بلاچا ٹاؤن میں دھماکا خیز مواد کی بڑی قلت برآمد ہوئی، اس کے بعد اداروں نے دھمکی لگا رکھی
سوشل میڈیا پر پورے ملک میں غصہ پھیلایا تھا جب ایک ویڈیو پریس کے سامنے چلا ہوا جو اس سے پہلے بھی اسی علاقے سے دھماکا خیز مواد کی بڑی قلت برآمد ہوئی تھی اور اب ایک نئا ویڈیو چلا گیا جس میں بلوچ لبریشن آرمی کے دہشت گردوں کو گرفتار کرنے والوں نے دو سو کلوگرام دھماکا خیز مواد برآمد کیا ہے۔
اس ویڈیو میں اس گروہ سے متعلق اس وقت کی وضاحت کی گئی ہے جب تک ڈرمیلا گاؤں میں ایک مکان سے بارودی مواد برآمد کیے ۔
اس گروہ کے ہمدان نے اپنے تعلقات کو اس وضاحت کے ذریعے سامنے لگایا ہے جس سے ملٹری اداروں نے دوسرے دہشت گرد گروہوں سے وابستہ افراد بھی حراست میں لیے ہیں۔
اس کے بعد اس وضاحت سے ملٹری اداروں نے ان دہشتگردوں کی نشاندہی پر تین ہزار کلوگرام دھماکا خیز مواد بھی برآمد کرنے والے علاقے سے دو ہزار کلوگرام دھماکا خیز مواد برآمد کرتے ہوئے دھمکی لگائیں ۔
ایسا لگتا ہے کہ اداروں نے بڑی تیز رفتار سے ہر کوئی پر دھمکی لگی رکھی ہے اور یہ واضح ہے کہ ان کے پاس بہت کم دھماکا خیز مواد تھا، اب تو ایسے نئے ویڈیو نہیں آ رہے جو پہلے سے ہونے والی غلطی کو بتاتے ہیں، چاہے وہ کس نے بھی کیا ہو، دھمکی لگائی جائے تو کسی کی بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟
اس ویڈیو نے مجھے بہت اچھا لگا وہاں کیا بطور دھماکا خیز مواد برآمد کر رہے تھے انہیں اب بھی دھمکی لگا رکھی جارہی ہے، مجھے یہ بات میں نہیں آئی کہ ایسا کیسے کیا گیا؟ اور انہوں نے دوسرے گروہوں سے وابستہ افراد بھی حراست میں لیے ہیں، ایسا تو بہت خوفناک لگ رہا ہے۔
یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ ملٹری اداروں کی صرف ایک طرف دلچسپی ہے۔ پہلے سے دھماکا خیز مواد کی قلت آئی تو انھوں نے دھمکی لگا دی، اب بھی واضح کروائی گئی کہ اس وقت کی وضاحت کے ذریعے ہمدان نے اپنے تعلقات کو سامنے لگایا ہے۔ یہ واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے صرف اس وقت کے لیے دھمکی لگی رکھی ہے جب تک وہ اپنا مقصد حاصل نہ کر سکیں گی۔
سوشل میڈیا پر سب پھیلے ہوئے تھے، اب اور بھی غصہ کے لئے سب کو ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ انھیں ہی نئی دھمکیوں سے نواز رہے ہیں۔
اب یہ رکاوٹ کی بات ہے کہ اداروں نے دھمکی لگا رکھی، لیکن یہ بھی واضع ہے کہ سوشل میڈیا پر غصہ پھیلایا تھا جو واضح طور پر بدلی ہوئی، کیونکہ پہلے جس ویڈیو نے شائقین کو دھماکا خیز مواد کی قلت سے متعلق حقیقت بتائی، اُس کے بعد یہ کہا گیا کہ دو سو کلوگرام دھماaka khiz matra bared ہوا ہے؟ یہ بھی تو یقیناً ایک نئے ماحول میں رہنا پڑega, کیونکہ پہلے سے دو سو کلوگرام کہنا لگا ہوتا تھا اور اب وہی دوسرا ویڈیو چلا گیا اور اب یہ دو ہزار کلوگرام، لیکن اچھا ہے کہ واضع رکاوٹ لگا دی گئی!
