ملک میں تیل سپلائی کو ٹرانسپورٹ سے پائپ لائن پر منتقل کرنے کا منصوبہ

چیونٹی

Well-known member
وزیر پیٹرولیم نے ایک اعلان میں ملک میں تیل سپلائی کو ٹرانسپورٹ سے پائپ لائن پر منتقل کرنے کا منصوبہ قرار دیا ہے، جو اس وقت سے شروع ہونے والی معاشی بحران کی وجہ سے ضروری بن گیا ہے۔ ملک میں تیل ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، جو نئی پالیسیوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے اس کی قیمتوں کو کنٹرول میں لانا ہے۔

وزیرAli Proیزملک نے معاونت کے لیے کہا، حکومت اور صارفین جو ایندھن استعمال کر چکے اس کی ادائیگی کرنی پڑ سکتی ہے۔ اس حوالے سے ایک ہفتہ سے دس دن تک کوئی پیشرفت متوقع ہے، جس میں ایل پی جی انڈسٹری کے حوالے سے نئی پالیسی بنائی جاے گی اور گیس کی قیمتوں میں استحکام آئے گا۔

وزیرAli Proیزملک کے مطابق پیٹرولیم سیکٹر کی کارکردگی پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے، ملک میں اس وقت ڈیزل 100 فیصد ٹرانسپورٹ سپلائی پر فراہم ہو رہا ہے، پیٹرول کی سپلائی ملک بھر میں 60 فیصد ٹرانسپورٹ پر منحصر ہے۔

اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں فیصل آباد سے ٹھلیاں پائپ لائن بچھائی جائیگی، جو غیر قانونی آئل سپلائی چین کو روکنے کے لیے ٹریکر نظام پر عملدرآمد کا بھی آغاز ہو گا۔

سخت مواقع نے ملک کے تیل ایک اہم کردار ادا کرنے پر مجبور کیا ہے، جس سے اس کی قیمتوں کو کنٹرول میں لانے کی کوئی بھی صورتحال ممکن نہیں ہوسکتی۔
 
بہت زیادہ پریشانی ہوئی ہے، پہلی بار تو یہ بات منہ گزاری ہے کہ ملک میں تیل کی پوری فیکٹریوں پر ٹرانسپورٹ سے پیپلائنز پر ڈھalanے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے، حالانکہ یہ بات کوئی نہیں سمجھ پایگی کہ اس کی ایک گز ہو جائے گا؟ میڈیا کے ذریعے پیش کردہ بریفنگ سے متعلق یہ بات بھی منہ گزاری ہوئی ہے کہ ملک میں ڈیزل کی تین پچاس فیصد کا سابسٹیٹوری سپلائی ٹرانسپورٹ پر نہیں ہے؟ یہ بھی بات انساف کرنی چاہئی گئی کہ پہلے مرحلے میں فیصل آباد سے پیپ لائن بچھانے کا منصوبہ، غیر قانونی آئل سپلائی چین کو روکنے کے لیے ٹریکر نظام پر عمل درامد کرنا ہو گا؟
 
یہ منصوبہ ملک کے لیے اچھا ہوگا، اس وقت سے قیمتوں پر کنٹرول میں لانا مشکل ہوگا، لیکن پائپ لائن پر تیل سپلائی شروع ہونے سے کیا فائدہ؟ نئی پالیسیوں پر عمل در آمد اور ٹرانسپورٹ سے اس کا استعمال کم ہونا چاہیے، لیکن ایسا بھی ہوا گا؟
 
عجیب کہ یہ منصوبہ پہلے سے ہی چلنا چاہتا تھا، اب نا تھا وہی اچھا ہے یا نا؟ تو یہ بھی یقینی نہیں کہ یہ منصوبہ معاشی بحران کو حل کر سکتا ہے، لیکن اس پر یہی کامیابی ہو سکتی ہے یا اس کی زیادتی میں بھی جالڈی دبائی جائے گا؟
 
یہ منصوبہ تو ایسی ضرورت کا جواب دہ ہے، جو معاشی بحران کی وجہ سے ضروری بن گیا ہے، مگر یہ منصوبہ بھی ایک مشکل کارروائی ہے جس کے نتیجے میں ایسے لوگ بھی نقصان اٹھا سکتے ہیں جو غیر قانونی آئل سپلائی چین پر منحصر ہیں، لیکن اس کی جگہ پائپ لائن کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
 
اس منصوبے کا خیال ہے کہ یہ آجکل تیل کی قیمتوں میں استحکام لا کر معاشی بحران کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ایک اچھی تبدیلی ہو گی، لیکن اس کا کوئی چیز نہیں ہوگی جو وہ یقین رکھے کیونکہ اب تک بھی یہ منصوبے بہت سارے مواقع پر دھلے ہوئے اور ناکام رہ گئے ہیں، لہذا وہ ان لوگوں کی بھی توجہ کھینچنی چاہن گی جو یہ منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں اور اس سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ یہ منصوبے کی واضح و ملایم ہوگی تو زیادہ سے زیادہ سہولت ہو گی۔
 
