مہاراشٹر کے نندربار ضلع میں واقع جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم انسٹی ٹیوٹ ایک تنازعہ کے مرتوں میں ہے، جس سے ملکی سربراہوں نے انسٹی ٹیوٹ پر الزام لگائے ہیں اور اسے دہلی کی بم دھماکے کے بعد الفلاح یونیورسٹی جیسے اداروں کو مطالبہ کیا گیا ہے۔
بی جے پی کے سینئر رہنما کریٹ سومیا نے میڈیا کانفرنس میں ایسا الزام لگایا ہے کہ یہ ادارہ ملک دشمن سرگرمیوں کو روکنے اور مذہب کی تبدیلی کو فروغ دینے کے لیے غیر قانونی فنڈنگ سے منسلک ہے، اور یہاں 90 فیصد سے زیادہ طلباء غیر ملکی شہری ہیں، جو قبائلی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اور انہوں نے حکومت کو فوری کارروائی کرنے کی مطالبہ کی ہے۔ ووجے چودھری نے بھی ان کے بعد اٹھاائے گئے الزامات پر تبادلہ خیال کیا ہے، جیسا کہ یہ ادارہ غیر قانونی فنڈنگ سے منسلک ہے اور اس میں کالعدم اسلامی تنظیموں کو فنڈ فراہم کر رہا تھا، جو مذہب کی تبدیلی کے لیے کام کرتا تھا۔
انڈین ایکسپریس نے انڈیا ٹائمز کے مطابق ان الزامات کے بعد ریاستی اور مرکزی حکومتوں نے اس ادارے کے انتظام کے لیے ایک آئی ایس ایف افسر کو مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو بی جے پی رہنماوں نے اس کارروائی کا خیر مقدم کیا ہے۔ تاہم، مقامی پولیس اس معاملے پر فی الحال خاموش ہے اور ایسا کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
ابھی بھی یہ ووجے چودھری کی بات تھی کہ انڈیا ٹائمز نے کچھ حقیقی میڈیا کانفرنس میں شامل کی ہے نہیں؟ وہ بتاتے ہیں کہ بی جے پی کے رہنماوں نے انسٹی ٹیوٹ پر الزام لگایا ہے اور انہیں فوری کارروائی کرنی چاہئیے لیکن یہ سچنا ہے کہ وہ صرف جھوٹ بोल رہے ہیں۔ میرے مطابق وہ ادارہ اس وقت تک سزاسز کر دیا جاے گاجب تک اس کے بارے میں کوئی حقیقی proofs سامنے نہیں آ سکیں گی اور میرا خیال ہے وہ صرف دھمکاوں کر رہے ہیں۔
یہ معاملہ بہت غصے کا باعث بن رہا ہے، آپے انڈیا ٹائمز پر دیکھا کہ اس ادارے میں صرف 90 فیصد سے زیادہ طلباء غیر ملکی شہری ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ادارہ کس طرح غیر ملکی مہمات کی منصوبہ بندی کر رہا ہے؟ اور ان بی جے پی رہنماوں کو لگایا گیا کیا الزام کہیں کروگی، یہ معاملہ انتہائی سنگین ہو گیا ہے تو اب governments کو فوری کارروائی کرنے کی ضرورت ہے اور اسے یقینی بنانا ہو گا کہ یہ معاملہ ٹھیک طریقے سے حل ہو جائے
میں سوچتا ہوں کہ یہ معاملہ بھارتی سیاست میں ایک بدولت منسلک ہونے والا معاملہ ہے، 90 فیصد سے زیادہ نندربار ضلع کی طلباء غیر ملکی شہری ہیں اور یہ انٹرنیشنل سوسائٹی کے ممبئی آفیسر کے مطابق اس ادارے میں کالعدم تنظیموں سے فنڈنگ اور ملاپ کا تعلق ہوا کیا جاتا ہے؟ یہ معاملہ بھارتی سربراہوں کی ذہین رہنمائی کا حامل ہو سکتا ہے یا یہ صرف ایک غیر معمولی معاملہ تھا؟
chart
