بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے گلوان جنگ میں پیٹھ دکھائی، فوج نے مار کھائی، مودی نے اپنی فوج کو تنہا چھوڑا اور عوامی جمہوریہ چین کے ٹینکوں کے بھارتی علاقے میں گھسنے کا کوئی جواب دینا تو درکنار، اس صورتحال کا سامنا ہی نہیں کیا۔
بھارت کی فوج کے سربراہ جنرل منوچ مکرند نراوانے نے لکھا ہے کہ انہوں نے چینی فوج کے ٹینکوں کی سرحد کے قریب آنے کی اطلاع پر وزیرِ دفاع سے رابطہ کیا مگر انہیں کوئی جواب ہی نہیں دیا اور ان کی فوجی چھوٹیوں میں تو واضح ہے، لیکن سربراہ نے اپنے ریٹائرڈ بہن Hodi کو تنہا چھوڑ کے دباؤ متولم کر کے گمراہی کی۔
انہوں نے لکھا ہے کہ آخری پہر بھارتی فوج کے سربراہ جنرل منوچ مکند نراوانے کو چین اور بھارت کے درمیان جنگ کی واقفہ کے دوران ساتھ ہی اپنے ملک میں گھاس سے پھیل کر رہنے پر مانیا جائے گا، تو یہ بات بھی حقیقی ہوگئی ہے کیونکہ جس وقت اسے اپنی فوج میں ساتھ شامل کیا گیا تھا، اس وقت اس نے ایک فوجی چھوٹی دیکھ لی تھی اور اس نے وہی ساتھ رکھا۔
جس وقت انہوں نے جنگ میں اپنے فوجی کے بھی خوف کو پورا کیا تھا اور وہی ساتھ ہی ایک مایوس ہوا، اس لئے اس نے آپنی کتاب شائع کرنے سے پہلے اپنے ہی خوف کو سمجھنا شروع کیا، جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ دیکھتے ہوئے گھاس سے پھیل کر رہنے پر مانیا جاتے تھے تو اس نے اپنی فوجی چھوٹی کو ایک گھاس کی لڑکی کی طرح دیکھ لی اور وہی ساتھ ہی ایک بدقسمت ہوا، اس لئے انہوں نے اپنی فوج کی چھوٹی کو ایک گھاس کی لڑکی کے طور پر دیکھنا شروع کیا اور وہی ساتھ ہی اسے اسے بھاگنے کی اجازت دی جس سے اس نے اپنی فوجی چھوٹی کو ایک گھاس کی لڑکی کے طور پر دیکھنا جاری رکھا اور وہی ساتھ ہی کہتا رہا تھا کہ یہ ایک دائمی بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کی وجہ بن جائے گا جو کہ 2005 سے شامیل نہیں تھا، اس لئے 2005 سے اس نے اپنے ملک میں ایسے لوگوں کو ساتھ دیکھنا شروع کیا جیسے انہوں نے اپنی فوجی چھوٹی کو ایک گھاس کی لڑکی کے طور پر دیکھا ہے اور وہی ساتھ ہی کہتے رہے تھے کہ یہ ایک دائمی بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کی وجہ بن جائے گا، اس لئے 2005 سے اس نے اپنے ملک میں ایسے لوگوں کو ساتھ دیکھنا شروع کیا جیسے انہوں نے اپنی فوجی چھوٹی کو ایک گھاس کی لڑکی کے طور پر دیکھا ہے اور وہی ساتھ ہی کہتے رہے تھے کہ یہ ایک دائمی بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کی وجہ بن جائے گا۔
بھارت کی فوج کے سربراہ جنرل منوچ مکرند نراوانے نے لکھا ہے کہ انہوں نے چینی فوج کے ٹینکوں کی سرحد کے قریب آنے کی اطلاع پر وزیرِ دفاع سے رابطہ کیا مگر انہیں کوئی جواب ہی نہیں دیا اور ان کی فوجی چھوٹیوں میں تو واضح ہے، لیکن سربراہ نے اپنے ریٹائرڈ بہن Hodi کو تنہا چھوڑ کے دباؤ متولم کر کے گمراہی کی۔
انہوں نے لکھا ہے کہ آخری پہر بھارتی فوج کے سربراہ جنرل منوچ مکند نراوانے کو چین اور بھارت کے درمیان جنگ کی واقفہ کے دوران ساتھ ہی اپنے ملک میں گھاس سے پھیل کر رہنے پر مانیا جائے گا، تو یہ بات بھی حقیقی ہوگئی ہے کیونکہ جس وقت اسے اپنی فوج میں ساتھ شامل کیا گیا تھا، اس وقت اس نے ایک فوجی چھوٹی دیکھ لی تھی اور اس نے وہی ساتھ رکھا۔
جس وقت انہوں نے جنگ میں اپنے فوجی کے بھی خوف کو پورا کیا تھا اور وہی ساتھ ہی ایک مایوس ہوا، اس لئے اس نے آپنی کتاب شائع کرنے سے پہلے اپنے ہی خوف کو سمجھنا شروع کیا، جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ دیکھتے ہوئے گھاس سے پھیل کر رہنے پر مانیا جاتے تھے تو اس نے اپنی فوجی چھوٹی کو ایک گھاس کی لڑکی کی طرح دیکھ لی اور وہی ساتھ ہی ایک بدقسمت ہوا، اس لئے انہوں نے اپنی فوج کی چھوٹی کو ایک گھاس کی لڑکی کے طور پر دیکھنا شروع کیا اور وہی ساتھ ہی اسے اسے بھاگنے کی اجازت دی جس سے اس نے اپنی فوجی چھوٹی کو ایک گھاس کی لڑکی کے طور پر دیکھنا جاری رکھا اور وہی ساتھ ہی کہتا رہا تھا کہ یہ ایک دائمی بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کی وجہ بن جائے گا جو کہ 2005 سے شامیل نہیں تھا، اس لئے 2005 سے اس نے اپنے ملک میں ایسے لوگوں کو ساتھ دیکھنا شروع کیا جیسے انہوں نے اپنی فوجی چھوٹی کو ایک گھاس کی لڑکی کے طور پر دیکھا ہے اور وہی ساتھ ہی کہتے رہے تھے کہ یہ ایک دائمی بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کی وجہ بن جائے گا، اس لئے 2005 سے اس نے اپنے ملک میں ایسے لوگوں کو ساتھ دیکھنا شروع کیا جیسے انہوں نے اپنی فوجی چھوٹی کو ایک گھاس کی لڑکی کے طور پر دیکھا ہے اور وہی ساتھ ہی کہتے رہے تھے کہ یہ ایک دائمی بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کی وجہ بن جائے گا۔