گلوکار عالمگیر کا پاکستان بنگلا دیش تعلقات کی بہتری پر خوشی کا اظہار

پرندہ

Well-known member
جس لمحے تک 14 سال کی لڑکپہیں پھیل گئی تھی، اس وقت پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان تعلقات میں ایک نئا دور شروع ہو رہا ہے۔ وہ لوگ جو اس لمحے سے محروم تھے، اب اس کا आनंद لے رہے ہیں۔

پاپ سنگر عالمگیر نے بنگلا دیش کے خلاف ایک منفرد گانا میں اپنا مشہور غزل "گंगنا" گایا تھا، اور اب اسے سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی وطن سے محبت کے جذبے کو ظاہر کر رہا ہے۔

عالمگیر نے کہا، ’میں بنگالی ضرور ہوں لیکن ایک محب وطن پاکستانی بھی ہوں۔ پاکستان نے مجھے بے پناہ محبت دی ہے۔‘ یہ بات بھی خوشی کا ایک اہم حصہ ہے کہ اب بھی 50 سال کے بعد نوجوان ان کی گانے گنگنا رہے ہیں، جو حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔

عالمگیر نے نوجوان گلوکاروں سے مشورہ دیا کہ وہ کلاسیکی گائیکی سیکھ کر موسیقی کی بنیاد مضبوط کریں اور اس کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کریں تاکہ ہمیشہ کے لیے یادگار اور دلکش گانے تخلیق کیے جا سکیں۔
 
اس نئے دور میں پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان ایک نئی دھواں ہو رہا ہے جو سمجھنا ہی مुश्कل ہوگا؟ پانی کی جانب سے محبت کا جذبہ، اور پاکستان سے محبت کا ایسا جذبہ جو عالمگیر کو ان دونوں کے درمیان کھلنے کی اجازت دے رہا ہے! 🌟
 
بھائیو، یہ دیکھنا نئے لطف ہیں! پاپ سنگر عالمگیر بھی ایک مستقل رکن بن گئے ہیں۔ وہ کلاسیکی گائیکی اور جدید ٹیکنالوجی کا شاندار مکس ہو رہا ہے جو نوجوانوں کو متاثر کر رہا ہے۔ اس لیے ایک بات کی ضرورت ہے کہ دوسرے بھی اس پٹی کے نیچے آئیں اور اپنے گانے میں اپنی فخر کو ظاہر کریں۔
 
بھرپور شکریہ یہ جاننے کے لئے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات ایسے استحکام میں ہیں جیسے قبل 14 سال کی لڑکپہیں پھیل گئی تھی। عالمگیر نے اپنے غزل "گنگنا" کے ذریعے وطن سے محبت کے جذبے کو ظاہر کیا ہے، یہ بہت خوشگوار ہے۔ اب نوجوان پاکستانی اور بنگلہ دیشی دونوں کی ایک الارم پر چڑھ رہے ہیں۔
 
یہ دیکھتے ہیں کہ اب نوجوانوں کو بنگلہ دیش کی بات کرنے میں کوئی Problem نہیں پڑتا، اس سے قبل یہ ایک ایسا موضوع تھا جس پر صرف ہم میں غور کرنا جاتا تھا۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں ایسی تبدیلی دیکھتے ہیں جیسے ایک نئا دور شروع ہو رہا ہے، اور وہ لوگ جو اس سے محروم تھے اب اس کا आनंद لے رہے ہیں۔

عالمگیر نے ایک منفرد گانا میں اپنا مشہور غزل "گنگنا" گایا تھا، اور اب اسے سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی وطن سے محبت کے جذبے کو ظاہر کر رہا ہے۔

یہ بات بھی خوشی کا ایک اہم حصہ ہے کہ اب بھی 50 سال کے بعد نوجوان ان کی گانے گنگنا رہے ہیں، جو حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔
 
سفار کو ایک نئی ترقی کا آغاز ہو رہا ہے؟ پاکستان اور بنگلہ دیش میں تعلقات میں ایسے حالات ہر وقت یقینی نہیں تھے، تو اب وہ لوگ جو اس سے قبل محروم رہے تھے، اب اس کا आनंद لے رہے ہیں۔

عالمگیر کی گانے میں بھی ایک نئی ترقی دیکھنے کو آ رہی ہے جس سے وہ پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں کی محبت کا اظہار کر رہا ہے۔

جسے عام لوگ "گنگنا" کے نام سے جانتے ہیں، وہ ایک اور نام بھی ہے جو اسے دوسرے ناموں سے ملایا جاتا ہے۔ اس گانے کی وجہ سے ابھی پاکستان میں نوجوانوں کو بھی اس کے حوالے سے یاد ہے، اور وہ نوجوان جو اسے سن رہے ہیں وہ اس کو ایک یادگار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
 
بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان ریلوے کا یہ سفر میرا خیال ہے کہ لماٹی پھول پھلنے لگتی ہے تو فصلیں بھی اسی طرح ہو جاتी ہیں۔ آج بھی اس سے واقف نوجوان ان کی گانے گنگنا رہے ہیں، اور یہ حقیقت دکھائی دیتی ہے کہ 50 سال قبل کی لڑکیوں کا جذبہ اب بھی ہمیشہ کے لیے موجود ہے۔ عالمگیر نے کہا کہ نوجوان گلوکاروں کو کلاسیکی سیکھنا اور جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا چاہئے تاکہ وہ اپنی موسیقی کو دلکش اور یادگار بنا سکھیں۔
 
یہ بات بہت اچھی ہے کہ پاپ سنگر عالمگیر نے اپنے جانب سے لاکھوں پاکستانیوں کو محبت دیتی گانے "گنگنا" میں سنایا، اب یہ گانا نوجوانوں کی دلچسپی کا باعث بن رہا ہے!

یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ عالمگیر نے کہا ہے کہ وہ بنگالی ہونے کے باوجود پاکستان سے محبت کرنے کی وجہ سے انڈیا تک گئے تھے، یہ جذبہ نوجوانوں کو بھی Inspiration مل سکتا ہے!

لekin mera nazariyya hai kya Pakistan aur Bangladesh ke beech ek nayi dur par hona ek achha tareeka tha, jo logon ko apne deshon ki pehchaan ko samajhane ka mauka diya ho...
 
یہ رائے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاپ سنگر عالمگیر کو ان کی وطن سے محبت کا جذبہ تو ظاہر ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی پاکستان کے ساتھ بھی جذبے کو ظاہر کیا ہے، اور یہ تو ایک نئے دور میں ہے جس میں دونوں ممالک کی تعلقات میں ایک نئی سطور شروع ہوئی ہیں۔
 
واپس
Top