بھارت کی حکومت نے نیویارک میئر ظہران ممدانی پر ایک نوٹ لکھنے پر جیل میں بند کارکن عمر خالد کی حمایت کرتے ہوئے "مداخلت" کا الزام لگایا ہے۔ اس نئے رکاوٹ کے بعد ممدانی نے جواب دیا ہے کہ "یہ کون بیرونی شخص ہے جو ہماری جمہوریت اور عدلیہ پر سوال اٹھاتا ہے، اور وہ بھی ایسے شخص کی حمایت میں آ رہا ہے جو ہندوستان کو توڑنا چاہتا ہے؟ یہ منصفانہ نہیں ہے،”
ممدانی کے نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ "جب جیلیں الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو الفاظ سفر کرتے ہیں۔ پیارے عمر، میں اکثر تلخی پر آپ کےalfاظ اور اسے اپنےआप کو استعمال نہ کرنے کی اہمیت کے بارے میں سوچتا ہوں۔ آپ کے والدین سے مل کر خوشی ہوئی، ہم سب آپ کے بارے میں سوچ رہے ہیں.”
بی جے پی کے قومی ترجمان گورو بھاٹیہ نے ممدانی کو ایسی کوششوں کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا، "اگر ہندوستان کی خودمختاری کو چیلنج کیا گیا تو 140 کروڑ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں متحد ہوں گے."
سوشل میڈیا پر ایکس ہینڈل پر یہ نوٹ پوسٹ کرنے کے بعد سے بھارتی سماجی جمہوریات پر شدید ردعمل آیا ہے۔
ممدانی کے نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ "جب جیلیں الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو الفاظ سفر کرتے ہیں۔ پیارے عمر، میں اکثر تلخی پر آپ کےalfاظ اور اسے اپنےआप کو استعمال نہ کرنے کی اہمیت کے بارے میں سوچتا ہوں۔ آپ کے والدین سے مل کر خوشی ہوئی، ہم سب آپ کے بارے میں سوچ رہے ہیں.”
بی جے پی کے قومی ترجمان گورو بھاٹیہ نے ممدانی کو ایسی کوششوں کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا، "اگر ہندوستان کی خودمختاری کو چیلنج کیا گیا تو 140 کروڑ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں متحد ہوں گے."
سوشل میڈیا پر ایکس ہینڈل پر یہ نوٹ پوسٹ کرنے کے بعد سے بھارتی سماجی جمہوریات پر شدید ردعمل آیا ہے۔