لاہور: سیوریج لائن میں گرنے والی 10 ماہ کی بچی کی لاش مل گئی

اس افسوسناک واقعہ میں ایک دس ماہ کی بچی اور اس کے ساتھ خاتون داتا دربار کے قریب سیوریج لائن پر گر گئیں جہاں حفاظتی ڈھکن نہیں تھے۔ یہ واقعہ ٹیپا کے ترقیاتی منصوبے کے دوران پیش آیا جہاں ریسکیو حکام نے اس وقت تک لائن کے اندر دونوں کی لاشیں نکال لیں جب تک ان کی جانچ نہ ہوئی۔

پولیس اور ریسکیو ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ ٹیپا کے منصوبے کے دوران پیش آیا جہاں حفاظتی ڈھکن نہیں تھے۔ شہریوں کو اس کے بارے میں کوئی واضح جانچ کیا گیا یا انہیں اہلکار کو جسٹ آؤٹ نہ ہونے کی کھوج کرنے کو بھی کبھی کہا گیا تھا، جس سے اس واقعات میں اپنی جانچ نہ ہوئی۔

واقعے کے وقت خاتون اور بچے کی لاش دیکھ کر شہر میں ہلچل پڑی اور لوگوں نے اپنی طرف سے ملاقات کرلی۔ اس واقعے کو پھیلانے والے افراد کا نام ابھی تک مشہور نہیں ہوا جو جس وقت یہ واقعہ پیش آیا وہیں تھے۔

شہر میں ایک سے دو گھنٹوں کا ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا جس کے بعد خاتون اور بچے کی لاش برآمد کی گئیں، اس وقت تک خواتین نے اپنی جانچ کرلی اور ان کی لاش نکال لی گئی۔

اس واقعہ کو ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ یہ واقعہ ایک سے دو گھنٹوں تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے بعد پیش آیا اور اس وقت تک لاش نکال لی گئی جو 10 ماہ کی بچوں کی عمر تھی۔

شہر میں کئی لوگ ابھی تک ایسا کیا ہے کہ وہ ان شہریوں کو اپنی جانچ کرنے سے بھگت جاتے ہیں جن کی مدد سے ایسی پریشانی کا سامنا ہوتا ہے لیکن یہ واقعہ ابھی تک اس شہر میں پیش آیا ہے جس نے کئی بار ان شہروں کو اپنی جانچ کرنے سے بھگتایا ہے۔

واقعہ کی ابتدائی تحقیقات میں ٹیپا کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جس کے لیے اس کی چیف انجینئر اقرار حسین نے وضاحت طلب کی ہے۔ اس واقعے پر حکومت پنجاب نے ایک پانچ رکنی کمیٹی بھی قائم کر دی ہے جو ذمہ داروں کا تعین کریگی اور آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔
 
یہ واقعہ ہمارے سامنے اپنی جان لے کر دلاتا ہے۔ اس شہر میں ابھی تک کیا جا رہا ہے، لوگ ایسی پریشانیوں سے بھگت رہتے ہیں، لیکن کسی نے اپنی جانچ کرنے کی کوئی ایسے اقدام کیا ہے؟ یہ واقعہ ہمیں اس بات پر reminded کرتا ہے کہ ہم لوگ اپنی صحت کو بھگتایا کرونے کے بجائے، اپنی سوانح زندگی میں تبدیلی لائیں۔ ہر ایسے واقعے کی جسٹ آؤٹ نہیں ہونے پر دکھا دیا جاسکتا تھا، اس سے کوئی نتیجہ اور Lesson اچھی طرح مل جاتا۔
 
یہ اس بات کو ٹھیک سے سمجھنا چاہیے کہ کئی بار ہوتا ہے جب ان شہروں میں پریشانی کا سامنا ہوتا ہے، تو ابھی نہیں ٹھیک ہوتا، پھر نہیں اس طرح سے جاری رہتا، یہ واقعات بہت بہادرانہ ہیں اور میں صرف اس پر فخر کرتا ہوں کہ شہری ایسے وقت تک اپنی جانچ کرلیں جب ان کی مدد سے کسی پریشانی کا سامنا ہوتا ہے۔
🙏
 
اس واقعہ میں ان کی جانچ نہ ہونے کی واضح پوری نہیں تھی، شہر میں لوگ ایسا کیا ہے کہ اگر کوئی شخص بھوکے لگ رہا ہو تو ان کی مدد کرنے سے پرہیز کرتے ہیں لیکن ایسی پریشانی کے بارے میں جانچ نہ ہونے والے لوگ اچھے ہوتے ہیں؟ یہ معیار صرف وہی ہوا سکتا ہے جو ان شہروں کے رہائشیوں کو ایسا محسوس کرنے دو۔
 
