گُل پلازہ کی تازہ ترین صورتِ حال

موتیا عاشق

Well-known member
کراچی کے مشہور شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے بعد چوتھے روز بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ پہلی منزل کلیئر کرنے کے بعد امدادی ٹیموں نے دوسری اور تیسری منزل پر سرچنگ کا عمل شروع کردیا ہے۔

آگ کی شدت میں مسلسل اضافے کے باعث عمارت دھوئیں سے بھر گئی تھی جس کی وجہ سے کئی افراد عمارت میں ہی محصور ہوکر رہ گئے تھے جن کی حتمی تعداد تاحال نامعلوم ہے۔

abl فیر انہوں نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کے تمام محکمے الرٹ رہیں۔ تمام لاپتا افراد کے ملنے تک ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ رات بیسمنٹ میں دوبارہ آگ بھڑکی تھی تاہم ریسکیو ٹیموں نے اس پر قابو پالیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے بعد عمارت میں موجود سامان باہر نکالا جائے گا اور تحقیقات کی مکمل رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ لاپتہ افراد کی تلاش اور لاشوں کی شناخت کے لیے فرانزک کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ لواحقین کی جانب سے 51 ڈی این اے سیمپلز جمع کرائے جاچکے ہیں جبکہ 8 لاشوں کی شناخت ہوچکی ہے۔

سندھ حکومت نے سانحے میں جاں بحق افراد کے ورثاء کے لیے فی خاندان ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔
 
اس دھمی نے مجھے بہت متاثر کیا ہے! جس سے اس عمارت میں ہونے والی دھوٹوں کی حقیقت پوری ہو گئی ہے۔ اچانک ان لوگوں کا لائپ بیلم نہ رہنا، شاپنگ سینٹر میں لوگ اپنی جان و جسم کھونے کو ملتا جلتا دیکھنے سے پوری صحت مچلی گئی ہے۔

اب جب ان کی تلاش کا کام ہو رہا ہے تو دوسرے شاپنگ سنٹرز کی جانب بھی آپشنز کھیلنا چاہیں گی، نہ سے پورے شہر میں ایسے دھمیوں کو روکنے کی توجہ دی جائے۔
 
ایسے situations میں ہمیں بہت سوچنا پڑتا ہے کہ یہ واقعات کیسے سدھے ہون گے؟ گل پلازہ میں ريسکیو آپریشن جاری تو ہے لیکن وہاں ہونے والی شدت ایسے ہے کہ اس پر قابو نہیں پانے کے امکان ہیں؟ یہ سچ ماجید کے لیے بھی ایک گھناساڑی ہے۔
 
اس جگہ پر بھڑکائی گئی آگ سے ہونے والا مظاہرہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ یہ شاپنگ سینٹر اور اس کے گرد و غبار کی پوری جڑی دھوئیں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ ریسکیو آپریشن دوسرے دن بھی جاری ہونے والا ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بات بھی صاف ہے کہ عمارت میں موجود سامان اور لاشوں کی شناخت کے لیے فرانک کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔
 
یہ سچ جھنکتی ہے، چوتھے روز بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے! یہ کس کو دیکھنا ہے؟ آگ کی شدت میں ہر گز خوف نہیں لگتا اور لاپتہ لوگوں کی تعداد بھی تو ایک راز ہے۔

اس طرح کے واقعات سے انسان کو اچھا لگتا ہے؟ نہیں، یہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ میں بھی لوگوں کی مدد کرتا ہوں، لیکن یہ بات سب کو یاد رکھنی چاہئے کہ آگ اور لاپتہ افراد کی تعداد کس طرح لوگوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔

اس وقت سندھ حکومت کو اس حادثے پر توجہ دینی چاہئیے، یہ تو بہت اچھا کہ وہ ورثاء کے لیے امداد کی announcements کر رہے ہیں۔ لیکن لاپتہ لوگوں کو ملنے تک انہوں نے بھی یہ کام مکمل نہیں کیا، اس پر اچھا دھ्यान دینا چاہئے۔
 
اس کراچی کے بہت سارے ریکٹر اور چہلے کو توڑ کر کھیلنے والی شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں اگ لگی ہوئی ہو ایسی نہیں کہ اس پر انصاف حاصل ہوسکے ! اس وقت تک سارے لوگ اپنے خاندان کی تلاش میں نکل گئے ہیں تو یہاں تک ریسکیو آپریشن مکمل ہوگا ؟

اس کراچی میں لوگوں کو ایسے اہتمامات پہنچانے والی نجی کمپنیوں کی ضرورت تھی کہ ان کا ایک فون ٹاور آگ لگ جائے ! اور اب وہیں سے ان کا بے چینی میٹھا جواب !