یہ منصوبہ ایک بات یقینی بنا دیتا ہے کہ تیل کی قیمتوں پر کنٹرول رکھنے کی کوئی بھی صورتحال ممکن نہیں ہوسکتی، یہ سچ ہے لیکن اس میں صرف ایک بات یقینی ہے کہ حکومت اور شہریوں کے درمیان ایک Fair Deal بنایا جانا چاہیے جس میں کوئی بھی طرف سے ناکام نہ ہونے کی صورت میں خوف اور تناؤ پڑے ، اس لیے اچھے منصوبوں کے لئے ایک Fair Deal بنانے کی ضرورت ہے جو سارے شریک کو ان کے مفادات کے مطابق محفوظ رکھے
 
"اجل کا دوزخ بھی ایسا ہوتا ہے جیسا کہ آج یہ ہوتا ہے۔"

جب تک تیل کی قیمتوں کو کنٹرول میں نہیں لایا گیا، تھوڑی دیر پھر اس سے ٹیٹن کا بھار کھینچنے کی کوئی صورتحال نہیں ہوسکتی۔
 
اس معاشی بحران کے بعد تیل کی پیداوار کا ایسا منصوبہ اچھا ہوگا کہ نئی پالیسیوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے اس کی قیمتوں کو کنٹرول میں لانا ممکن ہوسکتا ہے، لیکن ایسا ساسٹینشن ہونا چاہیے کہ وہ مچھلیوں کو نہ ہونے دیں اور اس منصوبے میں ان کے لئے مناسب ذمہ داری سے کام کیا جائے گا.
 
یہ منصوبہ تو اچھا ہوگا لیکن اس کے بارے میں کیسے پوہنچنا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ضروری ہے لیکن وہ انھوں نے کس معیاری پالیسی کو بیان کیا ہے؟ سچ میں ایک بھی ذرا معلومات نہیں ہیں۔ میرے پاس یہ بات کوئی منصوبہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کیوں سے واضح پتہ نہیں چلتا؟
 
بھائی 🤔 اِس معاشی بحران کا یہ موڑ ٹرانسپورٹ سے پائپ لائن پر جالنا تو بہت ہی ضروری ہے، مگر پہلے ہی وہ تیل کی قیمتوں کو کنٹرول میں لانے کا کام کیا گیا تھا? جس سے یہ واضح طور پر دیکھنے کو ملتا ہے کہ حقیقی معیشت کی بنیادوں پر نہیں تیل کی قیمتوں پر بنائے گئے معاملات ہی بڑا Problem بن رہے ہیں। 🚗💨
 
diagram of a pipe with a truck in the middle 🚗💧

اس معاملے پر مجھے یہ سوچنا میں کھللا ہے کہ وہ منصوبہ جو وزیر پیٹرولیم نے announcements کر کے لایا ہے، حالات کی ضرورت پر آتا ہے۔ تیل کی قیمتوں کو کنٹرول میڰنا اور معاشی بحران سے نمٹنا ایک بڑی تحفظ کے کام ہے، ان حالات میں کسی بھی رہنمائی پالیسی کا آدھا نہیں بنتا ہے۔

diagram of a graph with a rising line 📈

مگر، یہ بات واضح ہے کہ اس منصوبے سے پہلے، انڈھن کی ادائیگی کا معاملہ بھی اپنی چال چل رہا ہے، اور گیس کی قیمتوں میں استحکام آ جانا ایک کامیابی ہوگئی ہے۔ اس لیے، اگر انصاف اور نظارت سے کام کیا جائے تو، ملک بھر میں یہ منصوبہ ایک اعتلاف کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
 
یہ منصوبہ ہمیشہ سے چاہیے تھا کہ ملک میں تیل کی سپلائی کو ٹرانسپورٹ سے پائپ لائن پر منتقل کیا جائے، حالانکہ اب اسے معاشی بحران کی وجہ سے ضروری بنایا گیا ہے۔ تیل کی قیمتوں کو کنٹرول میں لانا ایک بڑی چुनौतی ہو گی، لیکن ملک کے تیل کی ادائیگی کو یہ منصوبہ یقینی بنا سکتا ہے۔ اس وقت تک جب گیس کی قیمتوں میں استحکام آئے گا، اور لینڈلاروں کو اپنے کارکردگی پر پابند کیا جا سکتا ہے تو صرف تو انٹرنیٹ پر ٹیکنالوجی کی چیلنجز محسوس ہو گیں۔
 
سورکشن میں ایسا لگتا ہے جیسے یہ پوری دuniya کے تیل کی معیشت کو کنٹرول کرنے کا منصوبہ ہی ہے! پہلے نئی پالیسیوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے، پھر تیل کی قیمتوں کو کنٹرول میں لانا اور آخری باری میں ایسے منصوبوں پر کام کرنا جو غیر قانونی تیل کی آئل سپلائی چین کو روکنے کے لیے ہوتے ہیں... یہ سب ایک ایسا چیک لگ رہا ہے جیسے ملک کو ساتھ ہی کچھ نہ کچھ حاصل کرنا پڑ رہا ہے!
 
