کراچی کی گل پلازہ میں جس تباہ کن آگ کے بعد گاڑیاں محفوظ حالت میں اتار کر بچائی گئی ہیں، یہ ساری بات اب آج وائرل ہو رہی ہے۔
ان آگ کی وجہ سے دکانیں جو گلاہٹ کا شکار ہوئی ہیں، ان میں ایک چھت پر گاڑیاں اور موٹر سائیکلز بھی تھیں جس سے اب تک یہ پورا واقعہ محافل کا مرکز بن رہا ہے۔
اس دکانی کے مالکان نے بتایا کہ گل پلازہ میں تینشوروم تھے جن میں سے ایک جل کر اسے خاکستر ہو گیا جبکہ دیگر دو جسمانی طور پر متحرک رہے، اس جسمی نے گاڑیاں اور موٹر سائیکلز کو محفوظ حالت میں اتار کر جانی ہے۔
اس دکانی کے تاجر نے بتایا کہ ان کی دکان پر کام کرنے والے دو افراد اب تک لاپتہ ہیں جو پوری سوتھ آگ کے باعث بھاگنے میں نہیں سکے۔
جس دکانی کی وائرل سہولت دیکھ کر لوگوں نے گاڑیاں اتارنے کا بھی کوشش کرتے ہوئے تباہ کن حادثے کو پورا سامنا کیا ہے لیکن ان کی کوشش اب تک کامیاب نہیں ہوئی۔
ان آگ کی وجہ سے دکانیں جو گلاہٹ کا شکار ہوئی ہیں، ان میں ایک چھت پر گاڑیاں اور موٹر سائیکلز بھی تھیں جس سے اب تک یہ پورا واقعہ محافل کا مرکز بن رہا ہے۔
اس دکانی کے مالکان نے بتایا کہ گل پلازہ میں تینشوروم تھے جن میں سے ایک جل کر اسے خاکستر ہو گیا جبکہ دیگر دو جسمانی طور پر متحرک رہے، اس جسمی نے گاڑیاں اور موٹر سائیکلز کو محفوظ حالت میں اتار کر جانی ہے۔
اس دکانی کے تاجر نے بتایا کہ ان کی دکان پر کام کرنے والے دو افراد اب تک لاپتہ ہیں جو پوری سوتھ آگ کے باعث بھاگنے میں نہیں سکے۔
جس دکانی کی وائرل سہولت دیکھ کر لوگوں نے گاڑیاں اتارنے کا بھی کوشش کرتے ہوئے تباہ کن حادثے کو پورا سامنا کیا ہے لیکن ان کی کوشش اب تک کامیاب نہیں ہوئی۔