اس وقت تک یہ ریسکیو آپریشن چلے گا جب تک کراچی کی پوسٹ مین کے لوگ اپنے وائرال کو دیکھ سکن !
 
یہ تو واضح ہے اس عمارت میں لگنے والی آگ کی شدت کچھ پہلے تھی؟ اب تک ان تمام شخصوں کو تلاش نہ کرلیا گیا تو کس طرح ان لوگوں کا ورثہ یقینی ہو سکتا ہے? مینے سمجھیاسے پہلی منزل پر رکھے جانے والے پانی اور امدادی ٹیمز کو کافی وقتاں سے انتظار کرتا رہا ہوں گے تو یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ عمارت میں موجود لوگ کس طرح محصور تھے.
 
سندھ حکومت کی یہ وعدہ سچ میں نہیں پڑے گا کہ انہوں نے لاپتہ افراد کی تعداد چھٹکارائی دی ہے؟ عمارت میں رہنے والے لوگوں کو تو ابھی تک یہ بات سچ ہے کہ وہ اپنی خاندانوں تک پہنچ جائیں گے یا نہیں؟ اور ان لاشوں کی شناخت کا یہ کام کتنے دنوں میں مکمل ہوگا? ⚠️
 
یہ عجीब بھی تھا جب سندھ کی شہر کے لوگ ہمیشہ ایسے ہی رہتے تھے جیسے اچھے لوگ ان لوگوں میں نہیں ہوتے پھر آج کا واقعہ تو بالکل نہیں کچھ جس کا خیال کرو۔

لوگ ایسی بات کی بات کرتے ہو تھے کہ گل پلازہ میں کسی کی بھی گنجائی نہیں ہوتی، اور اب ان لوگوں کو جتنا اچھا سامان دیکھنے لگے تھے وہ سب کچھ فیلڈ میں ہی گئے۔ یہ تو ایک دوسرے کے خلاف ہے، پہلی منزل سے آگ تویا کر دی جائے گی اور رات کو چار دھونے میں چلے گا۔

آج ان لوگوں کے لیے جو ناکام ہوئے ان کی جانوں کا خیرمقدم ہو سکتا ہے، آپ سب جانتے ہیں کہ انھوں نے اپنے شہر میں کیا کارنامے انھوں نے بھی ڈھونڈ لیا اور اس کے لیے یہ ایک ہمدردی کی بات ہے۔
 
یہ دیکھنا ہو سکتا ہے کہ جب کوئی بات بدل رہی ہو تو اچانک اپنی زندگی کھو دیتا ہے، پھر بھی انسان اس کی یاد دلا کر کسی کی جان کی بھی پوری نہ ہوئی۔ یہی حال سندھ میں ہوا جب گل پلازہ میں آگ لگ گئی تو پورے شہر کو دھو دھو کر اس کا سامنا کرنا پڑا، اچانک نہیں آ گئے اس ہار کی ذمہ دار کون سا شخص تھا وہ بھی نہیں بتایا گیا، تو کیا یہ انسانیت کو محسوس کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی؟
 
اسے تو جھنجٹ کی صورت میں محسوس کر رہا ہوں ، گول پلازہ میں لگنے والی آگ، ایک دوسرے کا جو خوفناک خیر نہیں ہے ، آپریشن جاری ہے اور اس کے بعد بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے تاکہ وہ لوگ جو عمارت میں محصور تھے، اس سے بچ نکل سکیں۔

