کراچی میں ایک بڑی کارروائی کے دوران جو کہ انسداد دہشت گردی کی Operation Raddul Fasaad کا حصہ ہے، سیکیورٹی فورسز نے یہ کامیابی حاصل کی ہے جس میں اہم دھماکا خیز مواد کو کامیاب طریقے سے روک لیا گیا۔
بم اسکواڈ اور سیکیورٹی فورسز نے رئیس گوٹھ علاقے میں کارروائی کی جس میں ایک وہیکل بورن پرووائیڈر ایکسپلوسیو ڈیوائس (وی بی آئی ای ڈی) کے طور پر تیار کردہ منی ٹرک اور دھماکا خیز مواد شامل تھا۔
اس میں چھ دھماکا خیز مواد سے بھرے پلاسٹک ڈرم، 5 دھماکا خیز ایل پی جی سلنڈر اور 60 دھماaka خیز سلنڈر تھے جو کہ تقریباً 2000 کلوگرام سے زیادہ بھار والے تھے۔ اس میں مزید بھی پلاسٹک ڈرم اور گیس سلنڈر تھے جس کا مجموعی وزن دھماکا خیز مواد کے ساتھ مل کر تقریباً 2400 کلوگرام تک پہنچتا تھا۔
بم اسکواڈ اور سیکیورٹی فورسز نے کمپاؤنڈ میں وہیکل بورن پرووائیڈر ایکسپلوسیو ڈیوائس کو کامیاب طریقے سے روک لیا جہاں اس میں 40 دھماaka خیز سلنڈر اور پلاسٹک ڈرم تھے جو بظاہر اسے تیار کیا گیا تھا۔ مزید برآں 40 کلوگرام کے چار تھیلے بھی برآمد ہوئے جس میں ہوم میڈ دھماکا خیز مواد موجود تھا۔
اس کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے وہیکل بورن پرووائیڈر ایکسپلوسیو ڈیوائس اور تمام دھماaka خیز مواد کو نقصان پہنچا کر ناکارہ بنا دیا تاکہ شہر میں یہ دھماکا خیز مواد منتقل کیا جانا نہیں سکے اور وہ شہر کے اہم مقامات پر نشانہ بنائے جانے سے بچایا جا سکتا ہو۔
اس کارروائی کی ناکام نہیں ہونے دی۔ پھر بھی یہ کہا جاتا ہے کہ اس میں کچھ دیر تک چھپا رہا تھا اور وہ سیکیورٹی فورسز کو اس سے قبل ہی ادراک کر دیا تھا۔ انہوں نے ایک بڑی کارروائی کے دوران اپنی صلاحیتوں کو دیکھنا جاری رکھا جو کیے گئے پھر بھی یہ کامیاب ہوا।
اس کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے تیزی اور پزیرگی کے ساتھ کام کیا، جبکہ وہ وہیکل بورن پرووائیڈر ایکسپلوسیو ڈیوائس کو روکنے میں بھی کامیاب رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے پہلے سے ہی آپٹرین اور دوسری معلومات کو موجودگی میں لایا تھا جو اس کارروائی کو یقینی بنانے میں مدد فراہم کرتے رہے ۔
امید ہے کہ یہ کارروائی نئی پالیسیوں کا ثبوت دے گی جو انسداد دہشت گردی کی operation raddul fasaad کے منصوبے میں شامل ہیں اور دھماaka خیز مواد کو روکنے میں کامیابی حاصل کر رہی ہے۔ لیکن، میں سوچتا ہوں کہ بھرپور کارروائی کی وajanہ جس سے یہ کامیابی حاصل کی گئی ہے اس کا ایک اہم پہلو ہوگا کہ سیکیورٹی فورسز کو دھماaka خیز مواد کو روکنے اور نقصان پہنچانا کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہئے۔ اس طرح، وہ لوگ جو اس کے لیے تیار ہوتے ہیں ان کو توجہ اور سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ وہ اپنی زندگیوں کو بچانے کے لیے تیار رہ سکیں۔
اس کارروائی کا یہ ریکارڈ نہیں بننا ایک بھاری مہنت کی کارکردگی ہے جب تک وہیقو اپنے کام پر توجہ دیتا ہے تو دھماکا خیز مواد کی پابندی کا یہ ریکارڈ بننا ایک بڑا فخر ہے! سیکیورٹی فورسز کو کامیابی میں شاندار عمل ہوا ہو گا اس operation raddul fasaad کا یہ حصہ ان کو مزید اچھا معیار دینے والا ہوگا!
