لندن کا آئندہ میئر کون ہے؟ مسلم خاتون امیدوار بھی میدان میں | Express News

سائنسدان

Well-known member
لندن میئر کے الیکشن میں ایک نئی ماحول پیدا ہوا ہے جس میں ایک مسلم خاتون امیدوار لیلیٰ کیننگھم شامل ہے جو ریفرم یوکے کی پارٹی سے اپنی امیدواری کا اعلان کر چکی ہے۔ اس بات کا بھی کہنا ہے کہ لیلیٰ کیننگھم میئر لندن صادق خان کی جانب سے جتنے واضح اعلان نہیں کیے گئے ان کے باوجود اس وقت سے ہی اس کی امیدواری متحرک ہوستی ہے۔

ریفرم یوکے کے رہنما نائجل فراج کا اعلان ہے کہ لندن کے آئندہ میئر الیکشن کے لیے لیلیٰ کیننگھم ہو گی۔ اس اعلان سے وہ متحرک ہوئیں جو حال ہی میں مقامی انتخابات اور پارٹی الیکشن میں ایسی امیدواری کو دیکھتے تھے جس کا مقصد ان کی متحرک کرنا ہے۔

لیلیٰ کیننگھم نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ اگر وہ میئر منتخب ہوئیں تو جرائم کے خلاف سخت کارروائی پر ان کی پہلی ترجیح ہو گی۔ انھوں نے لندن میں بڑھتے ہوئے چاقو بردار جرائم، منشیات، ڈکیتی اور جنسی جرائم جیسے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔

لیلیٰ کیننگھم کی یہ امیدواری ایسے میئر لندن چلانے کی ہے جس نے جرائم کے خلاف سخت کارروائی کی.
 
آرے، یہاں سے لکیریں اٹھیں! میرے خیال میں لندن میں ایسی ماحول پیدا ہونے کے باوجود کہ وہ مسلم خاتون امیدوار لیلیٰ کیننگھم کو دیکھا جائے تو یہ بھی نئی بات نہیں ہوگی کیوں کہ ہر سال ایسی بات ہوتی رہتی ہے۔

لیلیٰ کیننگھم کو میٹنے پہلے وہ جسے لندن میں پہلے سے بھی دیکھا گیا تھا، صادق خان ہی نہیں بلکہ اس کے بعد جسے چھوڑ کر وہی ہوسکتا ہے وہ ہوسکتا ہے!

انھوں نے میڈیا سے گفتگو کی اور کہا کہ اگر وہ میئر منتخب ہوجائیں تو جرائم کے خلاف سخت کارروائی پر ان کی پہلی ترجیح ہوگی۔ میں بھی یہی سے متفق ہوں، لندن میں چاقو بردار جرائم کو دور کرنا ہمارا ذمہ داری ہے!
 
لندن میں ایک نئی ماحول پیدا ہوا ہے؟ یہ بات سب سے پہلی ہے۔ لیلیٰ کیننگھم ایک نئا نام ہے جو لندن میں ایسی تبدیلی لانے والی ہوگی جو دیکھنا دھامکہ ہوگا۔ اس کی امیدواری سے شہر میں بدل avai bhi ho sakti hai.
 
تمہیں یہ بات بھی پتہ چل گا کہ لیلیٰ کیننگھم کو برطانوی ماحول میں وہ ایسی عورتیں دیکھ رہی ہیں جو اپنے سیاسی مسابقت سے بھرپور تعلقات بنانے میں اس کی مدد کر رہی ہیں. لیکن وہ ایسی عورت بھی ہیں جس کا مقصد لندن کے میئر کو اپنی جماعت کے نام پر نہیں ملنے دیکھنا ہو گا۔ وہ سچ چاہتی ہیں کہ ایسا کیا جائے، یہ ان کی سرگرمیوں میں شامل ہے.
 
لندن کا upcoming meyer election toh ek alag mood hai, jahan ek Muslim woman Lilia Kencingham bhi aai hai, jo referendum UK ki party se apni ummidari ka announcement kar chuki hai. Sath hi, Lilia Kencingham ko Mayor London Sadique Khan ki taraf se koi clear announcement nahi ki gayi, lekin usse hum samay se hi methust ho rahi hai.