بلوچستان میں تلاصلیں اور دہشت گردی کی وجہ سے ملک بھر میں پریشانی ہے، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ یہ سچائیوں کو چھپانے کا وقت ہے… دہشت گردی کی اس جڑی ناک پر رکاوٹ کی جاتی ہے تو پوری سرکار بھی ہلچی لگتی ہے اور دوسرے ایسے گروپوں میں سے کچھ لوگ خود کو دہشت گردی کا حامل بناتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ہر وقت غصہ پھیلایا جاتا ہے، لیکن اس وضاحت سے دیکھتے ہیں کہ ان دہشت گردوں کو گرفتار کرنے والوں نے دو سو کلوگرام دھماکا خیز مواد برآمد کیا ہے تو اس پر غصہ کس لیے بڑھ گئی؟ اور بلوچ لبریشن آرمی سے متعلق وضاحت جیسے دیکھتے ہیں تو یہ بھی تو ان کا ایک پرانا راز ہوگا، لیکن اس پر غصہ نہیں بڑھنا چاہئیے، اس سے کچھ نتیجہ نکلے گا
عوامل بے ترتیب اس وقت کی حقیقت ہیں، پہلے سے تو دھماکا خیز مواد کا برآمد نہیں تھا اور اب یہ لوگ دھمکی لگاتی ہیں! یہ دیکھنا ہی بہت ہیرسناک ہے کہ ملٹری اداروں کی جانب سے ایسا کام کیا جائے گا، وہ لوگ جو ہمیشہ دھمکی لگاتے رہتے ہیں اب دوسروں کو بھی دھمکی لگانے کی پہچان دوڑا دیں گے!
اس سے پہلے بلاچا ٹاؤن میں دھماکا خیز مواد کی قلت نہیں تھی تو کیسے؟ اس وقت یہ بات سچ میں ہو رہی ہے کہ ہر چیز کے پیچیدہ motivations ہوتے ہیں، ایسا ہی اور بلوچ لبریشن آرمی کے دہشت گردوں کو گرفتار کرنے والوں نے بھی دہشت گردی سے متعلق ان کے تعلقات کو ظاہر کیا ہے۔ یہ واضح ہوتا ہے کہ دھماکا خیز مواد کی قلت میں آزاد ہونے والی ایسی باتوں کو بھی شامل کرنا پڑتا ہے جس سے ملٹری اداروں کے لیے مفید ہوجاتے ہیں۔
یہ سب بہت مایوس کن ہے، پورے ملک میں غصہ پھیلانے والوں کو یہاں تک کہ دھمکی لگانے کی آزادی مل گئی ہے؟ اس کے بعد بھی لوگ ان پر ایسے تھرن کے لئے آتے ہیں جو یہاں تک پہنچ جاتے ہیں کہ ان کے ساتھ شادی کرنا چاہیے؟ یہ سب تو بہت غمبار ہے، میں اس پر زیادہ غور نہیں کرتا لیکن اگر یہ دھماکا خیز مواد برآمد کرنے والا گروہ ملک میں لگاتار دھمکی لگانے والا ہوتا رہتا تو، چلو اس کو فیلڈ مارشل کر دیجئے؟
یہ تو دیکھو، پورے ملک میں اس سوشل میڈیا ویڈیو کی گھنٹی گھنٹی تیز بھی رہی۔ لوگ پوری دنیا کا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن کسی بھی سٹورس پر یہ ویڈیو نہیں دکھایا جا سکتا، اور پہلے تو بھی وہی دھماکا خیز مواد برآمد ہوا تھا۔ اب اس کی دو ہزار کلوگرام دھماaka khiz maadat bharo karne walay region se tain hazara kilogram dhumka khiz maadat rakhwaye gaye hain, toh یہ تو چل رہا ہے کہ کیسے ڈرمیلا گاؤں میں بارودی مواد برآمد کرنے والی گروہوں کو دھمکی لگائی جا رہی ہے۔ یہ تو دیکھو، پورے ملک میں غصہ پھیلایا جاتا ہے اور کچھ لوگ ایسا کیا کروں گے، کچھ لوگ کوئی بات نہیں پوچھتے ۔
اس ووٹر کو یہ سوچنے میں بہت آسان ہوا کہ اگر ایسا پہلے ہوتا تو اس گروہ سے متعلق وضاحت اس وقت سے سامنے نہیں آئی جب یہ دھماکا خیز مواد برآمد کیا تھا۔ مگر اب یہ وضاحت سامنے آئی اور اس کے بعد ملٹری اداروں نے ہزاروں کلوگرام دھماکا خیز مواد برآمد کرنا شروع کردیا ہے تو پتا لگاتا ہے کہ وہ اس سے قبل یہی ہوتا تھا۔ اور اب وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایسا ہوا تو دوسرے دہشت گرد گروہوں کو ایسا کرنا نہیں پایا تھا اور اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ اس سے قبل کیا ہوا تو اسے بھی کر سکتے ہیں۔ پتا لگاتا ہے اور نہیں پتا کیوں؟
یہ تو دیکھنا ہی نا تھا کہ یہ شہر میں کیا ہوتا رہتا ہے؟ پہلے بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے دو سو کلوگرام دھماکا خیز مواد برآمد کرنے والا ویڈیو آگے آیا تو غصہ پھیلانے کا کام تھا، اب جب ان سے متعلق ایک نئا وضاحت چلاگیا ہے تو دھمکی لگائیں رکھیں گے تو کیا اس کے بعد کسی اور کو بھی غصہ پھیلانے کی اجازت دی جائے گی؟ یہ سب ایک ہی دھریلے کے مظاہر ہیں، ہم اس کی وضاحت کرتے چلے گئے تو نہیں?
