لاہور: گٹر میں گر کر ماں، بیٹی کی ہلاکت؛ متوفیہ کے شوہر کا پولیس پر تشدد اور دباؤ ڈالنے کا الزام

کافی عاشق

Well-known member
پاکستان کے علاقے داتا دربار کی ایک گلی میں مین ہول میں ماں اور بچہ نے گر کر جاں بحق ہوئیں، جس پر ان میں سے ایک خاتون کے شوہر نے پولیس کے خلاف تشدد اور دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔

شوقیہ کی بیٹی اور ماں کا مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کا واقعہ دھمکیوں سے لبریز ہوا ہے، جس نے شوقیہ کی پوری قوم کو تشدد اور غیرت کے خلاف بیدار کرنے کے لیے متحرک کیا ہے۔

شوقیہ کی بیٹی اور ماں کا واقعہ دھمکیوں سے لبریز ہوا ہے، جس نے شوقیہ کی پوری قوم کو تشدد اور غیرت کے خلاف بیدار کرنے کے لیے متحرک کیا ہے۔

شوقیہ کی بیٹی اور ماں کا مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے پر ان کے شوہر غلام مرتضیٰ نے پولیس پر تشدد اور دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے، جس سے وہ بھی متاثر ہوئے ہیں۔

شوقیہ کی بیٹی اور ماں کا مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے پر ان کے شوہر غلام مرتضیٰ نے پولیس کے خلاف تشدد اور دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے، جس سے وہ بھی متاثر ہوئے ہیں۔

شوقیہ کی بیٹی اور ماں کا واقعہ دھمکیوں سے لبریز ہوا ہے، جس نے شوقیہ کی پوری قوم کو تشدد اور غیرت کے خلاف بیدار کرنے کے لیے متحرک کیا ہے۔
 
یہاں تک کہ ایسے واقعات کی خبر دیکھتے ہیں جس پر پوری تیزاب کے ساتھDiscuss forum پر دھمکہ مارنا پڑتا ہے، اور اب شوقیہ کی بیٹی اور ماں کا یہ واقعہ ایسے ہوا ہے جو سب کو تشدد اور غیرت کے خلاف متحرک کرتا ہے। لेकن ان پوائنٹز پرFocus نہیں، کیونکہ پولیس کی جاسوسیں بھی ہر ایسے واقعات میں شامل ہوتی ہیں جو پوری تیزاب پر دھمکنے والا بننے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اور وہ ان کے بعد بھی دھمکیوں سے لبریز ہو جاتے ہیں۔
 
یہ واقعہ ایک دھمکی ہے جس نے شوقیہ کی پوری قوم کو تشدد اور غیرت کے خلاف بیدار کرنے کے لیے متحرک کیا ہے، مگر اس پر ان کا شوہر ایسی دھمکی ڈال رہا ہے جو وہ سمجھتے ہیں نہیں، وہ شوقیہ کی بیٹی اور ماں کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے پر ایسا الزام عائد کرتے ہیں جو وہ جانتے ہیں کہ اس سے وہ زیادہ دھمکی ڈالنے والے کی ذیانت کر رہے ہیں، یہ ایک شہرت کی زحمت ہے جس کو وہ اپنی ذہنت سے محض ساتھ نہیں دیتے
 
جب تک یہ چالاک پुलیس اپنے فیلڈ مینٹس پر سہی محض تشدد نہ کرتے تو، یہاں تک یہ واقعات ہو رہے ہیں ان کی انصاف کا کوئی گروہ نہیں کرے گا.

شوقیہ کی بیٹی اور ماں کا واقعہ واضح طور پر دھمکیوں سے لبریز ہوا ہے، جس سے یہ بات بھی درج ہو رہی ہے کہ ان کے شوہر کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔

اج دیکھو مین ہول میں ہونے والی شوقیہ کی بیٹی اور ماں کا واقعہ، جس کے نتیجے میں ان پر تشدد اور دباؤ ڈالنے کا الزام عائد ہو گئا ہے۔
 
یہ واقعہ دھمکیوں سے لبریز ہوا ہے، جس نے شوقیہ کی پوری قوم کو تشدد اور غیرت کے خلاف متحرک کیا ہے۔ یہ بات اس پر ایک اہم پیٹھ دکھائی ہوئی ہے کہ جب ہمیں اپنیRights کے لیے بڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے تو ہم نے جو سچائی کا راستہ اختیار کیا ہوتا ہے وہ دوسروں کو متحرک کرتا ہے!
 
اس واقعہ پر لگتا ہے کہ شوقیہ کی بیٹی اور ماں کو دھمکیوں سے بچانے کے لیے انساف کرنا ضروری ہے، نہ کوئی فرد، نہ حکومت کو ان کی ذمہ داری ہی اور نہ ہی ان کے شوہر کو ان کا حقدار ہی ہوگا۔ اس وقت جب ایسے واقعات ہوتے ہیں تو پورا ملک اپنے قائل و قامی افراد کی مدد کے لیے متحرک ہوجاتا ہے اور دھمکیوں سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔
 
عجीब اچھا ہوا ہے، اب یہ بھی دھمکیوں سے لبریز ہوا ہے… شوقیہ کی بیٹی اور ماں کا واقعہ بہت غیرAcceptable ہوا ہے، مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے پر یہ ایک گھنے حالات کو بنایا ہوا ہے… پورے ملک کے لوگ اس کی تلاز میں ہیں اور اپنی نجی عادتوں کے لئے نہیں، اب وہ بھی تشدد اور غیرت سے بچنے والے ہوں گے…
 
