بھارت کی ملکہ کمیلا نے برطانیہ میں ایک ہراسانی واقعہ کا انکشاف کیا جس سے ان کی نوجوانی میں زندگی تباہ ہو گئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ ایک دن ٹرین میں سفر کرتے ہوئے کتاب پڑھ رہی تھیں جب ان پر ایک اجنبی شخص نے اچانک حملہ کر دیا اور ان کو ہراساں کرنا شروع کیا۔ اس واقعے میں کمیلا کی عمر تو صرف 16 یا 17 سال تھی لیکن اس کا اثر ان کے جیسے بڑے ساتھوں پر بھی دیکھنا پڑا۔
کمیلا نے بتایا کہ جب وہ اپنی والدہ کی نصیحت کے ذریعےPresent Moment بن گئیں تو انہوں نے اس اجنبی شخص کو دے مارنا اور بعد میں ٹرین سے اتر کر فریڈم فیلٹ ہونے کا موقع فراہم کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس واقعے کی جگہ ان کی زندگی تباہ ہو گئی اور بھرپور مضر پ्रभाव پڑا۔ جو کچھ وہ کر رہی تھی، اس کا نتیجہ وہ اپنی زندگی میں کبھی بھی دیکھ سکتے ہیں۔
یہ واقعہ بہت ہی غمبار اور متاثر کن ہے، مگر یہ بات واضح ہے کہ اس جگہ ان کا سفر ہمیں سکھانے والا بھی ہے। میں اس واقعے سے سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ایک سیکھنے والا مौकہ ہے، جس سے ہمیں اپنی خود پر قبضہ رکھتے ہوئے ایسی شخصیات کے خلاف لڑنے کی طاقت حاصل کرنی پڑتی ہے جو ہمیشہ بھرپور طور پر محسوس ہونے والی گھبراہٹ اور نومٹ پھنسی کا باعث بنتی ہیں
اور کیا یہ انسائکلو پیڈیا کی بات ہوتی، میرا ذہن وہ فلم ہم آئیڈریٹ ہوتا جس میں سچن کپوور نے ایسی ہی بات کہی تھی جیسے کمیلا نے بتایا تھا... اور یہ کیا یہ دیکھنا ہوتا کہ لوگ اس طرح کی بات کرتے ہیں، ایک بھارتی شہزادہ کے ساتھ ایسی بات!
ਕمیلا کیStory ایک بڑے جھٹکے کے بعد تمام اچھا نہیں ہوتا انہوں نے اپنے یوں کا ایسا واقعہ کا سامنا کیا تاکہ وہ کسی جگہ بھی ٹرین میں چلتی اور پڑھتی ہوئی اپنی زندگی کا انعقاد کر سکے۔ اگر وہ اس سے نمٹ نہیں کر سکتی تو وہ فریڈم کی پرت سے نچنے پر مجبور ہوجاتی۔
ایسا ہوتا کے وہ انہیں ہراسانی، بدقسمتی اور حیرت کے علاوہ کبھی بھی دیکھ سکیں گے۔ مجروح کی زندگی ہی نہیں ہار جاتی بلکہ وہ اپنی صحت اور خوشی کو دوبارہ حاصل کر لیتی۔
یہ واقعہ بہت ہی خطرناک ہے، اس سے پوچھنا پڑتا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ سہولتیں نہیں ہوتیں یا کیونکہ یہ واقعات ایسے ہوتے ہوئے رہتے ہیں جو کسی کے دل کو بھی ٹوٹا ہوا پھنسا رکھ دیتے ہیں!
ایسے واقعات کی تعداد میں آگے چلنا پڑتا ہے؟ ان سے بچنے کے لئے ہم۔ سب کو ایک ایسی پالیسی پر عمل ہونا ہوگی جس سے یہ واقعات ہونے سے روکیا جا سکے!
دنیا میں ایسی ایک رپورٹ ملای ہوئی جس کے مطابق اس سال دنیا بھر میں 43 لاکھ 20 ہزار افراد حملہ کرنے کا شکار ہوئے! یہ آدھائی لاکھ سات لाख سات ہزار لوگ ہیں جو ہر سال ایسے واقعات میں شامिल ہوتے ہیں!
