سعودی عرب کی حکومت نے اپنے مرنے کے بعد اپنے اعضا ضرورت مند مریضوں کے لئے عطیہ کرنے کی وصیت کرنے والے 200 شہریوں کیلئے شاہی اعزازات کا اعلان کیا ہے، انھیں بھی سرگرد سے ختم کر دیا گیا ہے جس میں انھیں اپنے مرنے کے بعد اپنی ضرورت مند شخصیات کو عطیہ کرنے کی بھی ترغیب دی گئی تھی، اس طرح اس تحریک کو مزید شاندار اور مقبول بنایا گیا ہے جس سے معاشرے میں ایسی دوسری تحریک جنم لیتی ہے جو نجی زندگی میں یہی بات کروائی جا سکتی ہے، اس طرح سے ایک اور سماجی حیات پیدا ہوگا جس کے ذریعے لوگوں کو اپنی ضرورت مند فلاح و بھلai کے لئے کام کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
یہاں تک کہ ان لوگوں پر شاہی اعزازات ملا، لیکن وہی ایسا نہیں ہوئے جو تحریک کی وجہ سے انھیں عطیہ کرنا تھا انھیں یہ کہنا پڑا جیسا ہوا تو بھلائی دیکھی گئی، لیکن ناکام لوگ اب بھی ان کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ سب ایک ایسا پلیٹ فارم ہو رہا ہے جہاں لوگ اپنی نافذ کردہ خواہشوں کے لئے اور ان کی مدد کے لئے اپنے معاشرے کو سراب سے ختم کرنا چاہتے ہیں، جبکہ اس میں ایک ایسے ماحول کو بھی بنانے کی کوشش کی جائے جہاں لوگ اپنے معاشرے سے لڑے ہوئے بات کر سکیں اور ان کی دیکھی جا سکے، لیکن یہ پلیٹ فارم ابھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ لوگ اپنے خیالات کو لائیں اور دوسروں سے بات کر سکیں
ارے یہ واقف ہو کے، سعودی عرب میں ہوئی اس تحریک نے مجھے مزید سوچنا پکیرا ہے، لوگ اور ان کی جائیدادوں سے کیا کر رہے ہیں، ایسے نہیں ہوتا کے وہ اپنی جائیدادوں سے دوسروں کی مدد کرتے ہیں، میرے خیال میں یہ سیکھنا بہت اچھا ہے... لگتا ہے ہمیں اپنی زمینوں پر ان کا ہاتھ نہ رکھنا چاہیے، مگر یہ سچ ہوتا ہے کے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے زمینوں کو دوسروں کی مدد کرتے ہیں، اچھا بھی اچھا...
اس سے تو یہ بات آئی ہے کہ ایسے لوگ جو اپنی زندگی میں کوئی خاص معاملہ نہیں چھوڑتے ان کو شاندار اور بااثر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلے کسچ کا عہد تھا جس سے یہ سب رواں ہو گیا ہے، اب ان لوگوں کو بھی پھیلانے کی اور کسی نہیں پر چڑھانے کی کوشش کروائی جا رہی ہے۔ یہ بھی ایک بات ہے کہ اس تحریک سے لوگ اپنی زندگی میں ایسا ہی کر سکتے ہیں جو ان لوگوں کی فلاح و بھلائی کے لئے، پھر اس طرح اچھی نجی زندگی کو سماجی حیات بنایا جا سکتا ہے۔
یہ ایک بے مثال بات ہے کہ سعودی عرب نے اپنے شہریوں کو ایسی تحریک میں شامل کرنا جس سے معاشرے میں ایسی دوسری تبدیلی لائی جا سکتی ہے، اور یہ تحریک ان لوگوں کی مدد کے لیے تھی جو اپنے مرنے کے بعد بھی ضرورت مند ہیں۔ اب جب وہ انھیں شاہی اعزازات دیے گئے ہیں تو یہ ایک بڑی بات ہے، پھر بھی کیا اس نے انھیں اس تحریک میں شامل کرنے کا موقع دیا ہوگا یا صرف انھیں اعزاز دینے کا، یہ بات کچھ ایسا لگتی ہے جیسے وہ نہیں چاہتے کہ انھیں اس تحریک میں شامل کرایا جا۔
یہ تو وہ انشورنس کمپنیاں جو عوام کو سچائی دیتے ہیں، ابھی یہ دیکھتے ہیں کہ 200 شہریاں کو ایسے لوگوں کی مدد کرنے والے اعضا کا ایک گروپ نواز دیا گیا ہے، انھوں نے اپنے مرنے کے بعد ضرورت مند مریضوں کو مدد کرنے کی خواہش کی تھی، اب وہ بھی شاندار اعزازات سے نوازے جا رہے ہیں… یہ معاشرے میں ایک نئا سماجی حیات پیدا کرنا ہوگا جس کے ذریعے لوگوں کو اپنی ضرورت مند فلاح و بھلائی کی طرف اشتیاق لگائے گی …
