مجھے یہ بات لگ رہی ہے کہ ملک میں سول جان و جائن کی بھینس کو کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا
یہ واقعہ ڈرامائی ہے، دوسرے جانب سے فائرنگ کیسے کر دیا جائے وہ سمجھنا مشکل ہے۔ ان دو جوانوں کی زندگی ایک دیرپا خوفناک واقعہ بن گئی تھی۔ پہلے ایسا ہوتا نہیں کہ فائرنگ سے کوئی زخمی ہو جائے۔ اب یہ چالیس سال ہیں اور ڈرامے کی دھول نہیں ہوئی بلکہ نئی نئی خوفناک واقعات ہیں جو ہو رہی ہیں۔
اس ہلاکت کی کہانی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہم اپنی سڑکوں پر جیسا کہ وہ فائرنگ ہوتی تو ہمارے ارد گرد کی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ یہ بھی نہیں، اس ہلاکت میں ایک نوجوان فائرنگ سے پچھتہ ہوا تھا۔ یہ کیسے ممکن ہوگا اور اس کی کوئی ذمہ داری کس پر ہے؟ میرا سوال تھا کہ اگر ایک ماہ قبل اس جوڑے نے کورٹ مریج کرنا شروع کیوں تو اس سے ہونے والی حقیقی زندگی میں فائرنگ اور یہ ہلاکت کیسے Possible ہوسکتی ہے؟
ایسے situations نہیں ہونے دیں! ابھی یہ کہنا بھی اچھا ہوگا کہ ان دو جوانوں کی زندگی ایک فائرنگ میں آگے بڑھتی رہی۔ جس سے صائمہ کو بھی زخمی کر دیا گیا لیکن اور اور ہوتے تو یہاں کچھ ایسی بات نہ ہوتی جو لوگوں کی ذہنی شگفتگی کا باعث بنے۔ آج کے وقت فائرنگ اور انصاف کا اس لازمی مظاہرہ تو ہو جاتا رہا بھی لیکن یہی نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ لوگوں کو اپنی زندگی کی حفاظت کے لئے توجہ دی جائے۔