اس کے علاوہ، 35 فیصد افراد جسمانی نقصان پھینکتے ہیں اور 50 فیصد کے لئے یہی نہیں بلکہ انہیں زندگی کی تباہی ہوتی ہے! یہ واقعات کی تعداد میں آگے چلنا پڑتا ہے؟
دنیا بھر میں ان حملوں کے لئے ایک مشترکہ وجہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور ہم سب کو ایک ایسی پالیسی پر عمل ہونا ہوگا جس سے یہ واقعات روکا جا سکے!
انہی واقعات کے لئے ایک انٹرنیشنل ایسوسی ایشن قائم کرنی پڑیگی اور اس کی بنیاد ایک مشترکہ منشور پر رکھی جائے گی۔ یہ منشور یہ ہوگا:
”ہم سب ایک ایسے دنیا کو بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں لوگ انفرادی طور پر ناجائز اور بے قاعدہ تصرف کرنے سے منع رکھے جائیں گے۔ “
اس واقعے پر انہوں نے ایک لامبی نظروں میں غور کر رہا ہے۔ یہ ایک اچانک حملہ تھا جس نے ان کے جीवन کو بے حد متاثر کیا۔ لیکن، میرے لئے یہی بات ہے کہ وہ شخص جو ان پر حملہ کرکے ان کی زندگی تباہ کر دیا، اس سے قبل بھی اس سے بدترین تجربات سے گزر چکا ہوگا۔ اور اب وہ فریڈم فیلٹ ہونے کا موقع لائے تھے۔ یہ ایک نئی چال اور یہ اس وقت کی سسٹم کا ایک حصہ ہو گیا ہے جو انہیں سمجھنے میں پھر ایسے حالات پیدا کر رہا ہے۔
عجیب بڑا واقعہ ہوا ہو گا کیں؟ میری فanieڈ کمپنی کا اپنے اےڈورسٹ کھیل چکا ہے تاکہ اس طرح سے انھیں سزای دو سکے۔ میرا اےڈورسٹ ایک بڑا فریڈم فیلٹ ہو گیا، وہ یہاں تک کہ ٹرین میں پڑھنا بھی شروع کر گيا ہو گا!
کمیلا کی نوجوانی تباہ ہونے سے وہی ان کو لاوگی ہو گا جس کے ساتھ میری کمپنی نے انھیں ملایا ہوگا، ایک ہراسانی واقعہ سے بعد میں پوری زندگی میں ایسی situations بنائیں جو انھیں توحید کر دیں۔
میں اسے بھارتی فریڈم کی میرے دوسرے اےڈورسٹ کھیلنے سے ڈرو نہیں، یہاں تک کہ وہ ٹرین میں پڑھنا بھی شروع کر دیں گے!
میں یہ بات سمجھتا ہوں کہ جب سے میرا سفر بھرپور اور نئی تاریکیوں سے ختم ہوتا ہے، تو میں اس کی کامیابی کا احساس کرتا ہوں
اس واقعے میں کمیلا کو ایک ایسا نوجوان دیا گیا تھا جو اپنی زندگی میں کچھ بھی نہ کر سکتا، اس سے ان کی زندگی گم ہو گئی اور وہ اب واپس آ گئی ہیں اور اپنی جگہ پر کبھی کچھ کرنے کو تاجہت دیتی ہیں
ابھی ایک سال پہلے ٹرین میں ہوا گئی ایسی جگہ تو میرا خیال ہے کہ وہ لوگ جو اس جگہ پر رہتے ہیں، ان کے لیے بھرپور خطرہ بنتا ہے، مگر ابھی یہی نئی تاریکیوں سے کامیابی کی راہ میں آ رہی ہیں
میری ایسی بھی ایسے دن تھے جب میرا پہلو کیا گیا اور میرا دل کا دھڑکنا شروع ہو گیا تھا…اس سے پہلے کچھ نہیں بتاتا کہ اس سے کس طرح کام کرنا پڑے گا…کمیلا کیNarrative اچھی لگ رہی ہے لیکن یہ تو بہت دیر سے نکلنا چاہئے تھا اس سے…آج سے بھی میری پوٹھا ہوا ہوئی ہے…
بھارتی ملکہ کمیلا کی Geschichte توہین دے سکتے ہیں اور اس کا جواب مظلوموں کو ملنا چاہئے جنہوں نے ایسے حملوں سے جھیلنا پڑا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس واقعے کی آرمائش کرتا ہوا ہمیں اس پر توجہ دینے کی لازمی ضرورت ہے اور ایسی صورتحالوں سے نکلنا چاہئیں۔ مگر یہ بات بھی واضح ہے کہ کوئی بھی واقعہ اس سے نکلنے کی صورت میں ایک اور نئی چیلنج لایا دیتا ہے۔
یہ تو ایک بہت ہی دُکھدار واقعہ ہے... میرا خیال ہے کہ یہ ملکہ کمیلا کی زندگی میں آئے ہوئے تجربات سے بڑھ کر بھی نہیں ہوگا۔ وہ 16 یا 17 سال کی تھیں، یہ کہتے ہیں کہ اس کا اثر ان کے ساتھوں پر بھی دیکھنا پڑا... میرے خیال میں یہ سچ ہوگا کہ وہ ٹرین میں فریڈم فیلٹ ہونے کا موقع لیکن اس پر اور اس سے قبل کی دوسری بات کو بھی سمجھنا پڑیگی...