اس منصوبے کا یہ ایک اچھا قدم ہوگا، پائپ لائن پر تیل کی سپلائی شروع کرنا تو معاشی بحران کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

لیکن، اس کے لیے کچھ وقت اور کوشش کی ضرورت ہوگی، جو آئندہ ایک ہفتہ سے دس دن تک پوری کرنا ہوگی۔

میں یہی خواہش کرتا ہوں کہ کوئی اچھا حل نیکہ تھوڑا سی دیر ہوگا، نہ اس سے زیادہ اور نہ اس سے کم۔
 
اس منصوبے سے متعلق پوری جگہ یہی رہی ہے کہ تیل ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، لیکن اس کی قیمتوں کو کنٹرول میں لانے کا طریقہ بھی ضروری ہے 🤔 . یہ مینو کو چنوتا ہے اور ملک کے معاشی بحران کے دور میں اسے ایسا ہی کرنا ہے جو کہ سستائی کی طرف لے آئے ۔

جہاں کوئی پیشرفت متوقع نہیں ہونے پر بھی، اس کو کوئی انتباہ نہیں دیا جائے گا، کیونکہ یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ایک ہفتہ سے دس دن تک کوئی پیشرفت متوقع نہیں ہوسکتیگی 🕰️.
 
ایسا تو کیا انجینئرز کی کمزوری کا حل نکل رہا ہے؟ پائپ لائن پر تیل کی پیداوار کرنے سے وہ جو آج سڑکوں پر اترتا ہے، ایک دن اسے گیس کے ذریعے چلایا جاسکتا ہے! یہ معاشی بحران کے وقت میں لیا گیا عظیم قدم ہے!
 
اس منصوبے کو اپنا کرتے ہوئے تیل کی قیمتوں پر کنٹرول لانے میں ابھی بھی اتنی دیر پڑی، کیا نہ تو اس میں چار یا پانچ سال کا وقت لگ جائے گا؟

اب تک تیل کی قیمتوں پر کنٹرول لانے کی کوئی بھی صورتحال ممکن نہیں ہوسکتی، ملک میں اب یہ پوچھا جارہا ہے کہ تیل کی قیمتوں پر کنٹرول کس طرح لایا جائے گا۔

ایک بار پھر اس منصوبے کو دیکھتے ہوئے کیا یہ چوری والوں کو روکنے کی کوئی صلاحیت رکھتا ہے یا صرف ایک نئا معاملہ پیدا کرے گا؟
 
بھائی یہ منصوبہ تو فائن ہے! وزیر Ali Proیزملک کا یہ announcements ملکی معاشی بحران کی وجہ سے تیل کو ٹرانسپورٹ سے پائپ لائن پر منتقل کرنے کا منصوبہ تو بہت ضروری ہے!

جب تک اس منصوبے میں کچھ پیشرفت نہیں دکھائی دی گئی تو ملک بھر میں تیل کی قیمتوں پر کوئی نظر نہیں رہے گی! لیکن یہ کہتا ہے کہ اس منصوبے کے تحت پیٹرولیم سیکٹر کی کارکردگی پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے، ملک میں اس وقت ڈیزل 100 فیصد ٹرانسپورٹ سپلائی پر فراہم ہو رہا ہے! اور پیٹرول کی سپلائی ملک بھر میں 60 فیصد ٹرانسپورٹ پر منحصر ہے!

اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں فیصل آباد سے ٹھلیاں پائپ لائن بچھائی جائیگی، جو غیر قانونی آئل سپلائی چین کو روکنے کے لیے ٹریکر نظام پر عملدرآمد کا بھی آغاز ہو گا!

یہ منصوبہ تو آر ایس سی کی طرف سے اور ٹھلیاں پیٹرولیم سیکٹر کی طرف سے اچھا ہے، اس سے ملک کے تیل کو نئی پالیسیوں پر عملدرآمد کرنے میں مدد ملے گی! 😊
 
بہت یقین داری کے ساتھ کہ اس منصوبے سے ملک میں تیل کی قیمتوں کو کنٹرول میں لانا ممکن ہوسکتا ہے، لیکن اس پر عمل درامدہ کرنا بھی ضروری ہے کہ ملک میں تیل کی قیمتوں کو کنٹرول میں لایا جا سکے تو یہ معاشی بحران اور غیر قانونی آئل سپلائی چین پر منفی اثرات پڑ سکیں گے۔
 
واپس
Top