ہولی فیملی ہسپتال میں پیدائش کے بعد اس بچے کو ایڈمٹ کرلیا گیا اور اس کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا
ایک نئے نسل کے بچے کو مردہ قرار دے کر ڈیٹھ سیرٹیفیکٹ جاری کردیا گیا
اس کے بعد اسے ایمبولینس میںShift کیے گئے تو اسے آکسیجن ماسک لگا دیا گیا اور اسے دوبارہ جان لگی
اس صورتحال کو لازرس سینڈروم نامی صحت کی کیفیت قرار دے کر ڈیپٹی ڈائریکٹر ہمایوں انور نے سربھمہر صورت میں سیکریٹری ہیلتھ کو بھجوا دیا
ادھر پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن نے اس معاملے میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی
کمیٹی نے ہولی فیملی ہسپتال اور عزت شاہ ہسپتال پر سے متعلقہ میدیکل ریکارڈ طلب کیے ہیں
یہ واضح ہے کہ بچے کو جاری کرنے والے علاج کا انتخاب بالکل غلط تھا... اور اس کے بعد انساف کرنے والے لوگوں نے بھی بہت سارے میراث کیڑے کیوں کئے ۔ ایک بار جاری کر دی گئی ڈیٹھ اسسٹم کو چھوڑنا، اور دوبارہ جان لگانا، یہ تو ایک ایسی صورتحال ہے جس میں کسی بھی صحت کی کمی والے بچے کو بھی نہ دیکھا گیا تھا... اور اس کے بعد ہولی فیملی ہسپتال میں اور عزت شاہ ہسپتال میں کتنے بچوں کی جان لگائی گئی، یہ بتانے والے نہیں...
اسے بھرپور سرہ کے ساتھ دیکھنا پڑا ہے جب اس نئے نسل کے بیٹے کو ایڈمٹ کرلیا گیا اور اس کی جان لگی ہوئی تھی... مینے بھی ٹشک ٹشک کر لیا ہے اس پر... اب یہ بات تو پوری طرح सچ ہو گئی ہے کہ ہولی فیملی ہسپتال میں بھی بھی اسی طرح کے حالات رونما ہوتے ہیں... لازرس سینڈروم نامی صحت کی کیفیت دیکھ کر مینے سارے آپ کو یہ بات بتائی ہوگی کہ کیا ہوا ہو گا اس کے بعد سبھرمہر صورت میں سیکریٹری ہیلتھ کو بھجوا دیا گیا اور ایمبولینس میں_shift کرکے آکسیجن ماسک لگایا گیا... یہ سبھی ٹھیک ہوگئے تو...
ایسے نئے نسل کے بچے کو جان لگا دے کر خوشیوں میں بدل دیا جائے ، اس صورتحال پر ایک ہی سوالات کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے، کیونکہ آپ نے بچے کو ایڈمٹ کر لیا تو اس کی نئی زندگی کیسے بنائی جائے؟
اکسیجن ماسک لگا دیا گیا تو اس کو جان لگانے کی طاقت کیا ہے؟ سیکریٹری ہیلتھ کو ایسے معاملات میں سربھمہر صورت میں بھونے کی ضرورت ہے تو یہی چلا جائے گا
کیا یہ ایک نئی بات ہے؟ ایک بیٹا پیدائش کے بعد سے بھی جان لگی تو کبھی یہ نہیں سوچا گیا تھا? ہولی فیملی ہسپتال کی پوزیشن سے بھگڑا گیا ہے، آج نئی سے نئی کے بھلک رہی ہے... آکسیجن ماسک لگایا گیا تو جان لگی، یہ کتنا نئے عہد کا تعلق ہے؟ ہمایوں انور کی سربھمہر صورت مروڑی جس کے لئے اس پر بھارپور رائے نہیں دی گئی... کمیشن کی ایک انکوائری کمیٹی ہو گئی، میدیکل ریکارڈ طلب کیے جائیں گے تو پتا چلے گا کیا یہ سارے معاملات تھوڑے میں حل ہونگے یا نہیں?
