لاہور میں ایک واقعہ اس وقت ابھرا جب سوشل مीडیا پر ایک یوٹیوبر، ذوالقرنین سکندر نے اپنے پرینک شو میں باوردی پولیس اہلکار کو شامل کیا۔ اس سے بعد میں پوری شہر میں لگن پڑ گئی جس نے یوٹیوبر کی شرارتیوں پر توجہ مبذول کر لی اور ان کے ساتھ آگے بڑھ کر پولیس اہلکار کو اس کے کہنے پر فوراً کاروائی میں شریک کر دیا۔
یوٹیوبر نے اپنے دوستوں کو میرے بھائیوں کی فلیٹ پر ریڈ کرنا اور انہیں تھپڑ مارنا کہا اور اس کے ساتھ ہی انہیں یقینی طور پر باوردی اہلکار بھی شامل کر دیا۔ اس ویڈیو نے بہت سارے لوگوں کو دیکھا جس سے یہ بات واضع ہوگئی کہ یہ واقعہ یوٹیوبرز کی شرارتیوں پر مشتمل تھا اور ان کے ساتھ پوری شہر میں لگن پڑ گئی۔
پولیس اہلکار نے نوجوانوں کو جھوٹی جوا بازی کی الزامیت کرکے تھانے لے جانے کی دھمکیاں دیں جس سے شہر میں ایک شدید تشویش پیدا ہوئی۔ اس واقعے نے سوشل مीडیا پر بھی ایک وائرل ویڈیو بنا لیا جس سے عوام کے منظرنظرہ کا بھی اچھا اندازہ ملتا ہے۔
اس واقعات نے شہر میں ایک پریشانی پیدا کر دی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ یوٹیوبرز کی شرارتیاں دیکھتے ہیں ان کو یہ بات واضع ہوچکی ہے کہ سوشل مीडیا پر شروعات کرنے سے پہلے اپنے فہرستوں میں ایسا نہیں لکھنا چاہئے جس کی وجہ سے آپ کو ایسا ہوا کہ اپنی زندگی کو آپس میں جھولنا پڑے۔
ایسا واقعہ ہوتا ہے تو یوٹیوبر کی شرارتیاں اس وقت تک تھیں کہ وہ اپنے پرینک شو میں باوردی پولیس اہلکار کو شامل کر دیں । اب یہ بات واضع ہوگئی کہ جب آپ سوشل مीडیا پر شروعات کرنے والا ہوتے ہیں تو اپنی فہرستوں میں اسی طرح کی شرارتیاں نہ لکھیں، نہ کہ آپ کو ایسا ہوا کہ اپنی زندگی کو آپس میں جھولنا پڑے۔
اس واقعے سے یہ بات واضع ہوگئی کہ سوشل مीडیا پر شروعات کرنے کا ایک اہم طریقہ ہے کہ اپنی فہرستوں میں ایسا کوئی بھی لکھیں جو آپ کی زندگی کو آپس میں نہ جھولے۔
یوٹیوبر ذوالقرنین سکندر کی ان شرارتیوں نے شہر میں لگن پھیلائی ہے اور یہ بات بھی واضع ہوگئی کہ ان کے پرینک شو میں باوردی پولیس اہلکار کو شامل کرنا ایک بڑاخطہ تھا! اس سے پہلے، انہوں نے اپنے دوستوں کو میرے بھائیوں کی فلیٹ پر ریڈ کرنا کہا اور انہیں تھپڑ مارنا! اس سے پہلے، لگتا ہے کہ انہوں نے یہ سب ایک جھوٹا مظاہرہ کیا تھا! اب، شہر میں ایک شدید تشویش پائی گئی ہے اور سوشل مीडیا پر بھی ایک وائرل ویڈیو بنا لیا ہے!
