اللہ تعالیٰ نے ہمارے مملکت کو ایک بڑی تباہی سے نجات دی ہے، دہشت گردی کا ایک بڑا منصوبہ بھی تو کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس منصوبے کی جگہ اچھے مہمتی کارروائی نے 2 ہزار کلوگرام سے زیادہ انتہائی خطرناک بارودی مواد کو روک کر دیا، جو دہشت گردوں کی جانب سے کیا گیا تھا اور انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ایک پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی نے کچن لائن میں دھمپ کی رکاوٹ میں معاونت فراہم کرکے، ہمارے قانون نافذ کنوں کو بڑی اور کامیاب کارروائی ملا چکی ہے۔ اس انچारج میں دو دہشت گردوں کی گرفتاری ہوئی جس کی مدد سے گزشتہ رات مزید دو دہشت گردوں کو بھی پکڑ لیا گیا ہے۔
اس کارروائی میں مظاہرہ کرنے والے تین دہشت گردوں کے نام جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان عرف فرید ہیں۔ یہ دہشت گرد دھماکہ خیز مواد افغانستان سے بلوچستان اور پھر کراچی لائے تھے، ان کا منصوبہ شہر میں سویلین اہداف بنانے کا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے ہمارے شہر کو ایک بڑی تباہی سے بچایا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرلی جس کی وجہ سے شہر کو ایک بڑی تباہی سے بچایا گیا۔ ہم نے کراچی کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے، اس کارروائی کے بعد شہر کو ایک نیا منظر پیش ہوا ہے اور شہریوں کی زندگی بھی آہستہ آہستہ واپسی پر ٹھہری ہے۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ اس کارروائی میں قانون نافذ کنوں نے بڑی اور کامیاب کارروائی کی۔ ان میں مجید بریگیڈ کے کارندے پکڑے گئے تھے جو دہشت گرد نیٹ ورک کے تانے بانے بشیرزیب، کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ سے ملتے ہیں۔ اس کارروائی کی وجہ سے دہشت گردوں نے کراچی میں سویلین اہداف بنانے کی منصوبہ بندی کرنے کی کوشش کی تھی۔
وزیر داخلہ طلال چوہدری نے مزید بتایا کہ کالعدم بی ایل اے اور بی ایل ایف افغانستان میں محفوظ ٹھکانے استعمال کرتی ہیں، ان کی جگہ شواہد کی وجہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ نیٹ ورک کو ہمسایہ ممالک سے آپریٹ کیا جا رہا تھا۔ دہشت گردوں نے گھروں کی کرایہ داری کے نظام پر بھی سخت نگرانی کرتے ہوئے اسے استعمال کیا۔
وزیر اطلاعات سندھ شیراز میمن نے دہشت گردوں کو کامیاب کارروائی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا، ان کی بڑی تباہی پھیلانے کی منصوبہ بندی تھی جو ہمیشہ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے اور بھارت پراکیسز نے ایسی کوشش کی تھی جس کی وجہ سے ہمارا شہر آمنت رہا۔
ایک پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی نے کچن لائن میں دھمپ کی رکاوٹ میں معاونت فراہم کرکے، ہمارے قانون نافذ کنوں کو بڑی اور کامیاب کارروائی ملا چکی ہے۔ اس انچारج میں دو دہشت گردوں کی گرفتاری ہوئی جس کی مدد سے گزشتہ رات مزید دو دہشت گردوں کو بھی پکڑ لیا گیا ہے۔
اس کارروائی میں مظاہرہ کرنے والے تین دہشت گردوں کے نام جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان عرف فرید ہیں۔ یہ دہشت گرد دھماکہ خیز مواد افغانستان سے بلوچستان اور پھر کراچی لائے تھے، ان کا منصوبہ شہر میں سویلین اہداف بنانے کا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے ہمارے شہر کو ایک بڑی تباہی سے بچایا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرلی جس کی وجہ سے شہر کو ایک بڑی تباہی سے بچایا گیا۔ ہم نے کراچی کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے، اس کارروائی کے بعد شہر کو ایک نیا منظر پیش ہوا ہے اور شہریوں کی زندگی بھی آہستہ آہستہ واپسی پر ٹھہری ہے۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ اس کارروائی میں قانون نافذ کنوں نے بڑی اور کامیاب کارروائی کی۔ ان میں مجید بریگیڈ کے کارندے پکڑے گئے تھے جو دہشت گرد نیٹ ورک کے تانے بانے بشیرزیب، کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ سے ملتے ہیں۔ اس کارروائی کی وجہ سے دہشت گردوں نے کراچی میں سویلین اہداف بنانے کی منصوبہ بندی کرنے کی کوشش کی تھی۔
وزیر داخلہ طلال چوہدری نے مزید بتایا کہ کالعدم بی ایل اے اور بی ایل ایف افغانستان میں محفوظ ٹھکانے استعمال کرتی ہیں، ان کی جگہ شواہد کی وجہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ نیٹ ورک کو ہمسایہ ممالک سے آپریٹ کیا جا رہا تھا۔ دہشت گردوں نے گھروں کی کرایہ داری کے نظام پر بھی سخت نگرانی کرتے ہوئے اسے استعمال کیا۔
وزیر اطلاعات سندھ شیراز میمن نے دہشت گردوں کو کامیاب کارروائی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا، ان کی بڑی تباہی پھیلانے کی منصوبہ بندی تھی جو ہمیشہ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے اور بھارت پراکیسز نے ایسی کوشش کی تھی جس کی وجہ سے ہمارا شہر آمنت رہا۔