اس تحریک کی وجہ سے نرمی اور معاشرتی احترام کی کھابوں نکل رہی ہیں، لوگ اپنی ایسی قوتوں کو ظاہر کرنے لگتے ہیں جو کسی بھی انسانی معashrے میں ناپسندیدہ ہوتی ہیں۔ ان لوگوں پر اس تحریک کی پیروکاروں کی طرف اشارہ کرنا آسان ہونے لگا ہے، اور ابھی تو یہ کہ کوئی نرمی میں دلباز ہوتا ہے، اور اس کے بعد وہی معاشرتی نظام جو سب سے زیادہ محفوظ اور پائیدار سمجھتا تھا، اب ایسا ہی ناکام ہو کر دیکھ رہا ہے۔
بہت گھڑیاں آئیں گی یہ تحریک کو جس سے معاشرے میں ایسی دوسری تحریک جنم لیتی ہے جو نجی زندگی میں یہی بات کروائی جا سکتی ہے، اور اس نے لوگوں کو اپنی ضرورت مند فلاح و بھلائی کے لئے کام کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
یہ واضح تھا کہ سعودی عرب کی حکومت ان لوگوں کو دوسرے معززین سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے جنہوں نے اپنے مرنے کے بعد فلاح و بھلائی کے لئے کیا تھا، انہیں سرگرد سے ختم کرنا ایک دکھ کا کام ہے، ان میں سے زیادہ تر لوگ اس تحریک کو اپنے معاشرتی اور سماجی مقامات پر لانے کی کوشش کر رہے تھے۔
ان شہروں میں جیسا ہو رہا ہے وہاں بھی لوگ ایسے ہی بن رہے ہیں جنہوں نے اپنے مرنے کے بعد لاکھوں کو مدد کی ہے، ان کی کامیابی سے مزید لوگ بھی اسی رواں کے راستے پر چلنا شروع ہوگے ، یہ ایک بڑی شاندار بات ہے، لیکن مجھے ناچنے کی جگہ نہیں اور یہ کہتی ہے کہ اگر آپ محنت کریں تو آپ کو بھی اس طرح کی سہولت ملेगے، لیکن مجھے ایسی بات کی توقع نہیں ہے جس پر لوگ انصاف اور دیکھ بھال کے لئے اپنے مرنے کے بعد اپنی مدد کرنے والوں کو سرچ کرنا پڑے۔
اس دuniya میں ان لوگوں کو مدد دینا ایک نئی دuniya بنانے کا راستہ ہے، وہ جو اپنے مرنے کے بعد بھی لوگوں کی مدد کرتے رہتے ہیں انھیں سبھی سے شرف ملا جا سکتا ہے ۔ Saudi government ne apne marne ke baad apne aapao zarurat mand meryoz ko atiyah karne ki waisit ki hua hai, uss tarah un logon ko bhi shaaheediyaan di ja rahe hain jo apni zarurat mand logon ko atiyyat karne ki waisit karte the. yeh duniya badal rahi hai, humein aur mazboot tareekon se kuchh naya karna padega
یہ دیکھا جاتا ہے کہ ان لوگوں کو جو اپنے مرنے کے بعد دوسروں کے لئے فلاح و بھلائی کرنا چاہتے تھے، اب انھیں معاف کر دیا گیا ہے اور انھوں نے بھی معاف ہونے کے بعد اپنی ضرورت مند شخصیات کو عطیہ کرنے کی کاروائی کی تھی، اب اس لیے انھیں اعزازات دیا جاتا ہے اور ان کی اسی کاروائی کو دوسروں کے لئے ترغیب دی گئی ہے؟ یہ ایک بڑا بات ہے، مجھے یہ دیکھنا اچھا لگتا ہے کہ لوگوں کو اپنی ضرورت مند فلاح و بھلائی کرنے کے لئے ترغیب دی جا رہی ہے، حالانکہ اس طرح سے معاشرے میں ایسی دوسری تحریکوں کی پیدائش نہ ہونے والی ہے جس سے لوگ اپنی زندگیوں میں بھی یہی بات کروائیں۔
یہ تو ایک نئی تحریک ہو رہی ہے، جس سے ہم آگے بڑھتے ہوئے سماج کو یہی دیکھنا پڑتا ہے کہ لوگ اپنے باقیات کی زندگی میں بھی ایسا ہی کیا کروائیں جو انہوں نے اپنی زندگی میں کیا تھا. یہ سے پata چلتا ہے کہ وہ شخص جسے ہم نے اس گیلے ڈرامے میں دیکھا تھا، جو اپنی زندگی کے اختتام پر اچھے لوگوں کی مدد کرنے والوں کو عطیہ کرتا تھا وہ بھی اس طرح ہی کام کیا کروگا.