اس یوٹیوبر کی شرارتیاں تو واضح تھیں اور اس نے صرف ایک بات سچائی بھی کہی... آپ کو پتہ چل گیا ہوگا کہ اس جیسے لوگوں کا رویہ نہیں ہونا چاہئے۔ میرے خیال میں یہ سوشل مीडیا پر لگن پڑنے والی چیز ہے، کہ لوگ اپنی منسلکتیوں کو دیکھتے ہیں اور اس سے ان کی زندگی کا پچھلا رخ دیکھتا ہے۔
اس وقت یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ جو لوگ سوشل مीडیا پر اپنے حبibiں یا دوستوں کی فلیٹس کو ریڈ کرنا اور ان کو تھپڑ مارنا چاہتے ہیں وہ تو ناقابل عذاب ہیں۔
میں اس سے ایک بات سوچ رہا ہوں کہ یہ واقعات ہمیں ایسی اشیا کی پرہیزی کرتا ہے جو ہماری ایsi زندگی کو آپس میں جھولتی ہے... اور اس کے لیے بھی یہ بات اچھی ہے کہ لوگ اس طرح کی شرارتیوں سے انکار کر دیتے رہتے ہیں۔
اس واقعات نے مجھے تو اچھی طرح متاثر کیا! یوٹیوبر کی شروعات کرنے والے لوگ اس بات پر توجہ دینا چاہئیں کہ ان کے پرینک شو میں اسی طرح کی شرارتیاں نہیں ہوتی۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو بھی اس پر توجہ دےنی چاہئیں اور یقینی طور پر ان کی مدد کریں۔
اس ویڈیو نے مجھے بھی سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ سوشل مीडیا پر کوئی بھی بات یا کارروائی اس پر مبنی ہونے سے پہلے اس کے اثرات کو سمجھنا چاہئیں۔ مجھے یہ بھی لگتا ہۈں کہ یہ ویڈیو ہمارے سوشل مीडیا پلیٹ فارم پر ایک اچھی پریشان کن بات ہے جو ہمیں اس بات پر توجہ دینا چاہیں گی کہ جب بھی کوئی نئی بات یا کارروائی ہوتی ہے تو ہم اس کے اثرات کو سمجھتے ہیں اور ایسی سٹریٹيجی پر عمل کرتے ہیں جو ہماری زندگی کے لئے بہتر ہو۔
بہت غیروں کی بات ہے ان لوگوں پر چڑھنے والے یوٹیوبر کے ساتھ۔ وہاں تک کہ وہ اپنے دوستوں کو میرے بھائیوں کی فلیٹ پر ریڈ کرنے اور انہیں تھپڑ مارنے کہتے ہیں، یہ کیا حقیقت نہیں کہ وہ اپنی بیکاریت کو دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں? اور پھر ان کا ایسا ہی انٹر ویو میں شامل ہونا جو کسی نوجوان کو تنگ کرنے پر مجبور کر دے! اور یہ بھی کافی بدترین بات ہے کہ پولیس نے وہیڈیٹیو کارروائی میں شامل ہونے کی دھمکیاں دیں، یہی ان کو ایک جھوٹی جوا باز کے طور پر پیش کرنے کی بھی مجبور کر رہے ہیں!
بھائیوں! یہ بات واضع ہوگئی ہے کہ سوشل مीडیا پر شروعات کرنے والے لوگوں کو اپنی زندگی کو ایسا نہ لگانا چاہئے جو اس سے کسی کی شرارتیوں پر توجہ مبذول ہوئی ہو! یوٹیوبر نے ایسا ہی کیا جس سے اسے اپنے کہنے پر فوراً کاروائی میں شریک کر دی گئی! وہ ان کھلے دل کی باتیں سے پھنس گیا ہے۔ اب تو یہ بات واضع ہوگئی ہے کہ جب سے آپ اپنی زندگی کو ایسا لگاتے ہیں اس سے آپ کو ایسا بھی ہوا کرتا ہے!