یہ ایک بھیڑ ہے جن میں کسی کی جانب سے بھی ناانصاف نہیں کیا جا سکتا اور پوری وہ شامتیں یہ توقع کرنا مشکل ہے کہ ناکامیوں پر یومہویں فائدہ حاصل ہوا ہو گا، لاشیں برآمد کی جائیں گئیں لیکن جو پوری وہ حیرت مگر سکون سے بھی آگے آ رہی ہے اس کا یہی نتیجہ ہو گا، شہر میں کوئی اور اس طرح کا واقعہ ابھی تک نہیں پیش آیا لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اگر وہی فوری عمل کیا جاتا تو یہ واقعہ نہیں ہو پتا
 
اس واقعے سے ہر شہری گھبرا رہا ہے، مگر یہ بات یقینی طور پر نہیں تھی کہ ایک دس ماہ کی بچی اور اس کے ساتھ خاتون کو پھیلانے والوں کا نام ابھی تک مشہور ہو گya ہے। شہر میں ہلچل پڑنے کے بعد ان کا جسٹ آؤٹ نہ ہونے پر بھی کوئی واضح جواب نہیں مل سکا، یہی ہدایت کر رہا تھا اور اب پانچ رکنی کمیٹی قائم کی جارہی ہے۔

تومorrow کے بہानے ان شہروں میں آؤٹ نہ ہونے پر ملاقات کرنے والے لوگ ابھی تک اپنی جانچ نہیں کرتے، لیکن یہ واقعہ تو اس کا ایک بدلہ ہے۔
 
یہ واقعہ اتناہی تھا کہ یہ سب سے پہلے ایسا ہوا جو اپنی جگہ ہار گئے لوگوں کو اس طرح دکھایا کہ کیا ان کی جانچ ہونے سے بھی فائدہ کب نہ ہو سکتا۔ آپریشنز فیصل کامران سے بہت کچھ بتایا گیا تھا اور یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ڈی آئی جی کو بھی ان شہروں میں اپنی جگہ ہارنے والے لوگوں کی مدد سے ڈیزائن کرنا چاہیے۔
 
یہ واقعہ بہت گھبراہٹ دلاتا ہے، یہ سمجھنا بڑی مشکل ہے کہ ریسکیو کی جانچ اور حفاظتی پابندی کیسے نہیں تھی اور شہر میں ان شہریوں کو اپنی جانچ کرنے سے بھگتنا چاہیے؟ 10 ماہ کی بچی اور خاتون داتا دربار کے قریب جب پانی میں گر گئیں، تو یہ ڈیرہ کو لینے والوں نے ان کا سامنا کیا اور اس صورتحال کو پھیلانے والے نہیں بتایا گیا؟

اس واقعے سے سمجھ ملا ہے کہ شہر میں ایسی سڑکوں کی جگہوں پر حفاظتی پابندی نہیں ہونی چاہئی، اس لیے نہ ہی لاشون کو نکالنا چاہئیے اور نہ ہی شہروں میں ایسی پریشانی کو سمجھنے والوں کے ساتھ بھگتنا چاہئی۔
 
یہ ایک تباہ کن واقعہ ہے جس نے شہر کو اپنی طرف سے متاثر کر دیا ہے، لاشوں کی برآمد کرتے وقت ملاقات کرلی گئی، یہ تو انتہائی غیرمستقبلہ ہے اور بچے کی عمر 10 ماہ تھی جو ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

اس سے پہلے کیا کچھ ہوگا؟ شہروں میں اپنی جانچ کرنا اور لوگوں کو بھگتانا، یہ صرف ایک بات ہی ہے جس سے اس قدر تباہ کن واقعہ پیش آیا ہے۔

رہو ایک بار اپنی جانچ کرلینا، اس کا مطلب کچھ نہ کچھ ہوتا ہے، اور لوگوں کو بھگتانا تو یہ سے پہلے کچھ لگتا ہے۔

اس واقعے کو اپنی جگہ پر ملا رکھنا، اسے فیکٹریوں اور یونیورسٹیوں میں بھی شامل کرنا۔
 
یہ واقعہ بہت افسوسناک ہے، اس میں 10 ماہ کی بچے کی جان اور ایک خاتون کی جان ہوئی ہے جس کے لیے سارے شہر میں ہلچل پڑی ہے اور لوگ اپنی طرف سے ملاقات کرلیے ہیں۔ یہ ایک بے مثال غم و کامیاب ہے جس کا سامنا ہر شہر میں ہو رہا ہے اور اس سے کوئی بھی شہر آزاد نہیں ہو سکتا۔
 
یہ واقعہ تو ہر کس کو گھبرا لگتا ہے، چاہے وہ شہر کے رہنے والے ہوں یا نہیں۔ ایک دوسری جگہ کے لوگوں کے لیے یہ اس بچے کی لاش کو دیکھ کر اور اس شہر میں ہونے والی پریشانیوں پر غور کرکے ایسا ہے جیسا کہ یہ واقعہ ہوا اور ایسا ہونا تھا اس لیے جو کم سے کم نہیں تھا۔ آج کل کے وقت میں، بچوں کو اپنی جانچ کرنے کی بھی لازمی اہداف ہونے چاہئیں۔
 
