یمن بحران؛اسحاق ڈار کا سعودی اور اماراتی وزرا خارجہ کے بعد ترک ہم منصب کو فون

بانسری والا

Well-known member
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق الدار کو بیجنگ میں اپنے دورہ کے دوران یمن بحران کو سلجھانے کے لیے اور پاکستان کی ترجیحاتوں کو واضع کرنے کے لیے سعودی عرب اور امارات کے وزیر خارجہ سے بات چیت کی گئی ہے۔ اسحاق الدار نے ترکے کے وزیر خارجہ حakan فیدان کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی جس میں یمن بحران اور Pakistan-Turkey تعلقات کے بارے میں تبادلہ خیال ہوا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق الدار نے انٹرنیشنل ایئرسکوپ ٹیکنالوجیز (IATK) اور پاکستان کی مختلف کمپنیوں کے لیے 120 میگا ڈالر کے بین الاقوامی مشاورتی تجارتی منصوبوں کو شروع کرنے پر بھی اصرار کیا تھا جس سے پاکستان اور ترکے کے تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔

اسحاق الدار کی سعودی عرب اور امارات کے وزیر خارجہ سے اہم بات چیت میں یمن بحران پر تبادلہ خیال ہوا تھا جس میں دونوں رہنماؤں نے یمن کی صورتحال کو حل کرنے کے لیے تمام فریقین کی کوششوں کو سراہا تھا۔
 
میں تھوڈا سا گھبرا گیا ہے کہ اسحاق الدار نے انٹرنیشنل ایئرسکوپ ٹیکنالوجیز (IATK) کے لیے 120 میگا ڈالر کے بین الاقوامی مشاورتی تجارتی منصوبوں پر اصرار کیا ہے، کیونکہ یہ پاکستان اور ترکے کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی
 
اسحاق الدار کو اس پر ہشار ہوا ہے کہ وہ انٹرنیشنل ایئرسکوپ ٹیکنالوجیز سے صرف 120 میگا ڈالر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بھی اس سے زیادہ حاصل کرنا چاہتے ہوں گے تو پاکستان-ترکی تعلقات کی گہری بھرپور طاقت کس کو نہیں مل سکتی تھی 🤔
 
میں سوچتا ہوں کہ اسحاق الدار کے دورہ کے نتیجے میں پاكستان اور ترکے کے درمیان تعلقات مضبوط ہوسکتے ہیں …….. 😐 مگر میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ ان منصوبوں سے ترکے کو پاكستان کی طرف تو ہمیشہ سے معاشرتی پریشانیوں کا سامنا رہا ہے …… 🤔 مگر میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اسحاق الدار کی بات چیت سے یمن بحران کو سلجھانے کی کوشش کیا جاسکتا ہے …… 🤷‍♂️
 
یمن بحران کی صورت حال میں پھس گیا ہے اور ابھی تو اس کا حل نہیں پکدا تھا، اب وہاں کئی دوسرے معاملات بھی آگ لگا رہے ہیں،Pakistan کی اپنی ترجیحاتوں کو یمن بحران میں حل کرنے کا Means نہیں ढونگا 🤔
 
سعودی عرب اور امارات کے وزیر خارجہ سے بات چیت کرنا بہت گھنٹوں لگتی ہے! 😴 پھر یہ بات چیت تو ایسی ہوتی ہے جس کا نتیجہ یمن بحران کو سلجھانے میں نہیں آتا، بلکہ پاکستان کی ترجیحاتوں کا معامله ہی ہوتا ہے! 🤔

یمن بحران کی صورتحال حل کرنے کے لیے تمام فریقین کی کوششوں کو سراہنا ہمیں نہیں بھولنا چاہئیں اور یہ بات چیت تو ایسی ہوتی ہے جس میں ہمیشہ کچھ فائدہ کہتے ہیں، لیکن انہیں ہمیں بھولنا نہیں چاہئیں! 🙅‍♂️

لेकن، پھر یہ بات یہ ہے کہ پاکستان کی ترجیحاتوں کو واضع کرنا اور ایسے رشتوں کو مضبوط بنانا جو یمن بحران کا حل نہیں لیکن کسی بھی طرح سے پاکستان کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے! 🤑
 
اسحاق الدار کے بیجنگ میں دورہ پر ایسا محसوس ہوتا ہے جیسے انہوں نے یمن بحران کو سلجھانے کے لیے اور پاکستان کی ترجیحاتوں کو واضع کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا ہوگا... 😊 مگر یہ بات بھی تھی کہ اسحاق الدار نے ترکے سے بھی بات چیت کی اور ان دونوں ممالکو کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا منصوبہ तैयار کیا ہوگا... 120 میگا ڈالر والے بین الاقوامی مشاورتی تجارتی منصوبوں سے یہ تعلقات مضبوط ہون گے۔ 🤝
 
اسحاق الدار کی بیجنگ میں دورہ سے نتیجہ یہ ہوگا کہ پاکستان اور ترکے کے تعلقات بہت مضبوط ہو جائیں گے، اس لیے ٹیکنالوجیز میں معاشی تعاون बढھتا گیا ہے... پوری دنیا پر یمن بحران کو سلجھانے کے لیے سب کو ایک ہی لینے کی ضرورت ہے... اسحاق الدار کی بات چیت سے نتیجہ یہ ہوگا کہ سعودی عرب اور امارات کے ساتھ بھی تعاون بڑھتا گیا ہے...
 