Refom UK ke leader Nigel Faraj ne announcement kiya hai ki Lilia Kencingham London ke aage meyer election mein win hoga. Is announcement se woh aapko meet huji jise kuch samay pe local elections aur party elections mein dekhne ko mila tha jo unki methust karne ka target tha.
 
🤔 London ke mayoor ke election mein ek naya maujuda hai jismein ek musalman khatoon Lillah Keningham shaamil hai jo Refrom UK ki party se apni ummidavari ka anoulan kar chuki hai. 🚨

Main sochta hoon ki yeh Lillah Keningham ki taraf se shuru hone wala naya maujuda London ke mayoor ke election mein ek naya tareeka lekar aana hai. Unhone sadq Khan kee taraf se jtaney vazzah anoulan nahin kienay ke baad bhi unki ummidavari metehuri housti hai.

Refrom UK ka rahnwa Naijl Fradeh ka anoulan hai ki Lillah Keningham London ke aagee mayoor election ke liye hogi. Yeh anoulan se uski taraf se metehuri housti hai jo hal hi me mukhya elecshon aur party eleckshon mein ek si ummidavari ko dekhti thi jise unka metehur karne ka uthna hai.

Lillah Keningham ne media se galti mein bataya hai ki agar wo mayoor chune gayi toh gairzaimi kaa khilaaf kathor carwai par uski pehli tareef hogi. Unhone London mein badhte hue chaaku baradar jeraim, manshiyaat, dekikti aur jansiti jeraim jaise maslahon par chinta ka anhaaza kiya.

Main sochta hoon ki yeh Lillah Keningham ki ummidavari London ke mayoor ko ek naya tareeka se chalane ki hai jisse gairzaimi kaa khilaaf kathor carwai ki jagi.
 
یہ سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ لیلیٰ کیننگھم کی امیدواری پر واضح اچھی یا بری نہیں ہوتی کہ وہ میئر بن جائے گی یا نہیں، ان کی کوئی خاص پالیسی نہیں ہے جس کی بنیاد پر لگایا جا سکتا ہے، وہ صرف ایک مسلم خاتون ہیں جو لندن میں اپنی موجودگی کا اعلان کر رہی ہیں اور وہ ان کی امیدواری کو دیکھتے ہوئے متحرک ہوتے ہیں، اس بات کا بھی کہنا ہے کہ اس وقت سے ہی لندن میئر صادق خان کی جانب سے اس کی امیدواری کو دیکھتے ہوئے متحرک ہو رہا ہے، یہ کہنا چاہے ہی یوں ہو جائے کہ وہ بھی ایک مسلم خاتون ہیں لے یا کس کو شکار کرے اس پر واضح براہ راست جواب نہیں ہوتا
 
اردن سے لے کر بھارت تک، اور اب لندن میں، ایسے واقعات دیکھتے رہتے ہیں جس کا پھر سے واضح اثر نکلتا ہے کہ خواتین بھی Politics میں اچھی طرح فائدہ مند ہوسکتی ہیں. لیلیٰ کیننگھم کی ایسے موقع پر اپنی امیدواری کا اعلان کرنا وہی نئی ہی نہیں ہے!

لندن کے آئندہ میئر الیکشن سے پہلے، بھی تھے کچھ لوگ جنہوں نےPolitics میں قدم رکھا ہوتا تو دیکھتے تھے انہیں کس طرح مستقل فائدہ پہنچتا! لیلیٰ کیننگھم کا یہ اعلان اسی بات کو مجھے دکھاتا ہے.

اس بات پر مجھے ان کے بارے میں توجہ دینا چاہیے کہ لیلیٰ کیننگھم نے کس طرح جرائم کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے. وہ بے شک نئی ماحول کی نشاندہی کر رہی ہیں.
 