یوٹیوبر کا یہ hành động بہت ہی خطرناک ہے، نوجوانوں کی جان و مال پر زور دیتا ہے اور وہ ایسا کیا کہ اس نے شہر پوری طرح میں لگایا ہے۔ یہ بات سے بھی بڑی تنگ آگے نہیں ہو سکتی کہ وہ اچھے اور منفی دونوں فہرستوں میں لکھتے رہتے ہیں، وہ جانتا ہے کہ اس سے اپنی زندگی کو آپس میں جھولنا پڑے گی اور یہ لوگ ان کا بھی استحصال کرنے کا فائدہ اٹھائے گئے ہوں گے۔
بچوں کو لڑائی چاہیے یا لڑائی کرنا?! یہ نوجوان، میرے بچوں کی زندگی کس طرح واضع ہوسکتی ہے کہ انہیں لڑائی چاہیے اور اس سے پہلے اپنی زندگی کو آپس میں جھولنا پڈی?! یوٹیوبر نے بھائیوں کی فلیٹ پر ریڈ کرنے، تھپڑ مارنے اور اس ساتھ ہی انہیں باوردی اہلکار بھی شامل کرنا... یہ کیا شہر میں ناکام لڑائیوں کی پریشانی کو پہنچایا!
وہ واقعہ یوٹیوبر سکندر نے باوردی پولیس اہلکار کو شامل کرنے سے لگتا ہے واضع اور کہینا ہوتا ہے کہ یہ کیا ہوا تھا اس نے اپنی شرارتیوں کی وجہ سے شہر میں لگن پڑی اور لوگ اس پر توجہ مبذول کر گئے۔
اس واقعات کے بعد یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ سوشل مीडیا پر شروعات کرنے سے پہلے آپ کو اپنی فہرستوں میں کچھ بھی نہیں لکھنا چاہئے جو آپ کی زندگی کو آپس میں جھول سکیں اور یہ بات بھی تازگ ہو گئی ہے کہ یوٹیوبرز کی شرارتیاں کے خلاف صریح کروائی جانے کی ضرورت ہے۔
عوام پر زیادتی کے واقعات ہوتے تو بے شمار نوجوان محنت کر کے ایک یوٹیوبر بن سکتے ہیں اور وہ اس میں اپنی شرارت کو دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں یہ سب ایک گہری problem ہے جو سوشل مीडیا کی وجہ سے پورے ملک میں فیل ہوگئی ہے اور اب وہی ہوتا جاتا ہے کہ لوگ ایسے یوٹیوبرز پر دیکھتے ہیں جو اپنی شرارت کو دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس سے نوجوانوں کو بھی ایسا ہوا کہ وہ اپنے جذبات کو جھولنا پڑتے ہیں...اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں سوشل مीडیا پر اپنی زندگی کو دکھانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے!
یوٹیوبر نے اس پرینک شو میں باوردی پولیس اہلکار کو شامل کر دیا جو کہ وہی بات ہے جو آپ کی شام کے وقت جھنکتے ہیں پھر شہر میں لگن پڑ گئی اور لوگ یوٹیوبر کی شرارتیوں پر دیکھ رہے تھے تو یہ بات ہوا کہ اس نے اپنے دوستوں کو میرے بھائیوں کی فلیٹ پر ریڈ کرنا اور انہیں تھپڑ مارنا کہا
مگر یہ بات واضع ہو گئی کہ یہ واقعہ یوٹیوبرز کی شرارتیوں پر مشتمل تھا اور ان کے ساتھ پوری شہر میں لگن پڑ گئی تو اب یہ بات ہوا کہ لوگ اپنی زندگی کو آپس میں جھولنا پڑتے ہیں اور اس پر وہی بات ہے جو آپ کی شام کے وقت جھنکتے ہیں
یہ واقعہ اس بات کی شہرت دے رہا ہے کہ سوشل مीडیا پر جو لوگ اپنے بچوں کو لاکھوں کے لئے دکھائی دیتے ہیں وہ اس کی شرارتیوں کا شکار ہوسکتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ سوشل مीडیا پر اپنے بچوں کو دکھانا ایسا ہے جیسے آپ انہیں پریشانی کا شکار کر رہے ہیں۔ اور یوٹیوبر نے بھی اسے اپنے بچوں کو دکھایا ہے؟ یہ وہی بات ہے جو میرے جسیرے سے بتاتے رہتے ہیں کہ نوجوان بڑی تیزی سے اس کی دنیا میں آ رہے ہیں اور ان کا سوشل مीडیا پر دھکوسنا ایسی بات ہے جس سے آپ کو پریشانی ہوتے ہیں۔
اس واقعات نے مجھے کافی دکھا دیا ہے. یوٹیوبر اس سوشل مीडیا پر لگ رہا تھا جو ابھی بھی نوجوانوں کی زندگی کو آپس میں جھولنے والا ہے. ان کے اس Behaviour کو دیکھ کر مجھے یہ بات واضع ہوئی کہ سوشل مीडیا ایک اچھی चیز نہیں ہوتی جب تک آپ اپنے فہرستوں میں حقیقی آپ کو شامل نہیں کرتے. یہ کئی جگہوں پر بھی دکھائی دے رہا ہے کیںک شاہد، آئیسکیولٹور اور ڈنوڈی نے بھی ایسی حقیقت کو چھپایا تھا. اب پوری ملک میں اس پر یقین رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے.