اسحاق الدار کی بات چیت سے میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ وہ باہمی ریکارڈ میں بہتری لانا چاہتے ہیں لیکن یمن بحران کی صورتحال کو حل کرنے کے لیے پچھلے سے بنے ہوئے معاملات کو دور نہیں رکھا جاسکتا۔ سعودی عرب اور امارات کے وزیر خارجہ نے بھی اس وقت کے صورتحال میں اپنی طرف سے کی گئی کوششوں کو سراہا لیکن یہ بات پتہ چلتی ہے کہ اب تک جو کچھ کیا گیا وہ صرف توجہ جھیلنے اور معاملات کو ایک نیے دباو میں لانے کے لیے ہی رہا ہے نہ یمن بحران کو سلجھانے کے لیے کہیں جہاں۔
 
یمن بحران سے پاکستان اور سعودی عرب کو ایک دوسرے سے مل کر بات چیت کرنا چاہیے، لاکھ کے اہلین اور معاشیات میں یہ بحران بہت گہرا ہو رہا ہے. اسحاق الدار کی اس بات چیت سے نکلنے والی کوئی نتیجہ کبھی نہ ملے گا اگر پہلے یمن کے بحران کو حل کرنا شروع نہ کیا جائے گا.
 
اسحاق الدار کو واضع کرنا چاہیے کہ ان سے پاکستان کو کتنے پیسے مل گئے ہیں اس بات پر بات نہیں کرنی چاہیے ، تو جب تک وہ اپنے منصوبوں کی اور ترجیحاتوں کی واضح کرتے رہتے ہیں تو یہ معاملہ سمجھنے لگا ہے ، پچاس میگا ڈالر کو بین الاقوامی مشاورتی تجارتی منصوبوں کے لیے 120 میگا ڈالر بھی کیسے مل گئے؟ یہ بات تو سمجھنی پڑتے ہیں
 
یمن بحران کو سلجھانے کے لیے وہاں جانے والے اور اسحاق الدار کی بیٹر نہیں بن سکتا اگر پوری دنیا یمن کی صورتحال کو حل نہ کر سکتی ہو۔ اسحاق الدار کو ترکے کے وزیر خارجہ حakan فیدان سے بات چیت کرنا ایک اچھی تبدیلی ہو گئی ہو گی لیکن پوری دنیا کی مدد کی ضرورت تھی...
 
🙄 میں سوچتا ہوں کہ کیا یہ ایک بڑی بات ہو گی کہ اسحاق الدار نے کہا ہے کہ وہ یمن بحران کو سلجھانے میں عطیہ کرتے ہیں? چل بھائی، وہاں پچیس ہزار کے قریب لوگ ماری گئے ہیں اور وہ اس پر کوئی حل نہیں کھینچ سکتے ہیں?
 
اسحاق الدار کے بیجنگ میں دورہ پر اس کے بعد کا اہم بات چیت سعودی عرب اور امارات کے ساتھ تو ہوا لیکن یمن بحران کو سلجھانے کے لیے بھی نہیں کی گئی تھی، اس پر واضح بات چیت کا امکان کمزور دکھتا ہے، جبکہ پاکستان کی ترجیحاتوں کو واضع کرنے میں بھی نہیں تھا جو یمن بحران سے متعلق اسحاق الدار کی واضح رائے سے متناسق دکھائی دیتا ہے، اس کے علاوہ انٹرنیشنل ایئرسکوپ ٹیکنالوجیز اور پاکستان کی مختلف کمپنیوں کے لیے بین الاقوامی مشاورتی تجارتی منصوبوں پر اصرار بھی تھا جو کہ پاکستان-ترکی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اچھا قدم ہوا گئی ہے، لیکن اس کے علاوہ ان بات چیتوں سے اسحاق الدار کی واضع رائے یمن بحران پر بھی نہیں دکھائی دیتی ہے۔
 
اسحاق الدار کا دورہ بھی ہوا تو اب یمن بحران سے نکلنا مشکل ہی رہا. Saudi Arabia aur Emirates ki foreign minister se bat-chit karne ke liye koi goal nahi hai, woh yemen ka suljhana chahte hain jo unki interests ko justify karein 🤑. Turkey aur Pakistan ke beech ka tie-up bhi mazboot ho jayega to chaliye aage dekhenge kya yeh sab kuchkaam aa jaata hai?
 
اسحاق الدار اور سعودی عرب، امارات کے وزیر خارجہ کے ساتھ بات چیت کرنے سے پاکستان کو یمن بحران میں رکاوٹ نہیں مل گیا ۔ ان کے بین الاقوامی تعلقات کی بات چیت ہوئی، جس سے وہ اسحاق الدار کے ساتھ 120 ملین ڈالر کے تجارتی منصوبوں میں حصہ لے گئے ۔ یمن بحران کو حل کرنے کی بات چیت ہوئی، جس میں تمام فریقین کی کوشش پر انہوں نے سراہا۔
 
واپس
Top