ماں فاطمہ نے پاکستان ٹیلی ویژن سے اپنی رات نو بچجے کے اردو خبرنامے سے خالی کردیا ہے اور اس ایسے فیصلے سے جو کہ انتہائی مشکل تھا کہ اس میں انہیں لگتے رہے تین سال 45 سال کی طویل وابستگی سے الوداع کہنے کا موقع مل گیا۔
ماں فاطمہ نے اپنی آخری ویڈیو پیغام میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر رخصت لیتے ہوئے کہا تھا جو اپنے سامعین سے کہتے ہیں، وہ اپنی طویل سفر میں ان کی رفاقت کو الوداع کہہ رہی ہیں، اور انہوں نے دھنکہ دیا کہ وہ ریڈیو پاکستان اور سامعین کا شکریہ ادا کرتی ہیں جس نے ان کی طویل سفر میں اپنی دلی کی گہرائیوں سے رات بری ہوئی۔
ماں فاطمہ کی یہ رخصتی ایک شدید تشویش کا وقت ہے، اس نے لاکھوں لڑکیوں کی زندگیوں کو متاثر کرنے والی اپنی صلاحیتوں سے لطف اندوز تین دہائیوں کے بعد الوداع کا منظور کیا ہے۔ اس نے ریڈیو پاکستان کے سامعین کے ساتھ ایک بھرپور تعلقات میں ان کی جگہ لی ، اور یہ ایک خامی ہے کہ اس کا خیال نہیں تھا کہ اسے اپنے کام سے محروم ہونے کا امکان ہو گیا ہے۔ اور یہ بھی ایک بات ہے کہ اس کی وائس کو ہفتہ وار رات نو کے سامعین کی راتوں کو تباہ کرنے والا سونے والا نہیں سمجھا جاتا تھا...
ماؤں فاطمہ کا یہ فیصلہ اس بات کو بھی نظر آتے ہے کہ وہ کتنے عرصے سے ایسے سامعین سے تعلق رکھتی ہیں جو ان کی زندگی کے مختلف حصوں کو سمجھنے میں ان کی مدد کرتی ہیں، وہ اپنی یہ پچاس سالہ طویل سفر میں ان سب کا شکر ادا کر رہی ہیں جو ان کی زندگی کے ساتھ رہتے ہیں
ماں فاطمہ کی ایک بڑی کامیابی! ابھی تو اس نے ایسے حالات میں اپنی زندگی کا مظاہر کیا تھا جب اس نے اپنے بچوں کی زندگی کو ایک پہلے سے زیادہ اہم دہی میں لایا ہوتا تھا! یہ واضح طور پر طے ہوتا ہے کہ ان کی سیاست اور حیات میں ایک نaya راجستھان ہو گیا ہے!
اس ناقابل فراموش رات نو کی خبر بھی سن کر میرا دل تنگ آ گیا ہے... ماں فاطمہ ایک لائن اپ اندے کے لیے ایسا قدم اٹھانے میں جو دوسرے کو کچھ نہ کہے، وہ بھی جہاں تک سے اپنی صحت اور وقت کی لازمیاتوں کے لیے ہمیشہ ایسا کیا کرتے تھے... حالات بدل گئے، لوگ نئی ترقی سے بھرپور دیکھنا چاہتے تھے... میرے خیال میں اسے ایک پہلو کے طور پر اور ہمارے لوگوں کی لائن اپ اندے سے جو ابھرتے رہے، ایسے بھی جانتے ہیں... ماں فاطمہ کو چلنے میں ایسا نہ کیا جاتا تھا...
میری بات یہ ہے کہ میں بھی اس ایسی خبر پر اچھا لگتا ہے جو ناقابل تلافی ہےۤ۔ ماں فاطمہ کو رेडیو پاکستان سے الوداع کہنا تھا اور یہ ایک بھارپور خبری ہے۔ میری Opinion میں یہ بات یقینی طور پر صاف ہے کہ اس خبر کو پھیلانے والوں کی ذمہ داری ہوگی اور ان کا کام بھی ہی کیا جا رہا ہگا۔
کیا یے تو ماں فاطمہ بھی پاکستان ٹیلی ویژن چھوڑ دیئے؟ ان کی آخری ویڈیو میں انہوں نے ایکس پر رخصت ہونے کا اعلان کیا تو مجھے لگتا ہے انہوں نے سوشل میڈیا کی دوری سے پہلے اسے بھی چھوڑ دیا ہوگا؟
اب وہ ریڈیو پاکستان کے بلاول ہونگے اور ماں فاطمہ کو اس میں بیٹھنا پتھر ہوگیا ہوگا!
ایسے میں لگتا ہے انہیں اپنے بچوں کی ایسی پالیسی سے سوشل میڈیا پر بھی رخصت ہونے کا موقع ملا ہوگا!
ماں فاطمہ کو ان 45 سالہ ویڈیو کے بعد بھی یہی کہنا پڑتا ہے کہ آپ ماں تھین?