عجب دیو! یہ معاملہ کچھ حوالے دکھانے لگا... اگر اس بچے کو ایڈمٹ کرلیا گیا تو وہ کیسے سے مر گیا تھا، اور ڈیپٹی ڈائریکٹر انور نے اس صورتحال کی صورت میں سیکریٹری ہیلتھ کو بھجوا دیا؟ یہ تو ایک گریجویشن کا کام ہے... مگر یہ جو ہوا وہیں سے کچھ عجیب لگ رہا ہے...
بچو کو ایک نئے نسل کے لئے مردا ہوا تو چھٹکی پھونک کرنا تھا اور اس صورتحال کو لازرس سینڈروم نامی صحت کی کیفیت قرار دینا بھی تو لگ رہا تھا، لیکن وہ اچھی طرح جانتے ہوں کہ ایسا بچہ وہاں پیدائش کرتا ہوا جان لگاتا تھا…اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے میں یقین رکھتا ہوں کہ اس بچے کی جانب سے ہولے فیملی ہسپتال نے اپنی ذمہ داری پورا کرنے کی کوشش کی…اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کا اچھا نتیجہ ملے گا، لیکن اس صورتحال کو پہلے سے دیکھتے ہوئے میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسے بچے کی زندگی بھی اچھی طرح مشکل ہوتی ہے
ایسا لگتا ہے کہ ہولی فیملی ہسپتال میں پیدائش کے بعد اور ایڈمٹ کروانے کے بعد بچے کی جانیں کوئی جگہ نہیں دی گئی تو اسے ڈیٹھ سیرٹیفکیٹ دلا کر ایک نئے نظام میں پہنچایا گیا۔
انکوائری کمیٹی کی تشکیل ہونے کے بعد حالات کو بہتر بنانے کی امید ہے لیکن یہ سبھی ٹیکسٹ بک سے لگ رہے ہیں۔
اکسیجن ماسک لگانا اور دوبارہ جان لگا کر اس کے حالات کو بہتر بنایا گیا، لیکن یہ سبھی ڈیٹل्स ہی نہیں کیونکہ حالات کی ایک پوری رپورٹ نہیں دی گئی۔
سربھمہر صورت میں سیکریٹری ہیلتھ کو بھجوا دینا اچھا تھا لیکن اس کے بعد کمیٹی کی تشکیل پر یہ پہلا کھدکایاجوں ہی ہونگے، لیکن کیا ان کو پیدائش سے متعلق مینجمنٹ کروانے میں بھی نا کامیاب ہونگی ؟
کمیٹی کی رپورٹ جاری کرنی چاہیئے تاکہ اچھا انکوائری ہو سکے.
اس بات کو چھुपانے کی کوئی کوئی کی کوشش کرے تو خامیوں میں دھلت پڑے گی! ہولی فیملی ہسپتال اور عزت شاہ ہسپتال پر سے متعلقہ میدیکل ریکارڈ طلب کرنے کا یہ اقدامہ بہت گہرا خوفนاک ہے! ہمیں پتا نہیں کہ اس صورتحال میں کون سی ذمہ داریاں ہین?! کیا یہ ایک موعقب معاملہ ہو گا یا اس کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں?! ہمیں جاننا چاہئے کہ ایسا معاملہ کیسے حل ہوا؟
اس صورتحال کو ایک نئی دھچکہ اٹھانے والا لگتا ہے! ایڈمٹ کرلیا گیا، بعد میں مردہ قرار دیا گیا اور پھر دوبارہ جان لگا دی گئی... کیا یہ ایک ماحول بنانے والی پریشانی ہے؟ آج سے قبل بھی اس سے متعلق کچھ نہیں تھا، لہٰذا اس پر کھل کر بات چیت کی ضرورت ہے . ڈیپٹی ڈائریکٹر ہمایوں انور کو یہ جانتے ہوئے سربھمہر صورت میں سیکریٹری ہیلتھ کو بھجوا دیا... اچانک کیا؟ اس کے بعد پہلے نالے سے زیادہ ہی تیزی سے جارحیت کی لہر لگ گئی، حالات کھلتے دیکھنے کی ضرورت ہے!