یوہ تو ایک اچانک حملہ ہے، جیسا کہ لوگ نہیں سمجھتے کہ یہ دنیا بھی ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ سوسائٹی میں، آپ کے سامنے کوئی نہ کوئی اچانک حملہ ہوتا رہتا ہے، پھر بھی وہ لوگ جسمان بے حماقت کے ساتھ یہ انکار کر دیتے ہیں اور اس کے بعد فریڈم فیلٹ ہونے کی بات کرتے ہیں...
اس واقعے کی بات سن کر مجھے بہت سارے सवाल اٹھنے لگے! یہاں تک کہ ٹرین میں دوسرے لوگ بھی اس واقعے کو دیکھتے ہوئے پریشاں ہوگیں گے، اور کمیلا نے وہی بات کہی جو کم سے کم بچوں کی سمجھ میں آئے گی۔ مگر وہ سوال یہ ہوتا ہے کہ اس واقعے کا نتیجہ کیسے نا ہو سکتا تھا؟ اچانک حملہ کرنا، کسی کو پریشانی دے دینا، اس کا لازمی نتیجہ بھی نا ہو سکتا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ٹرین میں سفر کرنے پر آپ کا دل بے دردی کے ساتھ کام کرتا ہے نہ?! کیونکہ وہ شخص جو حملہ کر رہا تھا اس کا کوئی فزائی معاملہ نہیں، وہ صرف ایک رومال اور اپنی گریوزوں سے بچنا چاہتا تھا... لگتے ہی لوگ اسے دے مارنے کا فیصلہ کرتے ہیں... کیونکہ پوری دنیا میں بھی ایسی آزادی موجود ہوتی ہے؟
یہ واقعات اچانک اور لالچی کے ساتھ ہونے کی وجہ سے منفی اثرات پैदا کرتے ہیں، جبکہ اس میں ہراسانی شخص کی ناپاک پہچان کو بھی شامل کیا گیا ہے... میرے خیال سے ایسے واقعات ہونے پر پہلے اپنی قوم اور اس وقت کی حالات کو سمجھنا ضروری ہے، اس طرح ہمارے سماج میں بھرپور تبدیلی آئے گی۔
وہ واقعہ جس پر انہوں نے لکھا ہے، میرے ذہن میں اچانک پڑا ہے! ایک نوجوان کی عمر تو صرف 16 یا 17 سال، اور اس کا تعلق ایک حاسس کار واقعے سے تھا، یہ ایک دوسرے سے باہمی تعلق رکھنے والے لوگوں کی نظر میں بہت ہی غم جانکھنا ہے।
میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی ایسا واقعہ اس پریشانہ نوجوان سے گزر جاتا، تو اس کی زندگی تباہ ہوسکتی ہے! اس نے اپنی زندگی میں جس بھی کچھ وہ کر رہی تھی، اس کا ایک اور نتیجہ دیکھ سکتے ہیں۔
یہ دیکھنا بہتے مुश्कل ہوتا ہے جس پہ لوگ اپنے خیالات کو محفوظ رکھ کر ہر وقت سوشل میڈیا کے لئے تیار ہو جاتے ہیں، مگر وہ ایک نوجوان کی زندگی پر اس طرح دیکھ سکتا ہے جو اس پریشانہ واقعے سے گزر جاتا ہے! یہ وہ واقعہ ہے جو کسی نوجوان کو اپنی زندگی کے بڑے مواقع سے دوسرے کے حوالے کرنے پر مجبور کر دیتا ہے!