بھیڈی ہو گئی! ماں فاطمہ کا ایسے فیصلے سے لگتا ہے جیسا کہ وہ اچھی گالی کر رہی ہیں! اس طرح چار دہائیوں کی طویل وابستگی سے الوداع کہنا تو بہت مشکل نہیں، بلکہ کہاں تک پھونک دیں گے وہ اس کے لیے تیار ہو جائیں گی!
یہ ریکارڈ ہوا! مینے سوسائٹی میں یہ بات بھی پہچان لیا تھا کہ ماں فاطمہ کو ایسے فیصلے سے چیلنجی گئے ہو گے لیکن وہ ان کو اس وقت تک یقین نہیں کر سکتی تھیں جب تک ان کے سامعین ان کی ایسی مہارت اور شان نہیں دکھائی دی تھی۔ اور اب وہاں ہوچکی ہے اس بات کا مشاہدہ جو ہم اس جگہ پر دیکھتے ہیں کہ بھارتی فلم ایک تارفون کی بیوی ہے جو کہ ہمیں ٹیولٹس مچاتی ہے اور ان کو ٹلینٹ گئی ہے اور اس جگہ ہوچکی ہے ایک پاکستانی بھارتی فلم کا جوڑا!
میری خیال میں یہ فیصلہ اس کے لیے کم نہیں تھا جس پر وہ انہیں اپنی ٹیلی ویژن پلیٹ فارم سے الوداع کہنا پڑے گا، پاکستان ٹیلی ویژن کی دوسری اسٹیشن یو این ای – ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگ اپنی زندگی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں، اور ماؤم فاطمہ نے ان کی آخری ویڈیو پیغام میں کیا تھا اس بے حد جذبہ سے پوری دیکھنا تھا۔
بہت دیر سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن میں کتنے چھوٹے نامزدیں تھیں، اور اب انھیں ایک دوسرے سے الوداع کہنا پیا ہوا ہے۔ ماں فاطمہ کی یہ وعدہ لگتے رہے تین سال کے ایک طویل سفر سے ان کے سامعین کو بھی شوک مل گیا ہے۔ یہ ایک حقیقی نرس اور انٹرنیٹ کی ایک اچھی مثال ہے جو اس وقت تک اپنے سامعین سے منسلک رہ سکتی ہے جب تک انھوں نے اس میں اپنا کام جاری رکھا ہو۔
ماں فاطمہ کو چھوڑنے کا یہ فیصلہ تو کچھ عجیب لگتا تھا، لیکن وہ ایسے میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی رہ سکیں جنہیں زیادہ لوگ دیکھتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایسے میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی رہ سکیں جہاں آپ کو زیادہ دیکھنے کو میں ملتا ہو، مگر اب تو وہ ایکس پر ہیں اور انہوں نے بھی اپنی دلی کی گہرائیوں سے رات بری ہوئی ہے, وہ اس میڈیا پلیٹ فارمز پر اب بھی آپ کو اچھا انداز سے بتاتی ہیں جو کہ آپ کو یہ جانتا ہو گا
بھالو، یہ کیسے ممکن ہوا؟ فاطمہ جی نے بے شمار ماہ Warren کیے اور انہوں نے ایسا ایک مقام حاصل کر لیا جس سے وہ تین سال تک اپنی رات نو بچجے کے اردو خبر نامے میں دھونٹ پڑیں۔ یہ کہتے ہیں اس میں انہیں لگا کہ وہ اپنے سامعین سے الوداع کہہ رہی ہیں اور یہ انتہائی مشکل فیصلہ تھا۔ لکीन فاطمہ جی کی ایسی طاقت ہے، جس نے ان ساتھ ان کے سامعین کو ایک اچھی دیر دی۔
ماں فاطمہ کو ایسا فیصلہ کرنا پوری عرصہ تک توڑنے والا تھا کہ؟ اس نے کتنی چیلنجز کا سامنا کیا ہوگا؟ اور اب وہ اچھی طرح نہیں بتائیں کہ ان کی آخری ویڈیو میں وہ کس بات کا ذکر کر رہی ہیں؟ ایکس پر کو کہیں سے بھی نہیں پتہ چلے گا؟
مفید بھی ہو گیا کے ایکس کے لئے ماں فاطمہ نے اپنا سفر ختم کر دیا ہے، میں تین سال سے اس کی ویڈیوز دیکھ رہا تھا، ان کے پروگرام کا ماحول اسچھا ہوا کرتا تھا ، میں اپنی بچلوں کو ان کی ویڈیوز سوننے دیتا تھا، اب وہ نہیں آئیں گی تو یہ کافی متاثر کن ہو گا
بہت دیر رہا، ماں فاطمہ کا آخری ویڈیو دیکھنا تازہ ہوا ، یہ بھی نہیں سنی گئی کہ وہ کس طرح چل رہی تھیں اس وقت تک اپنے سامعین کے ساتھ جو لگتے 45 سال کا تعلق اور ان کی ایسی طویل وابستگی سے الوداع کیسے کیا جائے گا، یہ دیکھنا مشکل تھا مگر اب اچھی طرح پتا چلا ہوا…