میں کہتا ہوں، یہ ایک بڑا پیار ہے جو ہم سب کو اپنی زندگی میں ڈال رہا ہے، جس سے ہمیں سمجھ آئے گا کہ وہ ہی فلاح و بھلائی کی سب سے اچھی شکل ہے.
یہ دیکھنا ان شاندار لوگوں سے بھی نامانع ہے جو اپنے مرنے کے بعد اپنے اعضا ضرورت مند مریضوں کی مدد کرنے کو چاہتے ہیں، انہیں بھی ایک عہد پہنا ہوا ہے اور ان کے کام کی جانب سے معاشرے کو یہ بات بنائی جا سکتی ہے کہ لوگ اپنے مرنے کے بعد بھی اپنے اعضا ضرورت مند لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں، یہ ایک شاندار پہلو ہے جو معاشرے کو ایسی اور تحریکوں کا شکار کر دیتا ہے جس سے لوگ اپنی نجی زندگی میں بھی یہی بات کروائیں، ابھی تک انہیں صرف اعزازات سے فخر کی سائے دیکھنا پڑا ہے، لیکن اب اس تحریک کو ایسا نہیں بنایا جا سکتا جس سے لوگوں کے ذہن میں ایک اور سماجی حیات پیدا ہوگا جو معاشرے کو بھلاو و فلاح کی راہ میں لے جائے گا
اس تحریک سے سمجھتا ہوں کہ یہ ایک اچھا بات ہے، پھر بھی اس پر کچھ غور کرنا چاہئے۔ لوگ ان 200 شہریوں کو دیکھ کر اٹھ کر رہ گئے ہیں؟ یہ واضح طور پر بھی کہتا ہے کہ یہ صرف ایک تحریک نہیں بلکہ ایک موومینٹ، اور یہ موومینٹ دوسرے لوگوں سے منچنے لگا ہے۔
یہ تو ایک اچھا حوالہ ہے ان لوگوں کو جو اپنی مرز میں پائے جاتے ہیں، اب اس سے بھی بھاری معاشرتی منافقت کی پدھار دیکھنے کا موقع مل گئا ہے، مجھے لگتا ہے کہ اس تحریک کو مزید مقبول بنانے کے لیے ان لوگوں کو سماجی منافقت کے بھی ملازم کیا جا سکتا ہے، اس طرح سے اس میں مزید دوسرے لوگ شامل ہوجائیں گے اور نجی زندگی میں یہی بات کروائی جا سکتی ہے کہ فلاح و بھلائی کے لیے کام کرنا، یوٹوب پر سے لے کر دوسرے ذریعے تک اس کی ترغیب دی جا سکتی ہے
یہ تحریک ابھی تو شروع ہوئی تھی اور اب اس کو اس طرحوں بڑھایا جا رہا ہے جیسے لوگ اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ماننے لگے، یہ صرف ایک نہیونگے، پھر یہ تحریک کس کی پیروی کر رہی ہو، تھیردھن (تین دھن) کا ایسا ہی کاروبار بن گیا ہے جس میں لوگ انڈیکشن لیتے چلے آئے مگر وہ خود بھی انڈیکشن نہیں دیکھتے، یہ سب کچھ معاشرے کو ایک نا سچے جگہ پر لے جایگی۔