مفت عمرہ کا جھانسہ دیکر سعودی عرب آئس اسمگل کرنے والا خطرناک ڈیلر دھر لیا گیا | Express News

چمیلی محب

Well-known member
سعودی عرب میں آئس اسمگل کرنے والا ایک اچھلے نتیجے سے بھاگتے ہوئے منشیات فروش شاہ صدام کو پھر سے زنجیروں میں پکڑ لیا گیا ہے، جس کے ذریعہ انھوں نے مفت عمرہ کا جھانسہ دیتے ہوئے اس نے معصوم شہریوں کو عمرہ کروانے کا لالچ دے کر منشیات سعودی عرب بھجوائیں، جو ان 5 پاکستانی زائرین کو کٹارنے والے جھانسے میں آنے پر عدالت نے 25 سال قید کی سزا دی۔

تھانہ کھرڑیانوالہ کی ایک کارروائی میں ان کے جال کا دروازہ بند کرنے میں کامیاب رہی، جس کے لیے اس کے سربراہ ایس ایچ او محمد ریاض کو انھوں نے سہرا دیا۔

اس منظم نیٹ ورک کی بھرپور تحقیقات کرنے کے بعد پولیس نے ملزم شاہ صدام کے قبضے سے 5 کلосے زائد چرس برآمد کرکے انھیں موقع پر ہی گرفتار کر لیا، جس سے ان کی منشیات فروش کی سرگرمیوں کو ایک اور تباہ کن نقصان پہنچا۔

س پی بختیار احمد کا کہنا تھا کہ علاقے سے منشیات کا مکمل خاتمہ پولیس کی primera ترجیح ہے، نوجوان نسل کو تباہ کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
 
یے تو اس شاہ صدام کی گALT نہیں رہی! انھوں نے ایسے عمرہ کا جھانسہ مفت دیا، تاکہ اچھے لوگ اپنے پैसے بھی نہ ڈال سکیں اور اس نتیجے میں انھوں نے معصوم شہریوں کو منشیات کروانے پر مجبور کیا! آدھا مٹھی چرس بھی انھوں نے کیسے 5 پاکستانی زائرین کو چرچھایا?! یہ تو جھنسنا اور لالچ کا ایک اچھا اور منظم نیٹ ورک تھا! حالانکہ پولیس نے انھیں پھر سے زنجیروں میں پکڑ لیا ہے، اس کا بھی فائدہ ہوگا، کیونکہ اب یہ جال کھلا ہو گا اور انھیں اپنی منشیات فروش کرنے کی جائز نہیں رہے گی!
 
اس صورتحال پر غور کر کے بتاؤں، یہ منشیات کی دوزخ کا ایک نئا دور ہو رہا ہے جو ان لوگوں کو نقصان پہنچائی جاسکتا ہے جنہیں اس سے محفوظ رہنے کی پوری کوشش کرنی پڑتی ہے، انہیں یہ بات غور و فکر سے سمجھنی چاہئے کہ یہ کارروائی صرف ان لوگوں کو نقصان نہیں پہنچائی گئی بلکہ ان کی زندگی کو بھی ایسا ہی رکھ دیا ہے جتنی سے کم، اور یہ شاہ صدام کی جانب سے کوئی نئی صلاحیتوں کا اظہار نہیں تھی بلکہ انھیں ایسے نقصان میں پھنسنے میں مدد ملنی چاہئی۔
 
اس کا علاج کس حد تک ممکن ہے؟ ان کا ایسا لالچ دھارنا جو مفت عمرہ سے بھی اس قدر زیادہ تازگی پر چلتا ہے وہیں یہ سوال ہے کہ ان کی منشیات کیسے پھیلائی جائے گی؟ ابھی 25 سال کی سزا دی گئی تو اس کی پابندی کس حد تک پوری ہوگی؟
 
یہ تو ایک دھمپ میں ہوا ہے، سندے لوگ کتنے بھی دباؤں کی وajan کرتے ہوئے منشیات بیچنا جاری رہتے ہیں… Saudi میں تو اس نے ایک اور جھانسا دیا، پھر بھی انھوں نے شہریوں کو جھانسیں دیتے ہوئے منشیات کی قیمتیں بھجوائیں… 25 سال کا Quinn پر سزا دی گئی ہے، 5 پاکستانیوں پر جو کہ انھیں کٹارنے والے جھانستے میں آنے پر…

اس طرح کی کارروائیوں سے ناکام ہونے کا کوئی راز نہیں ہوتا، اس جال کو توہم کی زنجیروں میں پھنسیں کے بعد سے انھوں نے ایک اور کوشش کی، لیکن انھیں بھی قیمتیں نا مل سکینی سے دبایا گیا…

جال کے سربراہ کو اپنی نہیں جانے کی وجہ سے انھوں نے ایس ایچ او محمد ریاض کو سہارا دیا، اب یہ ہمیشہ بھی پوچھنا ہوگا کہ انھوں نے جال کا کیا راز بتایا تھا…
 
منشیات کی دھلچس کی پھر سے ہار ایسے لوگوں پر نہ ہو سکتی جو اس کے خلاف لڑتے ہیں… آج بھی ان پانچ پاکستانی زائرین کو کٹارنے والے جھانسے میں آنا تو ایک بڑا نقصان ہے، ان کی زندگی کیسے رہی گی اور ابھی تک کی گزرتی ہوئی تلاقیوں کو کیسے یاد آئے گی؟ لگتا ہے شاہ صدام کی وہ منشیات جس نے ان کو عمرہ کروانے پر مجبور کر دیا اس سے بھی کچھ نقصان پڑتا ہو گا…
 
اس سے ہر کسی کی بات چیت پھول جائیگی, اور سعودی عرب میں یہ نئا منڈیٹ نہیں آ سکتا. ان لوگوں کو جو کرتے رہتے ہیں وہ تو بھाग پکڑ لیتے ہیں, اور اب یہ چرچن سے نکلتے ہوئے، پھر فیکس کرنے کا کوشش کرتے رہتے ہیں. لیکن پولیس کو ان کی جال میں لپیٹنا ایسی بات ہے جو انھیں اچھی نتیجے سے بھاگنے سے روک رہی ہے.

