حالیہ پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان نے دنیا کو اُس وقت ورطہ حیرت میں ڈال دیا جب انھوں نے اپنے سے دس گنا بڑی فوج کو نہ صرف شکست فاش سے دوچار کیا بلکہ فضائی محاذ پر بھارتی فضائیہ کو نشان عبرت بنا دیا، مودی کی نام نہاد عسکری طاقت اور معاشی ترقی کے غبارے سے ہوا بھی نکال کر رکھ دی۔
بھارتی فضاؤں میں چینی ساختہ لڑاکا طیاروں JF-17 اور JC-10 کو پاکستان کے فضائی جانبازوں نے اس مہارت سے استعمال کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی، خاص طور پر جس طرح فرانسیسی طیارے رافیل کو تباہ کیا، اس تباہی نے نہ صرف رافیل تیار کرنیوالی کمپنی کو مشکلات سے دوچار کردیا بلکہ طیاروں کی کوالٹی اور اس کے مستقبل پر سوال کھڑے دیے۔
اس سے قبل دنیا کے لیے رافیل طیاروں کی تباہی کو ناممکن تصور کرنے لگا تھا، اِس جنگ میں پاک فوج نے نہ صرف سات بھارتی طیاروں کو تباہ کردیا بلکہ اس کی ملٹری بیسز کو کامیابی کے ساتھ ٹارگٹ کر کے انھیں بھی تباہ کیا، اِس کے علاوہ بری اور بحری محاذ پر بھی دشمن کو پاکستانی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا گئا۔
پاکستان نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر بھارتی عزائم کو ناکام بنایا، بھارت کے خلاف پاک فوج کی کامیابی نے اسے دنیا کی بہترین فوج میں شامل کردیا ہے، اب پوری دنیا اچھی طرح جان چکی ہے کہ افواج پاکستان ملک کی سرحدوں کی محافظ اور قوم کا فخر ہے کیونکہ جس طرح پاک فوج فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں آگے بڑھ رہی ہے امریکا اور پوری دنیا ان کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ پا رہی، جو ہماری بہترین عسکری قیادت کی دانشمندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
ملک دشمن قوتیں سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف نام نہاد پروپیگنڈا کر رہی ہیں، ہماری نوجوان نسل کے کچے ذہنوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معاشی و سیاسی تباہی اور بربادی صرف اور صرف سیاستدانوں کی ناکامیوں کا نتیجہ ہے، افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ایک تو ہماری سیاستدانوں کے پاس کوئی معاشی و سیاسی وژن نہیں ہوتا اور وہ اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں کے لیے خواہشمند بن بیٹھتے ہیں، حالانکہ خوش قسمتی سے ہماری سیاسی قیادت کے سامنے چین کی معاشی و عسکری ترقی جیسا رول ماڈل موجود ہے لیکن ہم اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے یا پھر دینا ہی نہیں چاہتے۔
پاکستان کے عوام کی اکثریت سیاستدانوں کے طرز politics و طرز حکمرانی سے نالاں نظر آتے ہیں، کیونکہ حکمرانوں نے ہمیشہ سے ہی تعلیم جیسے اہم ترین شعبے کو بری طرح نظر انداز کیا ہے، صحت کا شعبہ مشکلات کا شکار رہا ہے، ملک کے سرکاری اداروں کی حالت زار دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، جو کبھی منافع بخش ادارے ہوا کرتے ہیں۔
آج خسارے میں جانے کے بعد ہم ان کی نجکاری کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، آخر یہ سب کچھ ایک دن میں تو نہیں ہوا اور نہ کوئی حکومت ان حالات سے ناواقف رہی ہوگی، لازم سی بات ہے ہر حکومت اداروں کی ناقص کارکردگی مکمل آگاہی رہی ہوگی تو انھوں نے اس سلسلے میں کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا اور کیوں انھیں تباہی سے بچانے کی کوشش نہیں کی، اگر ہے تو پھر ہم نے ان کا حل کیا نکالا ہے؟