[🤔 diagram of a person thinking ]

لندن میں ایک نئی ماحول پیدا ہوا ہے، جو ریفرم یوکے کی پارٹی کی جانب سے لیلیٰ کیننگھم کی امیدواری سے ہوا ہے۔ اس میں ایک نئی اہلیت پہنچنے کا ایسا ماحول ہے جو ماضی میں نہیں دیکھا گیا تھا۔

[ diagram of a woman with a megaphone ]

لیلیٰ کیننگھم نے جرائم کے خلاف سخت کارروائی پر بہت زیادہ توجہ دی ہے، جس کی وجہ سے وہ ابھی بھی متحرک ہو رہی ہے۔

[ diagram of a clock with a bold line through it ]

لیلیٰ کیننگھم کی یہ امیدواری ایسے میئر لندن چلانے کی ہے جس نے جرائم کے خلاف سخت کارروائی کی، اور اس کی پہچان کو محفوظ بنایا ہے۔
 
لڈن میئر الیکشن کا یہ اعلان لگتا ہے کہ ہم آج بھی ایک نئی دور آ رہے ہیں جس میں معاوضہ اور بدامر پالنا کی وہ پالیسیوں پر چیلنج کرنے کی تلاش بھی شامل ہے جو لندن میں مقبول نہیں ہیں. لیلیٰ کیننگھم کی یہ امیدواری ایک نئی بات ہے جس سے انکی متحرک ہوئستی بڑھی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ وہ میئر لندن بننے کی اپنی پوری کوشش کر رہی ہے. اسٹریٹ جوکنگ سے زیادہ معاوضہ اور بدامر کو چیلنج کرنا انکی فخر کی بات ہو گی.
 
لندن میئر الیکشن میں لیلیٰ کیننگھم کی امیدواری ایک بڑا موقع ہے، اس وقت لندن میں بڑھتے ہوئے چاقو بردار جرائم اور منشیات کا مسئلہ سب پر توجہ پڑ رہی ہے. لیلیٰ کیننگھم کی ایسی امیدوار ہوگئی ہے جوJerائم کے خلاف سخت کارروائی کے لئے تیار ہوئی ہے. اس کا یہ اعلان ہے کہ وہ جتنی ہو سکتی ہے وہ کرے گی, میئر لندن چلانا ان کی پہلی ترجیح ہیں.
 
لندن میں الیکشن کا ایک نئا ماحول پیدا ہوتا ہے اور یہ بات بھی ٹھہرتی ہے کہ اس وقت سے ہی لیلیٰ کیننگھم کی امیدواری متحرک ہوستی رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ لندن کے آئندہ میئر الیکشن کے لیے وہ صرف ایک امیدوار ہوگی۔

لیلیٰ کیننگھم کی بات کا سب سے بڑا مطلب یہ ہے کہ وہ جرائم کے خلاف سخت کارروائی پر اپنی پہلی ترجیح دیتی ہے اور لندن میں بڑھتے ہوئے چاقو بردار جرائم، منشیات، ڈکیتی اور جنسی جرائم کو ختم کرنا چاہتی ہے۔

یہ بات بھی نہیں ٹھہر سکتی کہ اس میئر لندن کی وہ ماحول پیدا ہوگا جس میں صحت، امان اور ترقی کے مواقع بنے رہتے ہیں۔
 
یہ بات اچھی ہے کہ لینڈن میئر الیکشن میں ایک نئی ماحول پیدا ہوا ہے جس میں لیلیٰ کیننگھم کی امیدواری شامل ہے। اس بات کو تو دھ्यान رکھنا چاہیے کہ وہ ایک متحرک اور جادوئی Leader ہے جو ریفرم یوکے کی پارٹی سے اپنی امیدواری کا اعلان کر چکی ہے۔ لندن میں جرائم کی समसہ کا حل لینے کا وہ بڑا ہے جو اس کا منصوبہ ہے اور اگر وہ میئر منتخب ہوجی تو اس کا مقصد ناقابل تسخیر ہو گا۔
 
یہ بات بہت دلچسپ ہے کہ ایک مسلم خاتون امیدوار لیلیٰ کیننگھم سے ایسا اہلقام ہو رہا ہے کہ وہ لندن کی میئر بن سکتی ہیں۔ اس بات کو نہیں سمجھنا چاہئے کہ انھوں نے سچ بائیں ہاتھ رکھی ہے اور ایسا ہی ان کی امیدوارگی پر دیکھ کر اس وقت تک لندن کی میئر بننے والی کسی نہ کسی خاتون کا نام اس طرح سے مشہور ہو جائے گا۔
 
واپس
Top