میں یہ کہتا ہوں گا کہ سعودی عرب میں یہ نئی سرگرمی کچھ عرصے کے لئے بھی جاری رہے گی, اور کچھ نئی جاننے والی افراد اپنی جال میں رکھنا شروع کریں گے. لیکن اب تو پھر 25 سال قید کی سزا دی گئی ہے, اور یہ سب ایک ایسا سائنس کہتے ہیں جس میں نوجوان نسل کو ایسا لالچا ہوا کہ وہ اپنے عمرے کے لئے اپنی عمر واپس دے کر فیک کر رہتے ہیں.
 
ایسا تو باقی بھی ہوتا ہے، نوجوان نسل کو تباہ کرنے والوں کی کارروائیوں سے بچانے کے لئے ہمیں ایک دوسرے کی مدد سے کام کرنا پڑتا ہے، نا ہی اس طرح شاہ صدام کو آگے بھی نہیں چلا گیا؟ اور یہ سب کیا ہوا تھا ان 5 پاکستانی زائرین کے لیے کہتے ہیں کہ انہیں ابھی بھی عمرہ کروانے کا موقع مل گیا؟ سے پھر کیا ہوا؟
 
اس سے پتا چalta ہے اس نے ان پاکستانی زائرین کو ایسا دیکھنے والوں کو بھی ہلچل پہنا دی ہے، اب وہ یہ کہیں رہتے ہیں؟ پھر اور پھر ان سے منشیات چوری کرکے ان کی عمرہ کی جائیگی تو اس کی اچھائی کیا ہو گی?
 
عوض اس کا فیصلہ ہوتا ہے کہ یہ کس کی ناکامی ہوئی؟ شاہ صدام کو پھر سے زنجیروں میں پکڑنا ایک بڑی چیلنج تھی، لیکن پولیس کی کارروائیوں میں ان کے سربراہ محمد ریاض اور شانہ کشیدار کو یہ credit مل گیا ہے کہ وہ اس جال کو کچلنے میں کامیاب رہے۔ اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ ایسے ماحول میں ان کی کارروائیوں سے آرمزہ کیا جاتا ہے؟ پولیس نے ان 5 پاکستانی زائرین کو کٹارنے والے جھانسے میں آنے پر 25 سال قید کی سزا دی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی تھی کہ ان کا منشیات فروش اور اس سے متعلق کس قدر جال بن گیا تھا؟
 
سaudi میں ایسا نہیں ہوا جو کہوں سوچوں کی بات ہے ان لوگوں کے ذریعے منشیات سعودی عرب بھجوائیں تو دوسرے ملکوں میں بھی ایسا ہوا ہے جس سے نوجوان نسل تباہ ہوتا رہتا ہے اور اس پر کیا حل ہے؟ پولیس کو اچھا ہی کہنا ہوگا کہ ان کے لیے پریسریٹیوں کی ضرورت ہے نہ تو یہ بات تو بھی تھی کہ جب ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا تو اُس کے چرس وغیرہ ملے تو اس پر کارروائی ہوگی۔ ساڈی پولیس نے جس طرح آئی ایس ایم کیا ہوگا انھوں نے بھی اسی کی مہرت کو نہیں کھوائی یہی ہے اچھی کارروائی کی گئی ہے۔
 
عرب ممالک میں آئس اسمگلنگ کا مسئلہ تھانہ کھرڑیانوالہ کی ان ہائی ٹیک پریسٹیں لگتی ہیں، سعودی عرب میں بھی ان کا ایک اچھلے نتیجے سے بھاگتے ہوئے منشیات فروش شاہ صدام کو پھر سے زنجیروں میں پکڑ لیا گیا ہے، یہ تو کامیاب کارروائی ہے، لیکن پھر بھی ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے یہ کرنے سے پہلے ہی اپنی دوسری سرگرمیوں کو چھپاتے ہوئے تھے، اور ابھی ان کے سربراہ ایس ایچ او محمد ریاض نے ان کے لیے موقع ملنے پر اس کی سہائی کر دی ہے؟ ان سے پوچھنے والے ہم نے بھی ان کا جواب سنا ہے، ابھی تو زنجیروں میں پکڑے جانے کی واضح آگاہی کے بعد بھی یہ کیا ہوا، یہ ایسا لگتا ہے جیسے ان کے ذریعے مفت عمرہ کا جھانسا دیتے ہوئے ان نے معصوم شہریوں کو عمرہ کروانے کا لالچ دیا، اور ابھی 5 پاکستانی زائرین کو کٹارنے والے جھانسے میں آنے پر ان کو 25 سال قید کی سزا دی گئی، یہ نہ تو بہتر ہے اور نہ ہی یہ ایک دوسرے کا جواب نہیں ہے، جب تک اس مسئلے کو حل نہیں کیا گیا، ان سے پوچھنا ہمara bhi kya?
 
واپس
Top