اس کا معاملہ تو بھی پریشانیوں سے لaden ہوا ہے ، یقینا اس نئے نسل کے بچے کی جان بچانے میں ایسے حالات پیدا ہونے اور اسے دوبارہ جان لگानے میں انہیں کبھی سے پہلے بھی بہت سے خطرے کا سامنا کرنا پڑا ہو گا ، اور اب جب اس کو ایڈمٹ کرلیا گیا ہے تو نئی صورتحال پیدا ہونے کی امکانیت بھی ہے ، مگر یہ واضع ہے کہ اس سے پہلے بھی اس بچے کو ایک اور خطرناک صورتحال میں چھوپا جانا پڑا تھا جو بھی کیسے ہوا وہ آج تک ابھی معلوم نہیں ہو سکا ، اس صورتحال کو لازرس سینڈروم نامی صحت کی کیفیت قرار دینے سے بھی کسی بھی معاملے میں ایسا نہیں رہ سکتا۔
یہ دیکھتے ہی ہم بچوں کو ایک سال میں کم تو نہیں آتے! ہولی فیملی سے لگتا ہے کہ یہ ایک ایساHospital ہے جہاں بچوں کو جان دتی ہے ، اور عزت شاہ میں اسے جان نہیں دیتی! میری بات تو کون سمجھेगا? اب یہ معاملہ ایک انکوائری کمیٹی سے لگتا ہے، کیا یہ بھی کچھ کھلنے والا ہو گا؟
ایسے میڈیکل اسکیمز کو چھوڑتے ہوئے، جب آپ ایک انکوائری کمیشن کا انتظار کرتے ہیں تو جانتے ہی کیوں نہ ہوتا کہ یہ کمیشن کس کے لئے تھا؟ اور انKOائری کمیٹی میں جو لوگ شامل ہوں گے وہ ہمیشہ اس معاملے کو سلاپ کے ساتھ دیکھتے رہیں گے!
بچے کو جان لگی تو یہ اچھا تھا، بھلے کیوں کرتے ہیں، اور اب اس پر ایک ایسا ماسک لگایا گیا جیسا نہیں پتا کہ وہ کیا ہے!
اس بچے کی صورتحال تو کیا بتائیں! لازرس سینڈروم نامی صحت کی کیفیت کے باوجود وہ ایسا ہی دوبارہ جان لگائے اور اس کا دیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا! یہ بے شبہ ایک بڑا Surprise ہے।
اس معاملے میں پنجاب ہیلتھ کمیشن نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی، اس پر دیکھنا ضروری ہے کہ وہ کیا بتائیں گے اور کس طرح اس معاملے کو حل کیا جاسکتا ہے
عجیب عجیب بات ہے، ایک بچے کو پیدائش کے بعد ایڈمٹ کرلیا گیا اور اس کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا تو کیا یہ صرف ایک عادی صورتحال نہیں؟ کیا اس بچے کو پیدائش کے بعد سے ہمیشہ بھرپور ماحول میں رکھنا نہیں تھا؟ یہ بات تو سمجھ لیں، ایسے معاملات میں کوئی وقت نہیں تھا جب ڈیٹھ سیرٹیفکیٹ جاری کرنے کے بعد کسی کو دوبارہ جان لگ سکتی ہو۔ مگر اب یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ ایسے صورتحال میں بچے کو دوبارہ جان لگنے کا امکانات نہیں ہوتے۔
ایسا ہی کچھ دیکھنا بہتر نہیں تھا... ایک بچے کو پیدائش کے بعد مرنے کا اہل بنایا گیا اور اس کے بعد اسے جان لگانے کی کوشش کی گئی... لیکن ایسا ہونا ٹھیک نہیں تھا... ابھی بچے کو پیدائش سے متعلق تمام سرٹیفکیٹ جاری کر دیئے جائیں اور اس کے بعد سے اسے دیکھنا ہوگا کہ کیا اس بچے کی زندگی کس طرح بدلتے رہی...
