مہاراشٹر:جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل - Latest News | Breaking News

چمپینزی

Well-known member
مہاراشٹر کے نندربار ضلع میں واقع جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم انسٹی ٹیوٹ اکل، دہلی بم دھماکوں کے بعد الگ ہو کر تنازعات میں گھر ہوا ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر کریٹ سومیا نے یہ الزام لگایا ہے کہ یہ ادارہ ملک دشمن سرگرمیاں انجام دے رہا ہے اور تعلیمی سرگرمیوں کی آڑ میں مذہب کی تبدیلی کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ادارہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈنگ سے بھرپور تھا، جسے ملک دشمن سرگرمیوں اور مذہب کی تبدیلی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

انہوں نے مزید یہ الزام لگایا ہے کہ انسٹی ٹیوٹ نے قبائلی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی زمین کو غیر قانونی طور پر ہڑپ کیا ہے اور وہاں پڑھنے والے 90 فیصد سے زیادہ طلباء بنگلہ دیشی شہری تھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اور مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو فوری کارروائی کرنی چاہئیے۔

بی جے پی کے ریاستی جنرل سکریٹری وجے چودھری نے بھی ایسا ہی الزام لگایا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کی شکایت کے بعد ہونے والی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ادارہ کالعدم اسلامی تنظیموں کو فنڈ فراہم کرتا تھا اور مذہب کی تبدیلی کے لیے کام کرتا تھا۔ چودھری نے دعویٰ کیا ہے کہ یہاں دس ہزار سے زائد طلباء ہیں، جن میں سے اکثر بنگلہ دیشی اور یمنی شہری ہیں جو غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔

حکومتیSide پر Investigations
ان الزامات کے بعد، ریاستی اور مرکزی حکومتوں نے انسٹی ٹیوٹ کے انتظام کے لیے ایک آئی اے ایس افسر کو بطور ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی جے پی لیڈروں نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ تاہم، مقامی پولیس اس معاملے پر فی الحال خاموش ہے، اور ادارے کی جانب سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

جامعہ اسلامیہ کا History
جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم 1979 میں قائم کیا گیا تھا۔ اسے اکل کووا، نندربار میں واقع ایک بڑا تعلیمی اور فلاحی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ 15,000 سے زیادہ طلباء ہیں۔ یہ ادارہ روایتی اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم بھی فراہم کرتا ہے۔ اس میں انجینئرنگ، میڈیکل، فارمیسی، لاء، اور بی ایڈ شامل ہیں۔ کالج کیمپس میں 300 بستروں کا نور ہسپتال بھی ہے، جو غریب مریضوں کو عملی طور پر مفت علاج فراہم کرتا ہے۔

لیکن اب یہ ادارہ سنگین الزامات اور حکومتی تحقیقات کی وجہ سے سرخیوں میں ہے۔
 
یہ ایک بدترین معاملہ ہے، یہ تو چھپا نہیں گیا کہ انسٹی ٹیوٹ میں بنگلہ دیشی شہریوں کی اکثریت تھی اور وہاں غیر قانونی فنڈنگ سے کام کیا جارہا ہے، یہ تو معقول نہیں ہوسکتا۔

لیکن حکومت کو بھی یہ پہلے نظر انداز کرنا چاہئیے اور وہاں کے طلباء کی جانب سے شکایتات کھینچ کر سمجھنی چاہئیں۔

یہ معاملہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم اپنے ملک میں غیر ملکی فنڈنگ کی وجہ سے کام کر رہے ہیں، اور یہ ادارہ بھی انہی حالات میں ہوسکتا ہے،

اس معاملے کا حل اس وقت حاصل ہو گا جب حکومت اور انسٹی ٹیوٹ دونوں ایک دوسرے کے خلاف کوئیProof نہیں فراہم کریں۔

لیکن اب یہ واضح ہے کہ وہاں غیر ملکی فنڈنگ کی وجہ سے کام کر رہے تھے، اور یہ معاملہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ لیکن کوئی بھی معاملہ جس میں دہشت گردی یا ملک دشمن سرگرمیوں کا ذکر کیا جائے وہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہوتا ہے، اور اس کے حل کے لیے حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہئیں۔
 
یہ تھا ایک سواال کا سوال ہے کیا یہ ادارہ دیکھتا ہے؟ پھر بھی ان الزامات پر کیسے چلپڑا ہوگا؟ میرے لئے اس معاملے میں یہ بات سب سے اہم ہے کہ 90 فیصد بنگال دیشی طلباء کا کیا مطلب ہے؟ کیا ایسا کہنا نا صحیح ہوگا?
ایسے میں یہ بات تھی کہ کیسے بھارتی نژاد دیکھتے ہیں میرے لئے ان allegationز کی جانتے سے پہلے کیسے جاننا چاہئیے؟
 
یہ اعلان آج تک نہیں تھا کہ ایک وٹرن اسسٹنٹ پروفیسر کو اس ماحول میں داخل کرایا جائے گا۔ پہلے سے ہی یہ ادارہ طالب علموں کی تعداد میں اضافہ کرتا رہا ہے، اور اب اس پر ایک ایسا الزام لگایا گیا ہے جو دوسرے تمام یونیورسٹیوں سے بھی زیادہ ہے۔ کچھ بات یہ بھی ہے کہ یہ ادارہ کسی ایسی تنظیم کو فنڈ فراہم کر رہا تھا جو دوسرے تمام یونیورسٹیوں نہیں۔ ہلچل میں سب کو بھگتایا جائے گا۔
 
یہ معاملہ تھا تو بہت بھرپور اور جسمانی ہوا ہوئی۔ میرے خیال میں یہ بات واضع ہے کہ سرکاری اداروں میں فیکلٹی کا انتظام کو لاوارث بنانے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ دیکھنا مشکل ہے کہ اس معاملے میں کیسے ساتھ گزر۔ انسٹی ٹیوٹ کو نئی انتظام کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ معاملہ سرگرمی نہیں کرے اور اس کی سرکاری سرگرمیوں میں ایک منصوبہ بنایا جائے جو صاف اور انکیشلٹنگ ہو
 
ایسا نہیں ہوگا کہ انسٹی ٹیوٹ میں بنگلہ دیشی شہری طلباء کو ایک جانب اور قبائلی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی زمین پر مظالم لگائے جائیں گے؟ یہ معاملہ انسٹی ٹیوٹ کے بزорڈ میڈیکل فراسٹ کے بارے میں ہے، جبکہ 90 فیصد طلباء تو دوسری قوم سے ہیں؟ یہ واضح طور پر ہو گا۔
 
واپس
Top