کراچی میں گل پلازہ کا دورہ: شہریوں کی احتجاج اور مرتضیٰ وہاب کی سچائی
19 جنوری 2026 کو کراچی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے شہر کو تباہ کر دیا۔ گل پلازہ جہاں ایک گھنٹے سے آگ لگ چکی تھی، وہاں سے ان کے بعد میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے دورہ کیا۔
مرتضہ وہاب کی ایسے دورے کی آواز اور شہریوں کی احتجاجی دھونڈھ میں نئی دلی کی بھی کوئی نہ کوئی تشبیہ ہے۔ ان کا ایسا کہنا تھا کہ شہریوں نے نعرے لگائے، جبکہ وہ اپنے دورے پر قائم ہونے والی شہریوں کی دکھ سے آوارہ تھے۔
اس کے بعد انہوں نے یہ کہا کہ شہر میں آگ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا مشکل ہے، جس کی وجہ سے آگ اور دھماکہ دہی کو پہلے سے زیادہ خوفناک بنایا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس شہر میں تین راتوں سے چار دھواپ آرہے ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کو ان آگ و دھماکہ کے خوف سے لگتا ہے۔
گل پلازہ کے اس دورے میں شہریوں نے ایسا کردار ادا کیا جو آخری گھنٹے میں ان کی حقیقی دلی اور جذبات کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ اپنی جگہ پر موجود تاجروں نے بھی بتایا کہ ایک راستے سے ہی فائر فائٹر جا سکتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ لوگوں کو اس بات پر مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں میں ہی رہتے ہیں۔
لوگ جانتے ہیں کہ گل پلازہ کو دھونڈھنے کی کوشش میں لاپتہ افراد کی بھی کئی تلاشت کی گئی ہے، جس سے اس شہر میں اور یہاں تک فائر فائٹر کی ناکامی کا باعث بن رہا ہے۔
ان تمام واقعات کو دیکھتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ 65 سے زائد لوگ لاپتہ ہیں، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات پائیں آ رہی ہیں۔
ان کا یہ کہنا بھی اچھا لگتا ہے کہ شہر کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فائر فائٹر کو 24 گھنٹوں میں آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کی کامیابی بھی ان کی ذمہ داریوں سے آتی ہے۔
اس پرانے شہر میں جسے ہاضمی اور لالچ کا شہر سمجھا جاتا تھا، اب وہ شہریں اپنی آواز کی سرشار رہیں ہیں۔
یہ بہت دکھ کا وقت ہے گل پلازہ کے لیے اور وہاں کے لوگوں کی جانوں کو، جب انہوں نے اپنی دھونڈھی میں محنت کئی ۔ وہ شہریں جو ایسے حالات میں بھی اپنی دلی اور جذبات کو ظاہر کرتے ہیں، ان کی سرाहनے کی لازمی ضرورت ہے۔
گل پلازہ کا یہ واقعہ دیکھ کر میں سوچتا ہوں کے شہر میں بھی لوگ اسی طرح کی سچائی سے آواز آ رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ شہریوں نے ایسا کردار ادا کیا جیسا کہ وہ اسی کے حوالے سے بھی آواز آ رہے تھے۔
یہ دیکھتے ہوئے میں سمجھتہ ہو کہ گل پلازہ کا اس دورہ شہر کی آواز کو واپس لائے ہیں، جو طے کرنے پر قائم نہیں تھا۔ اب وہ لوگ اپنی دلی اور جذبات کو ظاہر کرتے ہوئے آواز کی سرشار ہو رہے ہیں، جو کچھ سے قبل چھپا ہوا تھا۔
لارڈز اور سیاست دانوں نے اس وقت سے ہی گل پلازہ کا دورہ کیا ہوتا ہے، لیکن یہ واقعہ نے شہر کو تباہ کر دیا ہے اور جس کی وجہ سے لوگوں کے خوف کا ایک نیا پہلو ہو گيا ہے
اس واقعے میں شہریوں نے اپنی حقیقی دلی اور جذبات کو ظاہر کیا ہے، وہ اپنے گھروں میں ہی رہتے ہیں اور تاجروں کی جسمانی موجودگی سے بھی کچھ ٹکرانا پڑتا ہے۔ یہ بات بھی دیکھنی چاہئیں کہ فائر فائٹر کی ناکامی کو کیسے حل کیا جاسکتا ہے؟
شہر کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے 24 گھنٹوں میں آگ بجھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، لیکن یہ کام ان کی ذمہ داریوں سے آتا ہے اور اسے نافذ کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کیا جاتا ہے۔
جب تک یہ شہر تباہ نہیں ہوتا، لوگ اپنی زندگیوں کو روک کر اس کی ذمہ داریوں پر زور نہیں دیتے ہیں۔ لیکن یہ بات سچ ہے کہ جب تک شہر تباہ ہوتا رہتا ہے، شہریوں کو اپنی صحت کا خیال نہیں آتا ہے اور وہ اپنی زندگیوں پر بھار پڑنے سے بچانے کی چیلنج کا سامنا کر رہتے ہیں
