کم عمری کی شادی اور طالبان | Express News

فری فائر کنگ

Well-known member
افغانستان میں طالبان کی حکومت نے ایک دستور جاری کیا ہے جس میں خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا کوئی ذکر نہیں ہے، جو اس صورتحال سے بھی گہری ترسیل کا مظاہرہ کرتا ہے جب افغانستان میں ایک طالبان کی حکومت ہونے والی صورتحال کو دیکھتے ہیں جس نے خواتین کے حقوق کو بھی ختم کر دیا ہے۔

ان کا دستور غلامی کے اداروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے، جو اس معاشرے کے حوالے سے ایک نوجوان شادی کی کم عمر کی شادی پر پابندی عائد کرنے کا ایک قدم تھا۔

اس طرح طالiban حکومت نے 12 اور 15 سال کی بچیاں اپنی خواتین بنانے کے لیے مجبور کر دیا ہے، جو اس معاشرے سے ایک گہری خطرناک صورتحال کی طرف لے جاتا ہے۔

سائنس دانوں اور سماجی ماہروں کا کہنا ہے کہ بچوں کی شادی پر پابندی خواتین کے لیے ایک گھریلو تشدد کی صورت میں بدل جائے گی، جو اس معاشرے سے ایک خطرناک صورتحال کی طرف لے جاتا ہے۔

بچپن کی شادیوں سے خواتین کو بھی کافی نقصان پہنچتا ہے، جو ان کے معاشی اور سماجی حالات کو بھی خراب کر دیتی ہے۔

بنگلہ دیش میں اس صورتحال سے نجات مل گئی تھی جب برسر اقتدار حکومتوں نے آبادی کے پھیلاؤ کو روکنے کی مہم چلائی، اور کم عمری میں شادی پر بھی پابندی عائد کردی گئی تھی۔

اس وقت پاکستان میں بھی شادی کے لیے 18 سال کی عمر ہے، جو ایک معاشرتی صورتحال کو بھی ختم کر رہی ہے۔

پاکستان میں کم عمری میں شادی کی وجہ سے لوگوں کی صحت کا نقصان بھی ہوا ہے، جس سے ان کی زندگی کو بھی خراب کر دیا گیا ہے۔
 
اس نئے دستور میں خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کی کمی ایک بد عرصہ کا مظاہرہ ہے، جو افغانستان کو بھی اس صورتحال میں پھنسی دے رہا ہے جس سے پاکستان نے اپنا معاشرہ safe بنایا ہے 🤕

بچپن کی شادیوں سے خواتین کو بھی کئی نقصان پہنچتا ہے، جس سے ان کی زندگی بھی خراب ہوتی ہے، اس لیے ایک نوجوان شادی کا معاملہ بھی ایک گھریلو تشدد کا مظاہرہ ہے، جو خواتین کے حقوق کو بھی نقصان دہ بناتا ہے 😠
 
ایسا تو عجیب ہے افغانستان میں طالبان کی حکومت نے خواتین اور اقلیتوں کے حقوق سے بھی گھبراتے ہوئے دستور جاری کیا ہے ، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کے حقوق کو توڑنے کے لیے ایک نئی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے.

جب بچپن کی شادی کو ایک دستور میں شامل کیا جائے تو یہ ان بچوں کو ایسا بھی بناتا ہے جو اس معاشرے سے ایک خطرناک صورتحال کی طرف لے جاتا ہۈ.

جب تک یہ معاشرہ آج نہیں بنتا جس میں خواتین کے حقوق کو سمجھنے کی اجازت دی جائے تو یہ طالبان کی حکومت کے دستور کو ایک خطرناک صورتحال کی طرف لے جاتا ہۈ.

اس معاشرے میں لوگوں کے معاشی اور سماجی حالات بھی خراب ہو سکتے ہیں.
 
Taliban government ka constitution kitna bura hai, khatoon aur qulato ki right sab kuch mention nahi kar raha! yeh gair-kanoon ki talash hai, jese ki ghulami ke madhyam se unki zindagi ko khatm karne ka ek tarika hai. bas isse uss maashiro mein 12 aur 15 saal ki betiyon ko bhi khatoon banane ke liye pakad lete hain. yeh gair-kanoon ki talash hai!
 
اس دستور میں خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کی کچھ بات نہیں ہونے کی صورتحال افغانستان کے معاشرے کو بھی گہری خطرناک صورتحال میں پہنچا دیتی ہے ~ 😬
 
Taliban کی ایسی حکومت نہیں چلی سکتی جو خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کو مکمل طور پر نظر انداز कर دیتی ہو 🤯 اس طرح کی حکومت نے افغانستان میں بھی ایک گہری صورتحال پیدا کر دی جائے گی جو اس معاشرے سے ایک خطرناک طرف لے جائے گی۔

جب تک 12 اور 15 سال کی بچیاں اپنی خواتین بنانے کے لیے مجبور نہیں ہوتا تو معاشرے میں ایک سدiments لگتا جائے گا، جو آگے چل کر ایک خطرناک صورتحال کی طرف लے جائے گا۔

بچپن کی شادیوں سے خواتین کو بھی کافی نقصان پہنچتا ہے، جو ان کے معاشی اور سماجی حالات کو بھی خراب کر دیتی ہے اس لئے یہ حقیقت تو ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک خطرہ ہے جو اب تک بنگلہ دیش میں آ کر رہا تھا جب انھوں نے آبادی کے پھیلاؤ کو روکنے کی مہم چلائی اور کم عمری میں شادی پر بھی پابندی عائد کردی۔
 
Taliban نے ایک دستور جاری کیا جو خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کو مکمل طور پر نظر انداز کرتا ہے. یہ آسان ہو رہا ہے کہ اس طرزِ حکومت نے معاشرے میں خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کو روکنے کی لہر ہار گئی ہے.

