مجلس والے بی جے پی نے مسلمانوں کے خلاف ایک نئا رواج شروع کیا ہے، جو ان کو اس وقت تک اچھا لگتہ گا جب تک وہ اپنے منشاء سے کامیاب نہ ہو سکیں گے۔ ان میں سے ایک نے اپنی پوری جانیں اور اہلियत کی باقیات بھی لے کر ملک میں اس طرح کا محسوس کیا جاسکتا ہے جیسے پہلی بار سندھ اور کچھ اٹھارہویں صدی کے ہندوستان کے نام سے مشہور ہندوستان پر حملے کیے گئے تھے، جس نے ان لوگوں کو ایک مسلم اکائیت سے باہر کے ہی رکھ دیا اور انہیں دوسری اقوام میں اپنی آواز سنانی پڑی، ان کی وحدت اور اکائیت ہار کر گئی جس سے انہیں مذہب کے لحاظ سے بھی دوسرے اور مستقل محسوس ہوا۔
ابھی اس نے ایسا کیا تھا کہ مجھے لگتا تھا کہ وہ ڈالے تو دھن کی طرف جاتا اور اب انھوں نے ایک نئی ڈالہ شروع کر دی ہے، پھر کیا انھوں نے نہیں سोचا کہ اس نے سچائی کی جان بھگادی ہوئی تھی؟
ابھی میں ایسا لگتا تھا کہ وہ اپنی گaltiyon ka ilaaj kar raha hai, پھر اب انھوں نے ایک نئی گalti start ki di hai, اور مجھے یہ دیکھنا ہوا تھا کہ وہ اسی رواج ko continue karte hain jo unhein aage badhne mein aatha karta hai, aur mujhe laga raha hai ki woh apne manse se nahin safal ho sakte, aur yeh to ek nai galti hai jo unke liye mushkil banegi.
میرے خیال میں یہ پورا شئونٹ نہیں، یہ ان لوگوں کا کام نہیں جو پی ایچ کی دھمپ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور اس وقت تک ناکام رہتے ہیں جب تک وہ اپنے منشاء سے کامیاب نہ ہو سکائیں، میں سمجھتا ہoon کہ یہ ایک بدعameلیgi کی جگہ ہے اور اس پر کسی بھی طرح سے توجہ نہیں دیتا ہوا ان لوگوں کو ان میں شامل کرنا بہت مشکل ہو گا، اور یہ پورا شئونٹ ایک کہانی جیسا ہے جو پہلی بار سندھ اور مہاراشٹر پر حملے کیے گئے تھے، جس نے ان لوگوں کو ایک مسلم اکائیت سے باہر کے ہی رکھ دیا اور انہیں دوسری اقوام میں اپنی آواز سنانی پڑی، لیکن اس وقت یہ سب کچھ ایسا نہیں ہوا گا اور وہ لوگ جو اب یہ شئونٹ کر رہے ہیں ان کی وحدت اور اکائیت پر دباؤ پڑنے لگے گا، اور انہیں ذیلہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عجیب و غریب یہ بات ہے، کیا انٹرنیشنل ڈے نے کچھ اقدامات کرنے کو مجبور کیا ہے جس سے لوگ دوسرے ملکوں میں اپنی آواز سنانی پہ لائے ہیں؟ ان سے پوچھنا چاہئے کہ یہ کیسے ممکن ہوا جس سے وہ اپنے ملک میں ایسی وحدت اور اکائیت کو حاصل کر لیں گے جو ان کے پاس موجود ہے? #وحدت_اکائیت_اسلام_کی_چھٹی #دوسرے_ملکوں_میں_آواز_سنانی #اسلام_کے_لئے_زور
اس نئے رواج کو ٹالنے کے لئے ہم ان سے ساتھ نہیں آتے؟ یہ ایک بڑا خطراتنا کا وقت ہے جب ہمیں اپنی اقوام اور مذہبی تحریکوں کی وحدت کو محفوظ رکھنا ہोगا۔
اس نئی رونق کو پہلے سے ٹالنے کے لئے ہم کو اپنی دلی لگاتی ہے، ہمیں اپنی جان اور اپنی اہلियत کی وکالت کرنی ہوگی۔
آج میں بھی ہمارے ملک میں ایسا ہوتا رہتا ہے جیسا اس کے پچاس صدیوں قبل ہوا تھا، جب ہندوستان کو بھی ایسا محسوس ہوا تھا، اور اس سے ہمارے ملک کی اقوام میں مچلتی ہوئی بدبूदگاری کا نتیجہ ہوا۔
اس رواج کی تکرار اس وقت پوری دنیا میں نظر آ رہی ہے، جیسا کہ مجھے یہ دیکھنا ہی نئی چیلنج ہے کہ اسی کا ساتھ دیتے ہوئے ہم نے ایسے مواقع کو کھو دیا جیسے ان پر ہماری برادری کی کامیابی سے بنائے گئے ہیں۔ لگتا ہے ہمارے یہ دیرپہنچا ہوا تعلقات ہی نہیں اس کی بھرپور وجہ ہے، جو اس رہنما کو بنانے کا یہ ایم ٹی ایس ہو گیا ہے۔