یہ واقعہ تو انتہائی افسوسناک ہے، مجھے پتا چلega کہ شہر میں ایسا سے ہو رہا ہے۔ یہ بچی اور خاتون داتا دربار کے قریب سیوریج لائن پر جھونگ پڑنے کی واضح جائیکہ تھی، لیکن سارے سے سارے شہری ایسا ہی ہوا ۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ اور یہ بھی کیسے نہیں ہوا کہ کوئی ان لوگوں کی جانچ کرے جس نے انہیں ہلا کر دے دیا؟

جب میں گریجویشن میں ہوں تو مجھے یہ سیکھنا ہی پڑا تھا کہ ہر شہر میں ایسا ہوتا ہے جو کہ بچوں اور خواتین کو لاکھوں کی قیمت میں لے جاتا ہے، یہ راز ہمیں نہیں سمجھنے دیتے۔
 
عجیب کے عجیب، یہ واقعہ ڈی آئی جی آپریشنز کی فہم نہیں تھی کہ کیسے لائن پر شعبہ چھپا ہوا ہو سکے؟ اور یہ پھیلانے والا شخص ابھی تک دیکھنا نہیں گیا، یہ کچھ متعقلی ہے! 🤔

اس سے بات چیت کرنی چاہئی تھی اور شعبۂ چھپانے والوں کو جسٹ آؤٹ نہ ہونے کی جانچ کرنی چاہئی تھی، حالانکہ وہ لوگ جو پہلے سے ہی لائن پر کام کرتے تھے تو وہیں ٹریننگ دیتے تھے اور شعبۂ چھپانے کو بھی جانتے تھے! 🚧

اس کے بعد یہ دیکھنا ہی نہیں گی کہ یہ سارے لوگ کیسے کام کرتے ہیں اور اس سے پہلے یہ کس طرح منصوبہ بند تھا! 🤯
 
یہ بات کھونے پر تنگ آ گیا ہے، ٹیپا کے منصوبے میں لاشوں کی جانچ کو کیسے نہیں کیا جاسکتا؟ شہر میں ایسے لوگوں کی بھی اچھی طرح واضح جانچ ہونا چاہیے جو اس طرح کے واقعات سے پہلے اس مقام پر موجود ہوتے ہیں۔ لاشوں کی جانچ کی کوئی بھی کمی نہیں ہونے دی، یہ صرف ایک اور گھنٹا چلنا پڑا جس سے کتنے خواتین کو تھکا ہوا یا مایوس ہوئی؟

ان کی جانچ نہ ہونے کی وجہ سے ان کے قریب ہی شہر میں بڑا ہلچل اور مظاہرے ہو گئے، یہ کس طرح ایک معقولیت کے ساتھ ہونا چاہیے جس پر شہریان اپنی جانچ کرنے کو مجبور نہ ہوں؟ اس واقعے میں بھی لاشوں کی جانچ کی کمی نہیں تھی، یہ صرف اور صرف ایک نئے منصوبے کا عذاب تھا جو شہر کے اہلکاروں کو جب تک کرنا پڑا...
 
یہ واضح ہے کہ ٹیپا کے منصوبے میں سے ایسے واقعات جیسے یہ پیدا ہوتے ہیں تو اسے پھیلانے والے لوگ اپنی جانچ نہیں کرتے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ جب ایک سے دو گھنٹوں میں ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تو ان شہریوں کو اور اس وقت تک لاش نکال لی گئی جس تک خواتین نے اپنی جانچ کرلی، یہ بھی یہ بات ہے کہ اس واقعے کی ابتدائی تحقیقات میں ٹیپا کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے اور اس کی چیف انجینئر اقرار حسین نے وضاحت طلب کی ہے #ٹیپاکرایون #شہریجانچ #واقعات_سہی #سکائیؤئٹم
 
اس واقعہ کو دیکھتے ہی میرے دل میں یہ بات چلتी ہے کہ کیا ہو سکتا ہے یہ ریسکیو آپریشن جس پر ان لاشوں کو نکالنا پڑا تھا وہ ایک ایسا کامیاب منصوبہ ہونا چاہیے جو مین نہیں دیکھ سکا ۔ میرے خیال میں اس شہر کے ریسکیو آپریشن کو ہلچل سے ہٹانا چاہئے لیکن یہ بات کہیں بھی نہیں کی جاسکتی کہ اس شہر میڰ لوگ اپنی جانچ کرنے سے بھگت جاتے ہیں میرا خواہش ہے کہ ایسے نہ ہونے دئیں۔

:-(
 
یہ واقعہ دھوکہ ڈالنے کی جگہ ہے، ٹیپا کو ذمہ دار قرار دیئے بھی ہیں لیکن اس کا پورے شہر پر اثر اچھا نہیں لگ رہا، ریسکیو آپریشن میں ایسے لوگ شامل ہوئے جو ان شہروں سے گزرتے ہیں جو اپنی جانچ کرنے سے بھگت جاتے ہیں، یہ تو لاشوں کو نکالنا چاہئے لیکن ان شہروں میں سے نکلنے کی دیکھ بھال کیسے کرے?
 
واپس
Top