اس دستور کے ساتھ ہی یہ بھی نازک بات ہے کہ ایسا دستور ہو سکتا ہے جو غلامی کے اداروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے. اس طرح ایک نوجوان شادی کی کم عمر کی شادی پر پابندی عائد کرنے کا ایک قدم ہے، جو کہیں بھی ایسے معاشرے سے گزر جاتا ہے.

جب تک اس صورتحال کو دیکھتے ہیں جب افغانستان میں طالبان کی حکومت ہونے والی صورتحال میں خواتین کے حقوق کی بھی نقصان کا احساس ہوتا ہے.

بچوں کی شادی پر پابندی بھی ایک خطرناک صورتحال کے لئے ایک قدم ہے. سائنس دانوں اور سماجی ماہروں کا کہنا ہے کہ یہ خواتین کی جانب سے ایک گھریلو تشدد کی صورت میں بدل جائے گی.

سچائی کے بغیر یہ معاشرے بھی خراب ہو جاتا ہے.
 
Taliban کی حکومت نے ایک دستور جاری کیا ہے جو خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا کوئی ذکر نہیں کرتا ہے، یہ تو آسان ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس معاشرے میں خواتین کے حقوق کو واپس لینے کی کوشش کی جا رہی ہے یا نہیڹ؟

بچوں کی شادی پر پابندی عائد کرنے سے نتیجہ یہ ملتا ہے کہ خواتین کو گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ایک خطرناک صورتحال ہے۔

اس معاشرے میں بچپن کی شادیوں سے خواتین کو نقصان بھی پہنچتا ہے اور ان کے معاشی اور سماجی حالات خراب ہوتے ہیں۔
 
تمام لوگ افغانستان میں طالبان کی حکومت پر غضب کرتے ہیں اور انھوں نے خواتین کے حقوق کو توڑ دیا ہے، لیکن یہ بات تمنے نہیں سوچا کہ طالبان کی حکومت نے غلامی کے اداروں کو تحفظ فراہم کرنا بھی تھا؟ اس سے انھوں نے ایک نوجوان شادی کی کم عمر کی شادی پر پابندی عائد کرنے کا ایک قدم تھا، اور یہ وہی بھی بات ہے جو بنگلہ دیش میں شادی کے لیے پابندی عائد کرنے سے پہلے بھی تھی۔

تمنے نہیں سوچا کہ 12 اور 15 سال کی بچیاں اپنی خواتین بنانے کے لیے مجبور کی جائیگی؟ یہ بھی ایک گہری خطرناک صورتحال ہے جو اس معاشرے سے دوسرا نقصان پہنچائے گی۔
 
بہت غلط ہے اس معاشرے میں خواتین کے حقوق کو بھول دينا، یہ طالبان کی حکومت نے ایک بد قوم ہے۔ شادی کی کم عمر خاتونوں کے لیے بچپن کا شکار ہونا ایسی صورتحال سے نہیں لگتی جس میں ان کو اپنی زندگی کو چھوڑنا پڑے۔ یہ طالبان کی حکومت نے ایک وہ صورتحال کا مظاہرہ کر رہی ہے جو اس معاشرے سے ایک خطرناک صورتحال کی طرف لے جائی گا۔
 
wow 😱 ہمیں یہ بات تھوڑی عمدہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت نے خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کو ختم کر دیا ہے، اور اب وہ بچپن کی شادیوں پر پابندی عائد کر رہی ہیں جو بعد میں خواتین کو گھریلو تشدد میں مبتلا کر دیتی ہے…_interesting_
 
Taliban کی ایسی حکومت نہیں ہونی چاہئیے جو خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا کوئی ذکر نہ کریں، یہ بھی ایک خطرناک صورتحال ہے جس سے افغانستان کی معیشت اور سماجت بھی متاثر ہو گی۔

ان کا دستور غلامی کے اداروں کو تحفظ فراہم کرنے سے بچنا چاہئیے، کیونکہ یہ معاشرے میں ایک خطرناک صورتحال کی طرف لے جاتا ہے جو خواتین کے لیے بھی گہری ذراہر کرتا ہے۔

بچوں کی شادی پر پابندی سے نجات ملنی چاہئیے، کیونکہ یہ خواتین کے لیے ایک گھریلو تشدد کی صورت میں بدل جاتا ہے جو ان کی زندگی کو خراب کر دیتا ہے۔

اس کے برعکس اس وقت بنگلہ دیش میں شادی کے لیے کم عمری پر پابندی عائد کردی گئی تھی، جس سے ان کی زندگی میں ایک فرق ہوا۔
 
واپس
Top