دوسرا یہ بے روزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے عوام میں انتشار پھیل رہا ہے، بجلی، گیس اور پانی جیسی بنیادی ضروریات کا بحران حالات میں بتدریج بگاڑ پڑ رہا ہے جو ملک و ملت کے لیے نقصان کا باعث بن رہے ہیں، عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا اور ان کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہر حکومت کی اولین ذمے داری ہوتی ہے۔
لیکن جب حکمران اپنی اس بنیادی ذمے داری سے راہ فرار اختیار کرتے ہیں تو اس سے عوام میں نفرت پیدا ہوتی ہے اور پھر یہی وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ملک میں انتشار پھیلتا ہے اور پھر اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمن قوتیں ان کی ہمدرد بن کر انھیں ملک اور ملکی اداروں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
یہ بات حقیقت ہے کہ ہماری فوج کے بہادر جوانوں نے ہر موقع پر ثابت کیا ہے کہ وطن عزیز پر چاہے جیسا بھی وقت کیوں نہ آجائے جب تک ہماری نوجوانوں میں سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کا جذبہ موجود ہے تو بڑے سے بڑے چیلنجز کا مقابلہ بآسانی کیا جاسکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ماہ ایک بار پھر دنیا بھر میں پاکستان کا نام فخر سے بلند کرتے ہوئے پاک فوج کی ٹیم نے برطانیہ کے شہر ویلز میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی مشہور ایکسر سائز کیمبرین پٹرول 2025 میں گولڈ میڈل جیتا، اس مشق میں 36 ممالک کی 137 ٹیموں نے حصہ لیا اور ان تمام ٹیموں میں سے کیپٹن محمد سعد کی قیادت میں پاک فوج کی ٹیم نے مشق میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
بلاشبہ پاک فوج کی ٹیم نے کیمبرین پٹرول ایکسر سائز میں اپنی جرات، نظم و ضبط اور غیر معمولی مہارت کے ساتھ گولڈ میڈل جیت کر عالمی سطح پر ایک اور سنہری کارنامہ رقم کیا ہے، یہ مشق دنیا کی مشکل ترین فوجی مقابلوں میں شمار کی جاتی ہے، جہاں مختلف ممالک کی افواج اپنی جسمانی برداشت، حکمتِ عملی، ٹیم ورک اور جنگی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کرتی ہیں۔
بھارتی فضاؤں میں چینی ساختہ لڑاکا طیاروں JF-17 اور JC-10 کو پاکستان کے فضائی جانبازوں نے اس مہارت سے استعمال کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی، خاص طور پر جس طرح فرانسیسی طیارے رافیل کو تباہ کیا، اس تباہی نے نہ صرف رافیل تیار کرنیوالی کمپنی کو مشکلات سے دوچار کردیا بلکہ طیاروں کی کوالٹی اور اس کے مستقبل پر سوال کھڑے دیے۔
اس سے قبل دنیا کے لیے رافیل طیاروں کی تباہی کو ناممکن تصور کرنے لگا تھا، اِس جنگ میں پاک فوج نے نہ صرف سات بھارتی طیاروں کو تباہ کردیا بلکہ اس کی ملٹری بیسز کو کامیابی کے ساتھ ٹارگٹ کر کے انھیں بھی تباہ کیا، اِس کے علاوہ بری اور بحری محاذ پر بھی دشمن کو پاکستانی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا گئا۔
پاکستان نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر بھارتی عزائم کو ناکام بنایا، بھارت کے خلاف پاک فوج کی کامیابی نے اسے دنیا کی بہترین فوج میں شامل کردیا ہے، اب پوری دنیا اچھی طرح جان چکی ہے کہ افواج پاکستان ملک کی سرحدوں کی محافظ اور قوم کا فخر ہے کیونکہ جس طرح پاک فوج فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں آگے بڑھ رہی ہے امریکا اور پوری دنیا ان کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ پا رہی، جو ہماری بہترین عسکری قیادت کی دانشمندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