یہ وائرل ویڈیو دیکھتے ہی میرا دماغ ٹک کر گیا ہے، یوٹیوبر نے ایسا کیا جس سے کوئی بھی آدمی اس طرح کا سلوک کرنے کی تاخیر کرتا ہے، باورگی پولیس اہلکار کو بھی شامل کیا، یہ سارے لوگوں کے سامنے ایسا ہونے کا سبق ہے، نوجوانوں کے منظرنظرہ کو دیکھتے ہی یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سوشل مीडیا پر ایسا سلوک کرنا بھی نہیں چاہئے، شہر میں اس طرح کی لگن پڑنے سے پہلے کچھ سوچ سکتے ہیں، کبھی کوئی بھی آدمی اپنی زندگی کو آپس میں نہیں جھولا ہوتا۔
اس واقعہ کے بعد اور اس کے بعد کی نتیجت یوٹیوبر نے کیا؟ وہی کچھ کھانے والا تھا جو میں 10 سال پہلے اپنے بھائیوں کے فلیٹ پر کھاتا تھا. اور اب وہ یہی کھیل رہے ہیں جس کی وجہ سے مجھے پچاس سال پہلے تھپڑ مارا گیا تھا.
لگتا ہے سوشل مीडیا پر اپنی آواز بلند کرنے کے لیے کسی کی بات کو جھٹلایا جا رہا ہے اور وہی بات جس نے مجھے 20 سال پہلے ایک دوسرے شخص سے لڑتے ہوئے ایک پریشانی پیدا کی تھی. اب کچھ لوگ اس بات کو اچھا قرار دیتے ہیں کہ وہ یہی کھیل رہے ہیں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ان کی بات سے پہلے ایک ایسا فہرست بنایا جاتا تھا جو کہ مجھے اپنی زندگی میں کوئی نا کوئی چیلنج دیتا تھا.
یوٹیوبر نے بھائیوں کو تھپڑ مارنا اور انہیں باوردی پولیس اہلکار سے ملنا کہا تو یہ جنت کی ایک ہی دنیا ہے ، پوری شہر میں لگن پڑ گئی جو اس بات کو واضع کرتا ہے کہ سوشل مीडیا پر شروعات کرنا ایسا نہیں ہوتا جس سے آپ کا حیات ختم ہو جائے۔
اس واقعے نے مجھے بھی توجہ مبذول کرائی ہے، یوٹیوبر کو اس کی شرارتیاں سوشل مीडیا پر دکھانے کی وجہ سے آپ کو جس قدر گمراہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہی نوجوانوں کو بھی ہوتا ہے۔ اس کا ایسا نہیں بننا چاہئے کہ آپ اپنے سوشل میڈیا پروفیلا میں کوئی بات لکھوں جو آپ کی زندگی کے ساتھ نہ موافقت کرے، ہمیں اس کے بارے میں سوچنا چاہئے کہ اس سے یہ نوجوان کس طرح متاثر ہوتے ہیں۔