جی تو یہ واضح ہو چوکا ہے کہ ایسے لوگوں کو بھی اپنی دھمکی میں شامل کرنا پڑ رہا ہے جو سوشل میڈیا پر غصے کے فاصلے پر رہتے ہیں... یہی نہیں بلوچ لبریشن آرمی کی دھمکی بھی اس پلیٹ فارم پر پھیلتی ہوئی ہے اور اب ان کی دھمکی کو ہر کس کے سامنے بھی رکھنا پڑ رہا ہے...
اب یہ دیکھو کہ ملٹری ادارے ایسی دھمکی میں شامل ہوئے ہیں جو سوشل میڈیا پر بھی پھیلائی جاتی ہے... اس سے پہلے یہاں تاکید اور دھمکی کے ساتھ بھی بھرپور منظر بنایا گیا تھا، اب تو اس کے بعد ملٹری اداروں نے اپنی دھمکی میں بھی اضافہ کر دیا ہے... یہ تو واضح ہے کہ کس طرح یہ وہی پلیٹ فارم جس پر غصے کو جنم دینا پڑتا ہے اسی پر دھمکی رکھنا پڑتی ہے...
عجیب باتیں ہیں، یہ ویڈیو دیکھتے ہوئے میں سوچتا ہوں کہ اس وقت کی صورت حال کی وضاحت کی جائے تو یہ سارے تین چار سالوں میں ہی نہیں آئی، لگتے ہیں دوسرے دہشت گرد گروہوں کو بھی ایسا کرنے والا ساتھی ہوگیا ہو، یہ تو کچھ نئی ہوئی بات نہیں ہے، میں صرف اس پر تبصرہ کر رہا ہوں کہ دھمکی لگانے والے ہر دفعہ یہی گلا پکڑتے ہیں، نہ تو ان کا کوئی عزم تھا اور نہ ہی ان کی واضح باتوں میں کوئی تبدیلی آ رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر ان Video ko dekhne par mere liye bahut bura lag raha hai. sabse pehle video thoda surprising tha, lekin phir se usmein pata chal gaya ki yeh to sirf publicity ke liye ho rahi thi. aur ab woh video aya jo bilkul galat hai. Blacha Town mein explosive material ki qantitity kam hone par military bhi gussa ki gayi, lekin ab woh bhi sawal uthata hai ki kyun unhein pata chal nahi gaya tha ki blacha town mein uss video ko press ko dekhana hai?
یہ تو ایک اچھا بھاگ رہا ہے، ملٹری اداروں نے اپنی جانب سے دھمکی لگی رکھی تو کیا نتیجہ آئے گا؟ وہ لوگ جو دھماکا خیز مواد برآمد کر رہے ہیں ان پر توجہ دی جاتی ہے اور وہ بھی اپنی جانب سے دھمکی لگائی رہے ہیں... یہ تو ایک ایسا دور ہو رہا ہے جہاں لوگوں کو اور ملٹری کے درمیان نال لگائے جائیں گے!
یہ تو ایک بڑا تشویقجوت، بلوچستان میں دھماکا خیز مواد کی پیداوار کو روکنے کے لیے یہ کامیاب کوشش ہے اس سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غصہ کا اہم حصہ تھا، نہ صرف دھماکا خیز مواد کی پیداوار کو روکنے میں اور بلوچ لبریشن آرمی کے دہشت گردوں کے تعلقات کو توڑنے میں بلکہ ہمیشہ سے یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ دھماکا خیز مواد کی پیداوار اور دہشت گردی کو روکنے کی لڑائی میں ہماری بہت سی قوتوں کو استعمال کیا جاتا ہے