ملک دشمن قوتیں سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف نام نہاد پروپیگنڈا کر رہی ہیں، ہماری نوجوان نسل کے کچے ذہنوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معاشی و سیاسی تباہی اور بربادی صرف اور صرف سیاستدانوں کی ناکامیوں کا نتیجہ ہے، افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ایک تو ہماری سیاستدانوں کے پاس کوئی معاشی و سیاسی وژن نہیں ہوتا اور وہ اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں کے لیے خواہشمند بن بیٹھتے ہیں، حالانکہ خوش قسمتی سے ہماری سیاسی قیادت کے سامنے چین کی معاشی و عسکری ترقی جیسا رول ماڈل موجود ہے لیکن ہم اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے یا پھر دینا ہی نہیں چاہتے۔
پاکستان کے عوام کی اکثریت سیاستدانوں کے طرز politics و طرز حکمرانی سے نالاں نظر آتے ہیں، کیونکہ حکمرانوں نے ہمیشہ سے ہی تعلیم جیسے اہم ترین شعبے کو بری طرح نظر انداز کیا ہے، صحت کا شعبہ مشکلات کا شکار رہا ہے، ملک کے سرکاری اداروں کی حالت زار دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، جو کبھی منافع بخش ادارے ہوا کرتے ہیں۔
آج خسارے میں جانے کے بعد ہم ان کی نجکاری کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، آخر یہ سب کچھ ایک دن میں تو نہیں ہوا اور نہ کوئی حکومت ان حالات سے ناواقف رہی ہوگی، لازم سی بات ہے ہر حکومت اداروں کی ناقص کارکردگی مکمل آگاہی رہی ہوگی تو انھوں نے اس سلسلے میں کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا اور کیوں انھیں تباہی سے بچانے کی کوشش نہیں کی، اگر ہے تو پھر ہم نے ان کا حل کیا نکالا ہے؟
دوسرا یہ بے روزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے عوام میں انتشار پھیل رہا ہے، بجلی، گیس اور پانی جیسی بنیادی ضروریات کا بحران حالات میں بتدریج بگاڑ پڑ رہا ہے جو ملک و ملت کے لیے نقصان کا باعث بن رہے ہیں، عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا اور ان کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہر حکومت کی اولین ذمے داری ہوتی ہے۔
لیکن جب حکمران اپنی اس بنیادی ذمے داری سے راہ فرار اختیار کرتے ہیں تو اس سے عوام میں نفرت پیدا ہوتی ہے اور پھر یہی وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ملک میں انتشار پھیلتا ہے اور پھر اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمن قوتیں ان کی ہمدرد بن کر انھیں ملک اور ملکی اداروں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
یہ بات حقیقت ہے کہ ہماری فوج کے بہادر جوانوں نے ہر موقع پر ثابت کیا ہے کہ وطن عزیز پر چاہے جیسا بھی وقت کیوں نہ آجائے جب تک ہماری نوجوانوں میں سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کا جذبہ موجود ہے تو بڑے سے بڑے چیلنجز کا مقابلہ بآسانی کیا جاسکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ماہ ایک بار پھر دنیا بھر میں پاکستان کا نام فخر سے بلند کرتے ہوئے پاک فوج کی ٹیم نے برطانیہ کے شہر ویلز میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی مشہور ایکسر سائز کیمبرین پٹرول 2025 میں گولڈ میڈل جیتا، اس مشق میں 36 ممالک کی 137 ٹیموں نے حصہ لیا اور ان تمام ٹیموں میں سے کیپٹن محمد سعد کی قیادت میں پاک فوج کی ٹیم نے مشق میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
بلاشبہ پاک فوج کی ٹیم نے کیمبرین پٹرول ایکسر سائز میں اپنی جرات، نظم و ضبط اور غیر معمولی مہارت کے ساتھ گولڈ میڈل جیت کر عالمی سطح پر ایک اور سنہری کارنامہ رقم کیا ہے، یہ مشق دنیا کی مشکل ترین فوجی مقابلوں میں شمار کی جاتی ہے، جہاں مختلف ممالک کی افواج اپنی جسمانی برداشت، حکمتِ عملی، ٹیم ورک اور جنگی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کرتی ہیں۔