لندن میئر کے الیکشن میں ایک نئی ماحول پیدا ہوا ہے جس میں ایک مسلم خاتون امیدوار لیلیٰ کیننگھم شامل ہے جو ریفرم یوکے کی پارٹی سے اپنی امیدواری کا اعلان کر چکی ہے۔ اس بات کا بھی کہنا ہے کہ لیلیٰ کیننگھم میئر لندن صادق خان کی جانب سے جتنے واضح اعلان نہیں کیے گئے ان کے باوجود اس وقت سے ہی اس کی امیدواری متحرک ہوستی ہے۔
ریفرم یوکے کے رہنما نائجل فراج کا اعلان ہے کہ لندن کے آئندہ میئر الیکشن کے لیے لیلیٰ کیننگھم ہو گی۔ اس اعلان سے وہ متحرک ہوئیں جو حال ہی میں مقامی انتخابات اور پارٹی الیکشن میں ایسی امیدواری کو دیکھتے تھے جس کا مقصد ان کی متحرک کرنا ہے۔
لیلیٰ کیننگھم نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ اگر وہ میئر منتخب ہوئیں تو جرائم کے خلاف سخت کارروائی پر ان کی پہلی ترجیح ہو گی۔ انھوں نے لندن میں بڑھتے ہوئے چاقو بردار جرائم، منشیات، ڈکیتی اور جنسی جرائم جیسے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔
لیلیٰ کیننگھم کی یہ امیدواری ایسے میئر لندن چلانے کی ہے جس نے جرائم کے خلاف سخت کارروائی کی.
ریفرم یوکے کے رہنما نائجل فراج کا اعلان ہے کہ لندن کے آئندہ میئر الیکشن کے لیے لیلیٰ کیننگھم ہو گی۔ اس اعلان سے وہ متحرک ہوئیں جو حال ہی میں مقامی انتخابات اور پارٹی الیکشن میں ایسی امیدواری کو دیکھتے تھے جس کا مقصد ان کی متحرک کرنا ہے۔
لیلیٰ کیننگھم نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ اگر وہ میئر منتخب ہوئیں تو جرائم کے خلاف سخت کارروائی پر ان کی پہلی ترجیح ہو گی۔ انھوں نے لندن میں بڑھتے ہوئے چاقو بردار جرائم، منشیات، ڈکیتی اور جنسی جرائم جیسے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔
لیلیٰ کیننگھم کی یہ امیدواری ایسے میئر لندن چلانے کی ہے جس نے جرائم کے خلاف سخت کارروائی کی.