لاہور شہر بھر میں ہر چھت پر جوش و خروش کا آندھا پڑ گیا، بسنت کا تیسری روزہ نئی فضا میں بڑھ گئی جس کی سرگرمیاں سبھی کو اپنی طرف لے گئیں۔ دہلی گیٹ پر پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پتنگ اُڑاکر بڑے نالے سے بسنت کا افتتاح کیا، جس کے ساتھ ہی شہر کے چھتوں پر قہقہے، ڈھول کی تھاپ اور بوکاٹا کے نعرے گونجنا شروع ہوگئے۔
نوجوان بھی نالے سے لہر آ کر چھت پر پتنگیں اُڑاتے رہے جبکہ کٹتی اور اڑتی پتنگوں کو دیکھنے کے لیے شہر کی سڑکیں منچلے سڑکوں پر ہی نکل آئے جہاں لوگ انہیں دیکھ کر بھی پتنگ اُڑائیں اور فٹور پر ٹھینک کرتے رہے۔
خواتین بھی بسنت کی رونق میں حصہ لینے نے کئی ایسے استحالے کیا جو دوسرے شہروں میں نہیں دیکھے گئے، ہاتھوں پر مہندی، رنگین ملبوسات اور ذائقہ دار پکوانوں کے ساتھ وہ بھی اپنے حلوں کو چھت پر پٹangiں اُڑا کر شاندار استقبال کیا۔
مہنگائی کے باوجود یہاں پتنگ اور ڈور کی مانگ بھی عروج پر رہی، ایسے علاقوں میں جہاں یہ منصوبہ نہیں بنایا گیا تھا اس میں نایاب ہوئی۔ شہر کی گلیاں اور سڑکیں بھی رنگوں سے لبھی، یہ دکھائے گئے کہ بسنت اس وقت بھی اپنی جگہ پر ہے اور شہر کی پھول کی مہن نے ہر دلوں کو چھو کر شاندار توجہ دی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بسنت انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے لبرٹی چوک کا دورہ کیا اور اس دوران شہریوں سے ملاقات کی، موٹر سائیکل سواروں کو حفاظتی راسد لگانے کی ہدایت بھی کی۔
شہریوں نے بسنت کی بحالی پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حکومت کو سراہا اور شہر میں نئی منصوبہ بندی سے بھی نالے پھونک کرے گا۔
لارڈز! بسنت کا اس سال کا مظاہرہ ان کی توجہ اور جذبہ کی وجہ سے کیا گیا ہے، یہ بھی دکھاتا ہے کہ ابھی بھی لوگ اس شہر میں نالے پھونک کرنے اور جوش و خروش میں رول کرنے کی عادت رکھتے ہیں، یہ دکھائی دیتا ہے کہ ان لوگوں کو اپنا نالے پھونकनے اور شاندار توجہ دینے کی بھلائی کیا ہو رہی ہے۔
بسنت کا احتlobberی اسی طرح ہوا جیسا ہم سب سنو چکے ہیں... پتنگ اور ڈور کی مانگ ابھی بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، لہر آ کر چھت پر پتنگیں اُڑانے والوں کو میں دیکھا کہ وہ شاندار استقبال کرتے ہوئے اپنے حلوں کو چھت پر اُٹھای کر پٹangiں اُڑائیں رہے ہیں... اور ان کی شان کی لیے خواتین نے بھی اپنی جانب سے کئی ایسے استحالے کئے ہیں...
میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پتنگ اور ڈور کی مانگ نہ صرف پنجاب میں ہی نہیں بلکہ دوسرے شہروں میں بھی ہوئی ہوگی... ایسی چیت کا ایک ریکارڈ ہونا چاہئیے۔
اس دیکھا وہ کچھ لوگ پتنگوں کی تیزی سے پتھرنے اور ایسا ہی جان سaka لگ رہے ہیں کہ اس نالے کی سافٹننگ پر ایک نئی نسل فیلڈ میں بڑی بڑی کمپنیوں کا تعاون ہوا ہوگا ، وہ لوگ جو پتنگوں اُڑا رہے ہیں ان کے سامنے سافٹننگ کی پہلی لڑائی جیت کر ہوئی تھی
بسینت کا ایسا ہوا کہ اب لوگ دیکھنا ہی نہیں رہا، پتنگ اور نالے کی مانگ ایسے ساتھ تھوڑی بھی مہنتوں میں ہمیشہ کے برعکس ہوئی، اب لوگ یہ سائنس بھی جانتے ہیں کہ پتنگ اُڑائیں تو بسنت کا افتتاح ہوگیا ہے …………
پھوولوں کے مہموں سے لے کر ایسے علاقوں جہاں نالے پھوںک کرتی ہیں وہ بھی بسنت کی رونق میں شامل ہورہے ہیں۔ لاکھوں کھلنے والی ایسا منظر دیکھنا ایک خاص تجربہ ہوتا ہے۔
اس بسنت کی رونق میں صرف نالے پھوڑ کرتی وہیں بھی نہیں، آج بھی خواتین نالے پھونک کرکے اپنے حلوں کو چھت پر اُڑاکر شاندار استقبال کیا ہے۔
لیکن یہ بات تو واضع ہے کہ ایسا منظر دیکھنا بھی نئی تازگی کی Feeling ڈالتا ہے اور اس میں بھی شہر کی مختلف اقسام کو شامل کرنا ضروری ہے۔
جہاں بھی یہ منظر دیکھا جائے وہیں ہر سال ایسی ہی کوششوں سے شاندار توجہ ملی ہوگی۔
لہر لہر ہار جوش، یہ بسنت کا سفر ہوتا ہے جس میں شہر بھی اپنی جگہ پر آتا ہے اور سب کو اپنی طرف لاتا ہے۔ نالے سے لہر آ کر چھت پر پتنگ اُڑانے والوں کا ایسا جذبہ ہوتا ہے جیسے وہ اپنی زندگی کا سب سے بہترین وقت دیکھ رہے ہوں، مہنگائی کے باوجود ان کی جسمانی اور منفسی قوت نے انہیں اس جذبے میں شامل کر دیا ہے۔
شہر کی گلیاں بھی رنگوں سے لبھتی ہیں، اور یہ دکھائے گئے کہ بسنت اس وقت بھی اپنی جگہ پر ہے اور شہر کی پھول کی مہن نے ہر دلوں کو چھو کر شاندار توجہ دی۔ نالے سے لہر آ کر پتنگ اُڑانے والی خواتین بھی اپنے حلوں کا ایسا استقبال کیا جیسے وہ اپنی زندگی کی سب سے اچھی بات کرتے ہوں۔ یہ دکھایا گیا کہ شہر میں لوگ کتنی قوت اور جذبے کے ساتھ اپنے حoloں کو ظاہر کر رہے ہیں۔
ایسے ماحولات میں کبھی بھی وہ جگہ نہیں ہوتی جو اب لہور میں ہوئی ہے، یہاں کے شہریوں نے بسنت کی حیات کو ہزاروں سے زائد لوگوں کی شراکت سے پھلایا ہے ، دیکھنا بھی تھا کہ خواتین کو بھی یہ منصوبہ اچھا لگا جو اب انہوں نے کیا ہے ، لیکن یہ بات بھی دیکھنی پڑی کہ نالے سے کھیلتے وقت کتنے لوگ زخمی ہوئے، چھت پر پتنگ اُڑاتے وालوں کو ایسا معلوم ہوا کہ اس طرح کے واقعات نہیں ہوتے
بسنت کی وہ ہمیشہ کی طرح اچھلی تھی! ابھی شہر کے چھت پر نالے پھونکنا، پتنگ اڑاکر لہر آنا، موٹر سائیکل سواروں کو حفاظتی راسد دیا جانا، وہ سب ایک ہی طرح کی ایمچین نہیں تھیں! لاحقہ فٹور پر ٹھینک کرنے والے شہریوں کو میں بھی اچھی طرح یाद ہو گیا کہ یہ کس کے ساتھ ہوتا ہے! شاندار استقبال، مہنگائی کے باوجود پتنگ اور ڈور کی مانگ عروج پر رہی، یہ بسنت نے ایسی ہی خواہشوں کو پورا کیا جس کا کوئی جواب نہیں دے سکتا!