سوشل میڈیا پر اس معاملے کا توجہ دینے کی ضرورت ہے، اس بات کو بھی دیکھنا ضروری ہے کہ وہ تمام تفصیلات کیسے پیش کی گئیں اور انہیں کس طرح کیا جانتا ہے؟
graph
یہ بھی سوچنا چاہیں گا کہ یہ معاملہ کیسے حل ہو سکتا ہے اور اس میں کس طرح معاونت کی ضرورت ہے؟
اس معاملے میں یہ بات سچ ہے کہ اس ادارے کے بارے میں زورदار الزامات لگائے جا رہے ہیں، لیکن یہ سوال ہے کہ ان الزامات کی کوئی proofs ہیں؟ کیا کسی نے یہ بات یقینی بنائی ہو کی یہ ادارہ حقیقت میں ملک دشمن سرگرمیوں میں شامل ہے؟
جیسا کہ بھی لوگ بات کر رہے ہیں انڈیا ٹائمز نے اٹھائے گئے الزامات پر ایک جواب دیا ہے، لیکن یہ سوال ہے کہ اس معاملے میں کچھ کیا کیا جاسکتا ہے؟
یہ معاملہ تو بہت سنگین ہے، لیکن اس پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے کیونکہ یہ معاملہ سمجھنے کے لیے زیادہ عرصہ لگتا ہے، اس لیے کہ یہ ادارہ کیا ہے؟
اس ادارے کو فوری کارروائی کرنا نہیں ہوگی، بلکہ اس معاملے کی جھیلنے سے پہلے اس پر زیادہ تحقیق کرنا ضروری ہوگا
یہ رائے میں اچھا بات ہے کہ اس معاملے پر سرکار کو کام کرنا چاہیے، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ابھی تک کسی نہ کوئی شہری کو اسی ادارے میں رکھا جائے، اس سے یہ معاملہ مزید بدل جائے گا اور لوگ اپنے اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو واضح کرائیں گے
اس پر توجہ دینا ضروری ہے، مگر اس کے لیے انٹرنیٹ اور میڈیا میں بھی سچائی کی ضرورت ہے
جی وہ سارے حالات جھٹکے کی طرح دیکھ رہے ہیں، بی جے پی کے لوگ اس ادارے پر ایسا الزام لگا رہے ہیں کہ یہ سب کچھ کون سا کام کر رہا ہے؟ 90 فیصد طلباء غیر ملکی ہیں، تو یہ تو ایک دیکھ بھال کی کوشش ہو رہی ہے۔ اور ووجے چودھری نے یہ بتایا ہے کہ کالعدم تنظیموں سے منسلک ہونے کی بات کرو رہے ہیں، لیکن اس سے بھی یہ بات کلا نہ ہوگئی کہ یہ ادارہ کیا کام کر رہا تھا؟ فوری کارروائی کی ضرورت ہے؟ پھر یہ انڈیا ٹائمز سے بات کر رہے ہیں، وہ بھی کئی اور باتوں میں رونق لانے کے لیے کوشا رہے ہیں...
یہ سب کچھ بہت غلط ہے، یہ نندربار میں ایک ادارے پر الزامات لگائے جا رہے ہیں، کیونکہ انڈیا ٹائمز کا کہنا ہے کہ یہ 90 فیصد سے زیادہ طلباء غیر ملکی شہری ہیں، لگتا ہے وہ لوگ جو ان اداروں میں داخل ہوئے تھے اس لیے نہیں کہ وہ معتدلہ رہنماوں کی مہر ہے، یہ سب پورا سسٹم کمزور ہو چکا ہے اور اب لوگ ایسا الزام لگانے لگتے ہیں کہ یہاں سے فوج رونٹ کرتی ہے اور دھارما گتی کی وہی جگہ پر بنائی جائے گی۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ اس طرح ٹرول ہو رہا ہے، جس سے کسی کی جان بھی نہیں گھلتی . بی جے پی کے رہنماوں کے یہ الزامات بے بنیاد اور خوفناک ہیں، ان کا یہ کہنا کہ یہ ادارہ غیر ملکی شہریوں کی طرف سے فنڈنگ حاصل کر رہا ہے، یہ بھی ایک بدسلیب الزام ہے. ماہرین کے مطابق اس ادارے میں غیر ملکی شہریوں کی تعداد 90 فیصد سے زیادہ نہیں ہوسکتی ہے، یہ سب کچھ انتہائی غلط ہے .
