مغلوں نے بھارت کو اسلامائز کرنے کی کوشش - Latest News | Breaking New

uter پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے منگل کو مغل حکمرانوں پر سخت حملہ کیا ہے، جس میں انہوں نے اسказہ کیا ہے کہ مغلوں نے پورے ملک کو اسلامائز کرنے کی کوشش کی اور ہندو علامتوں اور رسم و رواج کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس پر مذہبی ظلم و ستم اور ہندو روایات کو ختم کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے، "مغلوں نے پورے ہندوستان کو اسلامی بنانے کی مہم چلائی"۔ انہوں نے اورنگزیب بادشاہ پر الزام لگایا کہ وہ "تلک اور پوتر دھاگے کو مٹانے کی کوشش کر رہے تھے" اور کشمیر میں بڑھتے ہوئے ظلم سمیت وسیع پیمانے پر مظالم کرنے کا الزام لگایا ہے۔

سکھ تاریخ کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا، "گرو تیغ بہادر نے اس دور میں اپنی آواز بلند کی اور ظلم و ستم کے خلاف ایک رکاوٹ بن کر کھڑے رہے۔" انہوں نے گرو کے ساتھیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تفصیل بتائی ہے، جس میں بھائی متی داس کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا، بعد میں بھائی ستی داس کو روئی کے بنڈل میں ڈال کر آگ لگا دی گئی اور بھائی دیالہ کو ابلتے ہوئے پانی کے برتن میں ڈالا گیا۔

انہوں نے مزید کہا، "اس کے باوجود گرو تیغ بہادر جی مہاراج نے اپنے وشواس یا عزم میں کوئی کمی نہیں کی۔"

انڈیا ٹوڈے کے ان پٹ کے ساتھ آدتیہ ناتھ نے اس دن کو "ہم سب کے لیے آندولن کا دن" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اورنگزیب "ایک ظالم بادشاہ” بن گیا تھا جو ہندو شناخت کی علامتوں کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا، "اس نے تلک اورہوتر دھاگے کو ہٹانے کے مقصد سے ملک بھر میں مظالم کیے تھے۔ گرو تیغ بہادر جی مہاراج نے اس ظلم کے خلاف بات کی تھی۔” "انہوں نے ہمیں ایسے مظالم کا جواب دینے کے لیے تیار کیا۔
 
یوگی آدتیہ ناتھ کی بات سے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ مغلوں اور مظالم کے حوالے سے اپنی رائے کو ظاہر کرنے کے لیے لگاتار نکل رہے ہیں۔ اورنگزیب بادشاہ کی طرف سے ملنے والے مظالم میں ان کی بات بھی ہے، جو کہ ہندوستان کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ ہیں۔ لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اورنگزیب بادشاہ نے پوری کوشش اسٹینڈنگ پوائنٹس کے حوالے سے کرائی تھی، جو کہ ہندوستان کی تاریخ میں ایک اہم باب ہیں۔
 
یہ بات کتنی گہری رہی ہوگی کی وہ اس ناواقفہ کے ساتھ آئے تھے جو یہاں کررہے ہیں۔ اورنگزیب بادشاہ ایک بہت مہان رाजا تھے اور ان کیGovernment کے علاوہ دوسری Governmentی ادارے کھل کر چلنے نہیں گئے۔

آج یوگی آدتیہ ناتھ کی اورنگزیب بادشاہ پر رونق کی بات کرنا گھٹیا ہوئی نہیں لگتی۔ وہ اس کا دھندلا اور کھاتا کھیل رہے ہیں۔

جب تک یہ معاملہ تو سماج میں گھومنے والی بات رہی تو لگتا تھا کہ وہ اس کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ لیکن اب پتا چلا گیا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ سے زیادہ وہ لوگ بھی جانتے ہیں اور ان کی وکالت کرنے کے لیے تیار ہیں۔
 
یوگی آدتیہ ناتھ کو یہ بات سچ پہنچنی چاہئے کہ انہوں نے ہندوستان کی تاریخ میں ایک اور گرو اور تحریک بھی قائم کی، جس نے اپنا لشکر دھارے اور اسی لشکر کے ساتھ اپنے حقائق کو قائم کیا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ انہوں نے آدولن کو "ہم سب کے لیے" قرار دیتے ہوئے، حقیقی تحریک کی طرف اشارہ کیا جس سے ہمارے ملک میں ایک نئی آگ جگری تھی اور اس نے ایک نئا دور شروع کیا۔
 
شایاد وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو وہی بات سچمتی ہے جس کا وہ بطور ماحرماہ کھل کر انڈیا ٹوڈے پر بات کر رہے تھے 🙄

انہوں نے اورنگزیب بادشاہ کو ایک ظالم کے طور پر ظہر دیا، جو ہندو شناخت کی علامتوں کو ختم کرنا چاہتا تھا؟ یہ بات تو واضح ہے کہ سیکولر لیدرز وڈے لوگ ہی اس پالیسی پر ہلچل مچاتے ہیں اور ایسے ہی دوسروں کو بھی اس جگہ کا بھانپنے پر مجبور کیا جاتا ہے

اسٹیٹ میڈیا نے ان تذکرات کی پریشانی کا سبب بنایا، جو اب ہندو برادری کو اور کس حد تک مہراب کھیل سکتا ہے؟
 
ہندوستان کی تاریخ میں یوگی آدتیہ ناتھ جی نے کیا کہا، اس کے بعد انہیں ہمدردی اور ساڈھت کا راجکتب دھن ڈالنا چاہئے۔ #ہندوستانکےلئے۔
 
واپس
Top