بسینت کی تقریب کچھ دیر تک ماحول کو متاثر رہی ، شہر میں چھٹ پر ایسا جوش و خروش تھا جیسے نالے اور پتنگوں سے منسلک ہونے کے باوجود بھی آفتاب کے وقت اسے دیکھنا ہمیشہ سوجاتا رہتا ہے। یہ بھی دیکھا گیا کہ کتنی ایسی خواتین تھیں جنہوں نے اپنے اشتہار کو ایسے منسلک کیا جیسا کہ نالے اور پتنگوں سے توڑنے کی آگ میں بھی اسے چھپانے کے لیے ایک گناہ نہ تھا…
لہذا یہ بات واضح ہے کہ شہر کی ہارمونی اور بھائی چارے کی منزلیں ایسی ہیں جس پر اس وقت سبھی اپنی طرف توجہ دیتے رہتے ہیں، یہ رائے میرے پاس ہے کہ وہ لوگ جو انسٹاگرام اور فیس بک پر لیک کر آتے ہیں وہ شہر کے لیے کیا کرتا ہے؟ اب یہ رائے تو نئی تھی اور اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ وہ لوگ جو شہر میں پٹنگ اُڑاتے ہیں وہ صرف دکھاوا چاہتے ہیں؟
باسنت اس سال کیسے چل رہی تھی؟ یہ بات یقیناً دل کو ٹوٹ دیتی ہے! لارڈ براؤن نہیں تھے اس شاندار منظر کی جس نے لاہور شہر بھر میں ایک اور عالمی منظر بنایا ہوگا! پتنگ اُڑاکر نالے سے آنے والی نئی فضا اسے کیوں نہیں دیکھی? یہ بات صرف ایک بات ہے کہ شہر میں پتنگ اور ڈولڈلرز کو ملا کر کچھ بھی نہیں ہوا؟
جہاں بسنت کا افتتاح ہوا وہاں کے شہری اس کی خुशی میں ایسے استحالے نہیں دیکھنے آئے جو ساس گزاری ہوئی جگہوں پر دکھائے جاتے ہیں۔
مگر یہ سب کچھ نئی فضا کی واضح نشانی ہے کہ شہر میں جو نالے اُڑائے گئے تھے ان پر لگتا ہے کہ یہ بات دلوں کو چوٹ پہنچا رہی ہے، شہر بھر میں لوگ ایسے استحالے نہیں دیکھتے جو واضح طور پر دل کی بات کرتے ہیں۔
مگر یہ سب کچھ اور بات ہے کہ شہر میں بڑے نالے سے شاندار توجہ دی گئی جو ابھی نئی فضا کی نشانی ہے جس کا مقصد ہوتا ہے کہ شہر میں ایسی سی خुशی اور لچک آ جائے جو پہلے بھی نہیں دیکھی گئی۔
اس لیے شہریوں کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ لچک اور خुशی سے ہی شہر بھر میں تبدیلی آتی ہے۔
باسنت کی ایسی مہم جو ہارے لوگوں کو فٹور پر ٹھہنے کی اجازت دیتی ہے وہ کچھ تو بھی نہیں دیکھی جا سکتی। لہر آ کر پتنگ اُڑانے والوں کو اس سے محروم نہیں رہنا چاہیے، ان کی گنجائش کم کرنے کے لیے سڑکیں اور گلیاں منچلے سڑکوں پر بھی ڈال دی جائی چاہیے। یہ ایک بہت ہی مشکل کام ہوگا لیکن یہ صرف ایک اسٹپ نہیں، اس کے ساتھ ہی نئی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ ایسے دن بھی نہ آئے جو لوگوں کو ڈر سے پتنگ اُڑانے پر مجبور کرتے ہیں
بسنت کی رونق میں کھلے ہوئے شہر نے میرا دل دھمکی دی ہے، چھت پر جوش و خروش، پیٹنگ اور پتنگوں کو اڑانے کی تماشا کی تلاصلي کیا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ لوگ اپنی گالری میں بھی پتنگ اُڑائیں، ایسا دیکھنا میرے لئے بہت ممتاز ہے۔ کھلے ہوئے شہر نے ہمیشہ سے ہی اپنے حلوں کو چھت پر پٹangiں اُڑانے کی روایت شروع کی تھی، لیکن اب یہ رونق تیز ہو گئی ہے۔
ہمارے شہر میں اس طرح کا ماحول ہونا بہت چہیچا نہیں ہے، لیکن اب جب لوگ ایسے منصوبوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں تو یہ ماحول تیز ہورہا ہے۔ شاندار رنگوں اور پھولوں کا ایسا ماحول اس وقت بہت چمکتا لگ رہا ہے جو ہر کوئی دیکھنا چاہتا ہے۔
شہر کی گلیاں اور سڑکیں بھی رنگوں سے پرچم رہی ہیں، یہ سب شاندار توجہ کو کہنا جاتا ہے کہ بسنت اپنی جگہ پر ہے اور شہر کی پھول کی مہن بھی ہمیشہ سے نئی ہوئی ہے۔
پتنگ اُڑاکر بسنت کا افتتاح ہوا تو یہ لگتا تھا کہ شہر میں سب کو ایک ہی فٹور پر چلنا ہو گا، سب بھی جس طرح سے اُڑائیں اور ڈور کریں گے... پھر کچھ لوگ یہی نہیں کر پائے گئے ۔ شہر میں مہنگا پتنگ اور ڈور بھی آ چکا تھا، جو یہ دیکھا گیا کہ سب کچھ ایک ساتھ نہیں آ گیا... لگتا تھا کہ پتنگ اُڑانے والوں کو شاندار ڈور کرنے کی جگہ بھی نہیں ملا، جس سے وہ اس کا منچھا لینے میں چل گئے...