اس وقت گول پلازہ کا سامان باہر نکالا جائے گا اور لاشوں کی شناخت کے لیے فرانک کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ اس صورتحال میں لوگوں کو محفوظ رہنے کے لیے سب سے پہلے یہ اہم کارروائی کی گئی ہوگے۔
 
یہ کھبھر مچ گیا تو سارے لوگ یقین رکھتے تھے کہ اگلی بار سے کوئی چीज نہیں ہوگی اور ساتھ ہی انسپائرشن بھی اٹھا لی گئی تھی مگر اب یہ بات تو واضح ہے کہ انچاں دھواں میں ہی رہتے ہیں۔ آپسی کی ایک بڑی چٹان گئی اور اب اس کی جسارت کا فائدہ لینے والے کو پوچھنا پڑگا کہ ان لوگوں کی جانب سے یہ بات کیا ہو گی یا نہیں۔
 
یہ بات عجیب ہے کہ چوتھا روز بھی ان لاپتہ لوگوں کی تلاش میں ریسکیو آپریشن جاری ہے جو گل پلازہ میں سے نکل گئے تھے۔ اب تک کی صورت حال پر غور کرتے ہوئے، یہ بات واضح ہیں کہ جتنا آپ معاملے کو سمجھاتے ہیں، اسی کی پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا۔
 
یہ بھی ایک دیرپا ماحول پیدا کر رہا ہے، جب تک ان لوگوں کی جان نہ مل سکتی ہو، چلنا نہیں پڑega۔

تمام لاپتا افراد کے ملنے تک انہیں ختم نہیں کر سکتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہوگی?

ان کا کہنا تھا کہ عمارت میں موجود سامان باہر نکالا جائے گا، لیکن اسی سوال کا جواب کب تک نہیں ملے گا؟

یہ ایک اور بات ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے اس وقت کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن کیا یہ کافی ہے؟
 
یہ تو انتہائی تباہ کنScene ہے... گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے بعد حالات بہت بدل گئے ہیں... ریسکیو آپریشن چوتھے روز بھی جاری ہے، یہ بتا کے کیے گئے ہیں تاکہ کس بھی کوئی اپنے پورے خاندان ساتھ لاپتا نہ ہو جائے... عمارت میں محصور ہونے والوں کی تعداد بھی پتہ چلا گئی ہے، ایسے میں ان تمام لوگوں کو نا ملنے کے لیے کھلی ٹارگٹ بنایا جا رہا ہے... اور یہ تو پریشان کن بات ہے کہ عمارت میں موجود سامان باہر نکالا جائے گا اور تحقیقات کی مکمل رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کرائی جاگی...
 
عجیب کچھ ہوا، یہ عمارت پوری طور پر دھوئیں سے بھر گئی تھی اور لوگ اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتے تو کیا؟ ابھی تک اس معاملے کی پوری تفصیل معلوم نہیں ہوتی، ہر چیز ایسے جیسے ہو گی اور بہتر ہو گا!
 
یہ تو نہیں تو! گل پلازہ میں لگنے والی آگ کو دیکھ کر، میرا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ اسے روکنے کے لیے پوری دنیا کی مدد ملنی چاہئے۔ #گلپلازہ

آگ کی شدت اور ریسکیو آپریشن کو دیکھ کر، میری ذیڈی کو قائدाम نہیں آتا۔ اس وقت بھی عمارت میں لاپتہ افراد محصور ہونے کا امکان ہے تو #شقے_دل

بلدیہ عظمیٰ کے تمام محکمے نے ریسکیو آپریشن میں بھاگنا چاہئیں، لیکن پھر بھی لاپتہ افراد کی تلاش کو دیکھتے ہوئے، میرا دل اچھی طرح تھک جاتا ہے۔ #انسان_کی_دنیا

سندھ حکومت نے ورثاء کے لیے ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا ہے، اچھا! اب یہ لوگ اپنے ورثاؤں کو جانتے رہ سکیں گے۔ #سندھ_گرام

اس سانحے میں ناکامی کا امکان ہے تو، لیکن ان لوگوں کی تلاش اور لاشوں کی شناخت کے لیے فرانزک کا عمل ضروری ہے۔ #انسان_کی_خدش
 
واپس
Top