یہ غلط ہے کہ شہر میں فائر فائٹر کو دھونڈھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے، اس لیے نہیں پوچھتے کہ اس کے لئے لاپتہ افراد کی چھانپنا مشکل ہوتا ہے؟ اور شہر میں جس قدر دھماکہ دہی ہوتی ہے وہ ایسی ہو گئی ہے جو پہلے کی طرح نہیں تھی، یہ بھی ایک ایسا واقعہ ہے جیسا اس شہر میں نہ ہونے والا ہوتا کہ وہ اس کی ذمہ داریوں سے آتی ہے۔
یے تو گل پلازہ کے دورے میں ملنے والے واقعات کو دیکھتے ہوئے، میرا لگتا ہے کہ شہریوں کی احتجاجی دھونڈھ نے انہیں اپنی حقیقی دلی اور جذبات ظاہر کرنے کی اجازت دی ہوگی۔ اس میں سے کوئی بھی بات نہیں ہوتی جو وہ شہر میں تین راتوں سے چار دھواپ آرہا ہے، جس کی وجہ سے لوگ ان آگ و دھماکہ کے خوف سے لگتے ہیں۔
شہر میں تاجروں کا بھی یہ کردار ادا ہوتا ہے جس کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں ہی رہتے ہیں، اس بات پر مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ ان آگ و دھماکہ سے دور رہتے ہیں۔
اس شہر میں ایسی situation نہیں بن سکتی جس پر شہریں اپنی حقیقی دلی اور جذبات کو ظاہر کرنے کے لیے آجازت دیگی۔
اس معاملے میں یہ بات ان سے نہیں کہی جا سکتی کہ شہر کے حالات انتہائی خراب ہیں۔ پچھلے بھی سنیے تھے کہ اس شہر کی کھوٹیوں کو چھپایا جاسکتا ہے، لیکن اب وہ لوگ اپنے حق میں آئے ہیں۔
اس وقت کسی نے اس شہر کو دیکھا تو ایک مختلف کراہی دیکھنا پڑی جس سے کوئی نہیں توقع کر سکتا تھا۔
لگتا ہے کہ گل پلازہ کے اس واقعے نے تمام شہر میں آگ اور دھماکہ کی سزا کو سنہری بنایا ہوگا!
اس واقعے کے بعد کراچی کے شہری یقین لاتے ہیں کہ وہ اپنی زندگیوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کی آواز سننے والے مہمначیوں کو اس بات کا ایک نئا ماحول مل گیا ہوگا!
انھوں نے اپنی جگہ پر موجود تاجروں سے بھی سچائی کہا ہے کہ وہ لوگ پورے شہر میں دھواپ آتے ہیں اور اس کی وجہ سے لوگوں کو ان آگ و دھماکے کا خوف لگتا ہو، لیکن وہ ابھی تو اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں!
لیکن یہ سب کی بات ہے کہ شہر میں آگ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا مشکل ہے، اس لیے وہ لوگ اپنی زندگیوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کی آواز سننے والے مہمначیوں کو بھی یہی مشاورت مل رہی ہے!
اس واقعے سے ہر کوئی متاثر ہو گا ، لاکھوں کے شہر میں ایسا واقعہ دیکھ کر آپ بھی اچھی نیند نہیں سے پائے گے ۔ گل پلازہ کی آگ اس قدر تباہ کر دی جس کے بعد شہر کا ایک حوالہ تبدیل ہو گیا ہے ، نئی دلی سے وہاں میئر مرتضیٰ وہاب آئے تو وہاں ہونے والے حالات کو دیکھ کر آپ کے جسم پر بھی پریشانی کی لہر چلنے لگی ہو گی ، آپ سے پوچھنا پڑے گا کہ یہ شہر کیسے کیا ہوا دیکھتا تھا؟
بلاشبہ یے گل پلازہ کا واقعہ کراچی میں ایک بڑا سچائی کا دورہ تھا!
شہریوں نے اپنی احتجاجی دھونڈھ میں مرتضہ وہاب کو آگے لایا اور ان کی باتوں پر ان کا اثر ہوا!
لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ شہر میں ایسے واقعات کے بعد بھی اس کے لئے کوئی حل نہیں ملتا، آگ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا بھی مشکل ہوتا جائے گا!
اس شہر میں تین راتوں سے چار دھواپ آرہے ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کو ان آگ و دھماکہ کے خوف سے لگتا ہے!
اس پرانے شہر میں جسے ہاضمی اور لالچ کا شہر سمجھا جاتا تھا، اب وہ شہریں اپنی آواز کی سرشار رہیں ہیں!
تم سے پوچی وہی بات کے لئے یہ کہتا ہے کہ گل پلازہ کا دورہ اور شہریوں کی احتجاجی دھونڈھ میں ان کی کوشش ایک بڑی حقیقت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ یہ شہر جس میں تین راتوں سے چار دھواپ آرہا تھا، اب وہ لوگ اپنی جگہ پر موجود ہیں اور اپنی آواز کی سرشار ہیں۔
اس سے پوچی بات کے لئے یہ بھی کہتا ہے کہ شہر میں فائر فائٹر کا تعین کرنا مشکل ہے، کیونکہ اس شہر میں لوگ اپنے گھروں میں ہی رہتے ہیں اور دوسری طرف بھی لوگوں کو ان کے قریب لانے سے پہلے اس بات پر مجبور کرنا پڑتا ہے۔
اس کے ناطے شہر کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فائر فائٹر کو 24 گھنٹوں میں آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کی کامیابی بھی ان کی ذمہ داریوں سے آتی ہے۔