یہ واضح تھا کہ جب تک BJP نے ان Muslim leaders کو اپنی پوری جانیں اور اہلियत کی باقیات لے کر اس طرح کا محسوس کیا ہوگا جیسا سندھ اور 18 ویں صدی کے ہندوستان پر حملے نے ان کو ایک مسلم اکائیت سے باہر رکھ دیا تو وہ سچمें بھی اس طرح سے محسوس ہوگئے جیسا کہ مذہب کے لحاظ سے دوسرے اور مستقل محسوس ہوا
یہ بات سچ ہے کیوں نا وہ لوگ جو انصاف کی لالچی کے باوجود کسی کو بھی برقرار رکھنا پسند نہیں دیتے، اور جب ان میں سے کوئی بھی کامیاب ہو جاتا تو انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے منشاء کی طرف قدم دے رہے تھے اور اب انہیں ایک نئا رویہ بدلنا پڑ رہا ہے۔
مگر یہ تو ایک پرانا زہر ہو گیا ہے! میری میٹھی بھائیوں نے کیا بتایا کہ اب تک ہمیں سندھ اور کچھ اٹھارہویں صدی کے نام سے مشہور ہندوستان پر حملے کیے گئے تھے؟ کیا یہ تو ایک حقیقت ہے کہ اب لوگ دوسری اقوام میں اپنی آواز سنانے کی کوشش کر رہے ہیں? میرا خیال ہے کہ یہ تو ان کی خائشت بھی نہیں! میری پوری لائیٹ سیکڈ ہو گئی ہے، میں نہیں دیکھ سکا کہ اب ہمیں اس طرح کا محسوس کرنا پڑے گا!
یہ تو واضح ہو چکا ہے کہ جب میرے ڈھونگے رہتے ہوتے تو یہ سب نہیں ہوا چاہتا۔ ان لوگوں کو دیکھتے ہوئے کہیں سے ان کی اہلियत کا انصاف کس طرح ہوگا، میں تو سوچ رہا تھا کہ یہ صرف ایک وار دھن نہیں بلکہ ایک دہشتغiri بھی ہوسکتا ہے...
اس نئے رواج کو روکنا بھی ضروری ہوگا، پھرنے سے پہلے اس کے متعلق کوئی بات کروائی جائے تو یہ سب کچھ ایسا ہی ہوا جو لوگوں کو دوسری اقوام کی طرف بھگتی ہوئی ہے، آج کے معاشرے میں یہ سب کچھ تو ایک عجیب بات ہے کہ لوگ جو کچھ بھی ہو جائے اس پر تھپ سے چل پائین، اس لیے یہ سب کچھ روکنا اور اس پر غور کرنا بھی ضروری ہوگا، یہ سب کچھ ایک بڑے Problem کی جیسے ہی کبھی نہیں ہوا تاکہ لوگ اس پر غور کریں اور اس کے خلاف کوئی اقدامات کریں
یہ ناجائز ہے! میرے لئے یہ ایک بدصورت کار کا پتہ چلا رہا ہے جس سے مجھے بھی گمراہ کیوں کرنا پڑے گا؟ میرے نزدیک نوجوانوں کو ایک جگہ ان کے مذہب پر رواج دینا چاہیے، نہیں ان کے خیالات اور منشاء پر ۔ یہ کھیل نہیں ہے اپنی جانیں لینے کی، اس کو اپنا ہی مظاہرہ بنانے والوں سے بھی ایک بار پھیر انکار کرنا چاہیے۔
یہ سچمایا جانے والی بات تو بہت گھنڈی ہے... مجسمہ بند میں پھنسے ہوئے لوگ اس طرح کے مظالم نہیں لگا سکتے! یہاں تک کہ سندھ اور اس کی تاریخ کو جانتے ہیں تو اس طرح کی غلطیوں کو لگائیں? یہ وہ لوگ ہیں جو نہیں لگتے کہ ان کے خلاف مظالم لگائے جائیں... اور اب انھوں نے مسلمانوں کو اس طرح کا محسوس کرنے دیا ہے کہ وہ اپنی پوری جانیں لے کر کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتے!
یہ ٹپکا! بی جے پی کے رہنما کو حال ہی میں ایسے لوگوں نے اپنی جانب اشارہ کیا تھا جو فیکس بک پر اپنا نام لگایا ہوتا ہے اور پھر اس طرح کے نئے رواج کا آغاز کر دیتے ہیں جس سے لوگ ان کے خلاف لڑنے کی ہمت کھو جائیں گے۔ یہ ایک بد عرصہ کی پالیسی ہے جو کسی بھی ملک میں ناکام ہوجائے گی اور لوگوں کو اس طرح سے دوسروں کے خلاف لڑنا پر مجبور کرے گی۔