ایسا کچھ ہوا ہوا کئی دنوں پہلے میں کراچی میں، جیسے کہ تھانڈور اٹاکر کی گلی میں ایک مین ہول میں ایک خاتون اور اس کا بچہ گر کر جاں بحق ہوئیں، پھر وہاں کئی دنوں سے ایک ٹرولر ریکارڈ کیے جا رہے تھے اور نیند کو لینے والے لوگوں کی جان لی گئی، یہاں تک کہ پولیس نے ان لوگوں کو بھی گرفتار کر لیا تھا، ہو سکتا ہے اس سے متعلق ہوا کئی دنوں پہلے ہوئی ہوں گی، حالانکہ یہ واضح نہیں ہے کہ ایسا واقعہ تھا یا نہ تھا۔
 
ایسا تو واقعہ تو galat hai, koi bhi maa aur beta ko darr dena nahin chahiye. police ke saath isse judne ka koi justification nahi hai, kya police ko galat pata laga dena padta hai?

meri rahasya baat ye hai ki jab maine apni beti ko school le jana tha to mujhe bhi darr lagti thi. lekin maine apne dil ka faisla karke chalna shuru kiya, kyunki main jaanti thi ki darr nahi se kuch bhi milta hai.

main sochta hoon kyunki yeh ek galat aur vyavaharik mahol hai. police ke saath isse judne ka koi maqsad nahi hai, sirf taqat ko darana chahiye?
 
جب شوقیہ کی بیٹی اور ماں کا مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوئیں تو یہ واقعہ دھمکیوں سے لبریز ہوا ہے، اب ان کی پوری قوم اور اس معاملے کے متعلق ایک نئی بات چیت شروع کرنے والے لوگ متحرک ہوئے ہیں. یہ واقعہ جسے شوقیہ کی پوری قوم نے دیکھا ہے وہ تو غلطیوں اور ناواقفیت سے भरپور ہوا ہے، اور اب یہ معاملہ ایک نئی بات چیت کی نشاندہی کرتا ہے۔
 
یہ واقعہ دھمکیوں سے لبریز ہوا ہے، جس کی وجہ شوقیہ کی بیٹی اور ماں کا مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے پر نہیں بلکہ ان کے شوہر غلام مرتضیٰ کے خوف سے ہوئی ہے، اگر وہ اس واقعے میں شامل ہو جاتے تو وہ بھی دھمکیاں دیتے اور ایسا کرنے کے لیے ان کی قوم کو بھگोडنا چاہتے۔
 
اس واقعے سے مجھے بھی غصہ ہوا ہے، پھر تو یہ کیسا سیکھنے والا عالمی سامع تھا کہ جب لوگ اپنی بیٹی اور دوسری خواتین کو ایسے حالات میں ملا کر کے لٹکایا جائے تو ان کی جان سے بچنے کے لیے ہمیشہ سے ہی پہلے ہی کہا تھا اور اب بھی کہتے رہتے ہیں... شوقیہ کی بیٹی اور ماں کو اس قدر دوسرائیں کیا گیا ہے، یہ تو ایک بدترین معاملہ ہے...
 
اس واقعہ پر غور کرنے والا، وہ لوگ جنھیں یہ دیکھنا پڑ رہا ہے وہ اچھی سے جانتے ہیں کہ پولیس کا کردار کیونکھی گنجائیش ہو سکتی ہے۔

ماں بچوں کو ڈال کر دباؤ لگاتے وہ پتہ چلتے ہیں کہ اس سے کیا حاصل ہوتا ہے؟ مگر وہ یہاں تک کہیں نہیں جاتے کہ وہ لوگ جو تشدد اور دباؤ میں پھنس رہے ہوتے ہیں ان کا سامنا کر سکتے ہیں۔
 
یہ واقعہ بہت غمکنہ ہے، شوقیہ کی بیٹی اور ماں کا مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے سے وہیں یہ دھمکیاں اٹھائی گئیں جیسے وہ اس واقعہ کی بدولت تازہ طور پر متحرک ہوئیں، اب ان کے شوہر نے بھی دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے، یہ بھی ایک اچھا نمونہ ہے کہ شوقیہ کی بیٹی اور ماں کے اس واقعے نے ان کے لوگوں میں تشدد اور غیرت سے لڑنے کی نئی پناہ ملا دی ہے، لیکن اب ایسا ہونا چاہیے کہ یہ واقعہ کسی نہ کوئی دباؤ یا تشدد سے متعلق نہ ہو جائے، بڑی نیند
 
اس واقعہ سے تو یہ بات صاف آتی ہے کہ ہم ایسے سول جسٹس کی بھی ضرورت ہے۔ پولیس کو لاوڑنے والا دباؤ ڈالنا اور جاسوسی بننا ناکام رہتا ہے، پھر کیا اسے کسی کی ذمہ داری سے نمٹنا چاہیے؟ اس واقعہ سے یہ بات بھی صاف آتی ہے کہ شوقیہ کی بیٹی اور ماں نے اپنے حق کو واضع کیا ہے اور اب بھی انھیں ان کے حق میں لڑنا چاہیے۔
 
اس واقعے پر غاضت نہ ہونے کی بات سمجھی جائے تو شوقیہ کی بیٹی اور ماں کو دباؤ اور تشدد کا سامنا ہو رہا ہے، ایسے میچ میں انسان کس حد تک استعمال پہنچا سکتا ہے؟
 
واپس
Top