اس صورتحال پر دھینا لگاؤں جو کہ ایک نئے نسل کے بچے کو مردہ قرار دیتے ہیں تو یہ کیسے possible ہوسکتا ہے اور اس پر ہونے والی صحت کی کیفیت کیا ہوسکتی ہے؟ یہاں تک کہ اس بچے کو دوبارہ جان لگنے کے بعد بھی ایسے میدیکل ریکارڈ طلب کرلیے گئے تو یہ کہ اس صورتحال کی انکشافات کیا ہوسکتی ہیں? ہولی فیملی اور عزت شاہ دونوں ہسپتالات پر سارے میدیکل ریکارڈ طلب کرلیا گیا تو یہ سچ کی پناہ ہوسکتا ہے کہ ہر کوئی ان لوگوں سے معاونت ملتی ہے جو ایسے ناکام طریقوں کا استعمال کرنے والے ہیں؟
اس صورتحال میں وہ بچہ جو پیدائش کے بعد جان لگی تو اس کو ایک نئے معاملے کا حامل کرنے کا یہ مشورہ کیا گیا ہے کیوں کہ وہ بچہ پھر سے نہیں جانے والا تھا لہذا اسے ایک نئے معاملے میں موازنہ کرنا پڑتا ہے۔ لگتا ہے کہ اس صورتحال کو چینج کرنا مشکل ہو گا لہذا یہ معاملہ ماحولیات سے منسلک نہیں ہونا چاہیے ہر صورتحال کے بعد اسے ان کو سیکھنا پڑتا ہے۔
ایسے معاملات میں سچائی اور ثقافتی عدم سنجیدگی نکل آتے ہیں جب ایک نئے معاملے کا حامل ہونا ضروری لگتا ہے۔ یہ بھی بات سچ ہے کہ یہ معاملہ ان لوگوں کو متاثر کرے گا جو اس معاملے میں شامل ہوں گے جس کی وجہ سے وہ بھی اپنے اور اپنی فیملی کے لیے سچائی سے محض غلطیوں پر چل پڑتے ہیں۔
ابھی یہ بات نہیں آئی کہ اس بچے کو کیسے پائی گئی اور اس کی ماں یا باپ کو کیا بتایا گیا؟ اس صورتحال میں سے کوئی جواب نہیں دے رہا ہے، یہ تو حیرانی کن ہے!
لیکن یہ بات بھی اچھی ہے کہ ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، اس سے واضح ہو جائے گا کہ کیا ہوا اور اس پر جواب مل جائے گا। لیکن یہ بات بھی ضروری ہے کہ اس صورتحال میں نجات پانے کی پریشانی سے نکل کر اسے ایک حل تلاش کی جاے۔
ایسے معاملات سے جب نتیجہ نکلتا ہے تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ ڈاکٹروں، ہسپتالوں کی ایف ایس ای میں بہتری آئی ہے اور نتیجے میں یہ بات سامنے آئے کہ ہولی فیملی ہسپتال اور عزت شاہ ہسپتال میں بھی انسائیسمنز کی ضرورت ہے۔
اس معاملے میں اس بات کو لازمی طور پر یقینی بنانا چاہئے کہ وہ شخص جس نے اس صورتحال میں اپنی جان قربت دی، اس کی پوری ساتھی کی مدد ملے۔
اس صورتحال کو لازرس سینڈروم کے نام سے سچائیوں سے بھرپور نہیں ہے؟ ایک نئے نسل کے بچے کو مردہ قرار دیکر اس کی جان لگا دی اور فیلٹ نہ کرنے پر ان کی جان لگائی گئی? سچم کی بات یہ ہے کہ جو بھی ڈائگنوسٹکس کرتا ہو اس نے کیا دیکھا؟ ایک ایمبولینس میںShift کرنے پر اور آکسیجن ماسک لگانے پر ابھی بھی ایک بچے کی جان لگائی گئی? یہ کیسے ممکن ہوگا؟ کوئی ذمہ دار ہے کہ اس صورتحال کو چھپایا جائے اور بچے کی موت ہونے پر گھبراے جانے والوں کو گھبراے جانے دیتے؟
بھائی ان میڈیکل ریکارڈ لینے کا یہ کام تو چالاکوں کا کام ہے... لوگ اب بھی اس بات کو نہیں دیتے کہ وہ اس کے بعد جان لگا دیے، اور اب اسے جان لگانے کی کوشش کر رہے ہیں... یہ سب سوشل میڈیا پر پھیل رہا ہے... لوگوں کو بات نہیں چاہئے کہ وہ جان لگانے کی کوشش کرنے کے لیے یہ میدیکل ریکارڈ لینے کی کوشش کریں... یہ بھی ایک پرانا کہوائی ہے کہ اس سے بچے کی جان لگتی ہے...