منہوں میں یہ کہتا ہoon کہ یہ کارروائی ایک اچھی گزاری ہے لاکن ان سب سے پہلے یہ چاہئیں کہ وہ لوگ جو دھماکا خیز مواد کی رکاوٹ میں مدد کر رہے ہوں کے لئے ان کو بھی سیکیورٹی فورسز کے سامنے ملا دیا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر وہ لوگ جو دھماکا خیز مواد کی رکاوٹ میں مدد کر رہے ہیں انہیں یہ سیکورٹی فورسز کی ایک ٹیم بھی بنائی جائے تاکہ انہیں خود بھی کارروائی میں شامل کیا جا سکے۔ اور تیسرا بات یہ ہے کہ اگر ان سب سے پہلے دھماکا خیز مواد کو روک دیا جائے تو بعد میں اس کی رکاوٹ کی ضرورت نہیں رہتی۔
بھائی انٹرنیٹ پر یہ کہیں اور بھی دھھکے پڑ رہے ہیں، جس میں لاکھوں لوگ شامिल ہو سکتے ہیں... یہاں کرواڑوں کلوگرام دھماکہ خیز مواد چلے گئے ہیں، پھر بھی کیونکہ وہ وہیکل بورن پرووائیڈر ایکسپلوسیو ڈیوائس کو روکنے میں کامیاب رہے، تو آسٹریا اور برطانیہ جیسے ملک کے لیے دھمکی ہوئی ہو گی... یہاں سے نکلتے ہی ایک یورپی ملک کی طرف بھی اس طرح کی کارروائی شروع کر دی جا سکتی ہے... ہاں تک کہ وہ بھی انٹرنیٹ پر اپنے دھماکہ خیز مواد کو لاکھوں لوگوں سے بچانے کی کوشش کر رہے ہوں...
اللہ Bless کرے یہ سکیورٹی فورسز کی ایسی کامیابی ہے جو ہمیں خوش رکھتی ہے، یہ پورا مقصد انسداد دہشت گردی اور شہر کیSafety کو بڑھانے میں حاصل کرلیا گیا ہے. دھماکا خیز مواد روکنے کے لیے اس سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی گئی کارروائی کے نتیجے میں بہت سारے دھماaka خیز مواد کو نقصان پہنچا کر ناکارہ بنا دیا گیا ہے جس سے شہر کے اہم مقامات پر نشانہ بنائے جانے کا امکان کمزور ہوگا. میری blessings ان سکیورٹی فورسز کے لیے ہے!
جب تک میں نے یہ خبریں سنائی ہیں کہ سیکیورٹی فورسز نے کراچی میں ایک بڑی کارروائی کی جو انسداد دہشت گردی کے لئے کی گئی تھی، تو اس پر میرا خیال ہے کہ یہ کامیابی کو دیکھتے ہی ایک بڑی خوشی ہوگی اور یہ سیکیورٹی فورسز کی بہادری اور محنت کو دیکھتے ہی انھیں اعزاز ملتا ہوگا.
جیسا کہ نے پڑھا ہے کہ اس میں 40 دھماکا خیز سلنڈر اور 60 سے زیادہ دھماaka خیز سلنڈر تھے جو کہ تقریباً 2400 کلوگرام سے زیادہ بھار والے تھے، یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گردوں نے اپنی ایسی کارروائی کی ہوئی ہوگی جس میں بہت سارے دھماaka خیز مواد شامل تھے.
لیکن اسی طرح سے اس کارروائی میں انھیں کامیابی حاصل کرنے میں مدد مل گئی ہوگی جس کی وجہ یہ بھی ہوگا کہ انھوں نے اپنی تیز رفتار اور تیز دھماکہ خیز مواد کو روکنے کی صلاحیت کو ظاہر کیا ہوگا.
اس کارروائی میڰسے میرا خیال ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے شہر کے اہم مقامات پر دھماaka خیز مواد کو منع کرنے کی ایک بڑی کارروائی کی ہوگی اور یہ انھیں اس شہر کو بھی safer بنانے میں مدد مل گئی ہوگا.
عجीब ہے کہ یہ کارروائی ٹھیک سے چل رہی ہے لیکن اس کی وجہات کو بتایا نہیں جا سکتا۔ پھر بھی، یہ بات واضح ہے کہ اس Operation Raddul Fasaad میں دھماکا خیز مواد کو روکنے کی کوشش کی گئی ہو اور یہ کامیاب رہا ہوگا۔ لیکن، کیا یہ سب کچھ صحت مند تھا؟ یہ ایک بڑا کہنا پڑتا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کو زیادہ دھیما طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس طرح، ان کے اقدامات سے بھی دھماکا خیز مواد پیدا ہوتے اور یہ ایک نئے Problem بن جاتے۔
تمہیں پتا چلے گا کہ یہ کارروائی کتنے میں کامیاب ثابت ہوئی، بلکہ یہ کہ ان سیکیورٹی فورسز نے اپنی جاسوسی اور انتباہوں کے ذریعے اس کارروائی کی تैयارتی کا پتہ کر لیا۔ ابھی تک اس کے بعد یہ سوچنا محنت ہے کہ انہوں نے کیسے کام کیا اور کیسے اس کارروائی کو کامیاب بنایا