Lahore: Three Walled City Authority officials suspended over controversial song Nak Da koka | Express News

ٹریولر

Well-known member
لاہور میں والڈ سٹی اتھارٹی کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں متنازع گانا "نک دا کوکا" گائے جانے کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کی وجہ سے اتھارٹی نے اپنے تین اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔ ان میں احسن، عماد اور عبد الرحمان شامل ہیں جس کے بعد متعلقہ افسر نے اپنی ذمہ داریاں درست طریقے سے نہیں کیں، اس پر محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

یہ واقعہ ایسے بعد سامنے آیا جب "نک دا کوکا" گانا والڈ سٹی اتھارٹی کے زیرِ اہتمام تقریب میں گایا گیا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور یہ واقعہ اتھارٹی کی ساکھ کے منافی قرار دیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے قوال فراز خان اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے، تاہالInvestigation کے بعد جاری ہے اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کے امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
 
یہ واقعہ اتھارٹی کی جانب سے باطله کیا گیا ہے، وہ لوگ جو دوسرے گانے پکڑتے ہیں ان پر زیادتی کرتے ہیں اور اب اس نے اپنے ہی تین اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے، یہ تو بھرپور مظالم کی تاریخ ہے اور وہ لوگ جس پر دباؤ پڑا ہے ان کے ساتھی بھی معطل ہوں گے، یہ اتھارٹی کے لیے ایک گھناسا ہے
 
اس نئی رپورٹ کو سن کر میرا یہ خیال ہے کہ اہلکاروں کی ناکامی میں ایک بڑا معادل ہوا ہے… اس گانا کو چیلنجنگ سمجھا جانا چاہیے، اس سے انفرادی آزادی کی بات کرتے ہوئے …اس پر کسی نہ کسی درجہ سے تشدد بھی نہیں ہونا چاہیے… سوشل میڈیا پر اس گانا کو چیلنج کرنے والوں کی طرف تو، میرا شکر ہے کہ وہ اپنی آزادی کی بات کر رہے ہیں...
 
اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ وہ گانا منعقدہ تقریب سے قبل خود کو ایسا پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے جو اس کے بعد بھی اس کے لیے فائدہ دہ ثابت ہوگا. وہ لوگ جو سوشل میڈیا پر اس گانا کو منظم طور پر پروپगنڈہ کرتے رہتے ہیں، وہ اب اپنی اور دوسروں کی جانب سے ملوثیت کا ذمہ دار ہونے کے طور پر بھی لگ رہتے ہیں. پولیس کو اس کی فوری تلافی کرنے میں وقت لگ رہا ہے، اور یہ چیلنج ہے کہ وہ اسے جب تک ضرور نہیں سکتے. معطل کردے وقت ان اہلکاروں کو دوسروں پر بھارosa محسوس کرنا پڑے گا جو یہ دیکھتے ہیں کہ وہ غلطی کی جانب سے جاسوسی اور موتدیوار بن رہے ہیں.
 
اس گانا کی وجہ سے ایسے لोग اٹھتے ہیں جو معتدلے خیالات رکھتے ہیں، نہیں کہ لوگ اسے پسند کرنے کی خود کی اقدار ہوتے ہیں. یہ غلط فہمی کو بڑھاتا ہے جو بھی گانا سنیا، وہ وہی بات کرتا ہے.

اسکے بعد لوگ کس طرح سوچتے تھے اس پر اور ایسی معاملات میں قانون کی پابندی کا احترام ضروری ہوتا ہے.
 
🤣♂️ اچھا ہوا، والڈ سٹی اتھارٹی کو "نک دا کوکا" گانا کے بعد ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ ٹرائپل ایکسچینج میں ہار چुकے ہیں 🤦‍♂️😂.
 
عجيب نہ ہو گئی۔ یہ بھی ایک دوسرا مظاہرہ تھا جس پر پھر سے پولیس نے ڈرامہ بنایا ہے۔ ان لوگوں کو کیا غلطی کر رہے ہیں؟ وہ صرف اپنے گانا گاتے ہیں اور اس پر تلاواٹ کی جاتی ہے۔ بھارتی فلموں میں بھی ان کا یوہ سامان دیکھنا آتا ہے، ایسا تو بھی ہوتا رہا، لیکن ہم نہ تو توجہ دی اور نہ ہی اس پر پابندی لگائی۔
 
اس واقعے کی بھرپور تحریک کرنا اچھا ہو گا اس گانا پر، "نک دا کوکا" ایسا بن گیا ہے جو بھارپور ہوتا ہے۔ وہ سڑک گانے کی رہائی ہے جس سے لوگ اچھی طرح آNSر کرتے ہیں، اسے بھارپور بنانے والوں پر توجہ دیتا ہوں، انہیں اس گانا کو ایک پلیٹ فارم بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
 
ایسے حالات میں لوگ اپنی غلطیوں کو دوسروں کی سر فہرست میں لینے کا بھلایا سچا ہے، تو والڈ سٹی اتھارٹی نے اپنے تین اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے، ان کی غلطی کا سب سے بڑا شکر جوئے گا وہ یہ ہے کہ وہ نہیں لگائے ان کا معطل کرنا۔ اور پھر انہوں نے محکمانہ کارروائی کے درپیش ہالچ میں اپنی ذمہ داریاں نہیں کیں، یار اس کا بھلایا پورا ہوا اور اب وہ محکوم ہو گئے ہیں۔
 
واپس
Top