یہ واقفہ تو بھی لگتا ہے کہ نندربار میں یہ ادارہ کیسے چلا پڑا، انہیں 90 فیصد سے زیادہ غیر ملکی طلباء کی موجودگی پر زور دیا جائے تو بھی یہ بات کبھی نہیں آئی کہ ان سب کو کیسے شامل کیا گیا؟ اور فوری کارروائی کرنے کی مطالبہ ہو تو چیئرمن کو جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے، مگر یہ بات صاف ہو گئی کہ اس معاملے میں ایسے نوجوان جنہوں نے خود کشی کی تھی ان کی واپسی بھی آسان نہیں ہوسکتی، اور یہ معاملہ کبھی تو ختم نہیں ہو سکتا
وہ تو بھی یہ سوچ رہا ہوں گے کہ وہ ادارہ کس کی فیکلٹی میں پڑھتے ہیں، یہ سب جو بھرپور بات کرتے ہیں وہی صرف اس بات پر چارچاس مانتے ہیں کہ یہ ادارہ فری سکول میں چل رہا ہے یا نہیں، 90 فیصد غیر ملکی طلباء یہ واضح کرنے کی ضرورت نہیں دیتے کہ وہ جو تعلیم لے رہے ہیں وہ اپنی ملکیت نہیں ہیں، یہ سب سے پہلے ادارے کی واضح پالیسی پر چارچاس کرتے ہیں اور اس کے بعد پھر کوئی بات کرتا ہے
یے تو انڈیا میں حال ہی کی بم دھماکے کے بعد سب کو ایسا لگ رہا ہے کہ اس ادارے میں کچھ غلطی ہوئی ہوگی، لیکن یہ بات واضح ہے کہ انڈیا میں سوشل میڈیا پر سب کو ہی بات ایک طرح سے ہار چڑھا رہی ہے اور لوگ اس معاملے پر تیز کارروائی کر رہے ہیں، تاہم یہ بات بھی واضح ہے کہ کسی نے انڈیا کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے 90 فیصد سے زیادہ طلباء غیر ملکی شہری ہونے کی بات کہی ہے اور یہ اس معاملے کا ایک بڑا خطرہ ہے، لیکن یہ بات بھی واضح ہے کہ لوگ اپنی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انڈیا میں کسی بھی معاملے کو حل کرانے سے پہلے اسے گھرے لوگوں نے اپنی طرف جھوٹ بولتے ہوئے دیکھا ہے۔
میں کہتا ہوں کیونکہ یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے، لیکن فوری کارروائی کرنے پر بی جے پی رہنماؤں نے میرا دھیما خیال کیا ہے؟ اور اس وقت کیوں انہیں یہی کہنا ہوتا ہے کہ یہ ادارہ غیر قانونی فنڈنگ سے منسلک ہے، جب کہ میرے پاس یہ بھی فخر ہے کہ انہوں نے حکومت کو اس معاملے پر توجہ دے کر دی ہے؟ اور ووجا چودھری کی بات کے بعد، میں سوچتا ہوں کہ یہی معاملہ ان کے لیے ایک بڑا فائدہ مند معاملہ ہوگا۔
اس بات کا خیال ہے کہ یہ معاملہ سिर्फ ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک بحران کے طور پر سامنے آیا ہے جس کی واضح وجہ یہ ہے کہ ملازمت کے لیے آنے والے طلباء کی تعداد میں غیر ملکی شہریوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہوتی ہے، جو اس پر دوسرے معاملات سے متعلق رہنماوں کا زور کرتی ہیں اور ان میں سب سے زیادہ طاقت وانی رہنما نہیں ہوتے، اس لیے یہ معاملہ دیکھنا ایک چیلنج ہے کہ کس طرح اس کی جائزہ لئے گی اور اس میں کوئی نئا رہنما آئے گا، ایسا کہ ایسا ہو کہ معاملات سے متعلق تمام معلومات سامنے آنے پہلے ایک ایسی پلیٹ فارم پر پھیپھڑیا جائے جو سارے افراد کو ایسا مشورہ دیے کہ جس طرح وہ معاملات کی جانت کو اپنے ساتھ لے اور اس معاملے میں فوری ناکام ہونے سے بچا جا سکے،
جب تک یہ طاقت و عارضہ کا معاملہ ہوتا رہے گا انڈیا ٹائمز کی نجی غنائی ہوگی۔ اس ادارے کو حکومت نے خودی پر ایک تھیم بنادیہے تو پھر یہ کیسے کہیں سے معاشرے کا مازہ خوا کر بھی ہوگی۔ ان 90 فیصد غیر ملکی طلباء کی وہ جگہ کی کیا اہمیت؟ اور وہ طاقت تھی جس نے اس معاملے کو ایک سیاسی کارروائی میں بدل دیا، اور اب یہاں حکومت کا ایسے ملازم انسٹی ٹیوٹ کو بھی رکن بنائے گا؟ یہ دیکھنا ہی کافی ہوگا۔
اس دھارو سے بھی کیا جاتا ہے؟ انڈیا ٹائمز کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ادارہ غیر قانونی فنڈنگ سے منسلک تھا، لیکن ووجے چودھری نے ان الزامات پر تبادلہ خیال کیا ہے؟ آج بھی اس کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا؟ اور میری خواہش ہے کہ یہ معاملہ گھبراہٹ سے نہیں لے لیا جائے، بلکہ اس کو حل کرنے کی کوشش کرو۔
یہ بھی کیا خواہش کر رہے ہیں؟ انزamam اسلامیہ جس کی وجہ سے اس معاملے میں ایسی دھامکہ کشیدگی آگئی ہے، پچاس فیصد سے زیادہ طلباء غیر ملکی شہری ہوتے ہیں، یہ تو کہیں سے بھی جاتا ہے!
ان بی جے پی رہنماؤں کی باتوں پر کوئی سانس بھی نہیں لیتی، یہ ان کے لیے اپنی پوری زندگی میں ساتھی ہیں؟ اور ووجے چودھری جی اسی طرح کی بات کرتے ہیں، اب تو 90 فیصد تک طلباء غیر ملکی ہونے پر ان کا دباؤ زیادہ ہو گیا ہے؟ یہ تو وہیں اور وہیں سے نکلنے والا معاملہ ہے!