مسافر طیارہ گر کر تباہ تمام افراد ہلاک

گھمکڑ

Well-known member
انڈونیشیا میں ایک چھوٹا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوا، جس میں تمام سوار افراد ہلاک ہوگئے۔ مسافران کا یہ چورچرہ ایرپورٹ آف لیمبنگ، لیانگ لینگ ضلع میں ہوا تھی۔

تذکرہ کردہ صحت کے مہمات نے ایسے 60 اہلکار اور ماہرین کی مدد سے باقی ملبے کو تلاش کرنا جاری رکھا ہے، جو یہاں تک پہنچتے ہیں کہ چار یا پانچ افراد کی جان کی صورت میں نکل سکیں گئیں۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق، طیارہ اے ایر ٹرانسپورٹ کا علاقائی طیارہ اے آر ٹی 42-500 تھا جس میں چار مسافروں اور اٹھارہ عملے کی جانب سے سفر شروع ہوا تھا، لیکن اس نے تقریباً 12 میل پہلے ایئرپورٹ کے ایریا میں رکاوٹ پیدا کر دی اور اس پر کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

انڈونیشیا ایئر ٹرانسپورٹ کے ڈائریکٹر کو بتایا گیا ہے کہ یہ طیارہ اپروچ میں نہیں تھا، لیکن ایر ٹریفک کنٹرول نے اسے درست سمت میں لانے کی ہدایات دیں، حالانکہ رابطہ منقطع ہو گیا تو بھی ایمرجنسی کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
 
عجیب و غریب ہے کہ انڈونیشیا میں ایک چھوٹا سا مسافر طیارہ جس پر چار بڑے پیمانے پر سفر کرنے والی افراد تھے، اس نے صوبے میں تقریباً 12 میل کے distant پر رکاوٹ پڑی اور تمام سوار افراد ہلاک ہو گئے۔ یہاں تک کہ ایئرپورٹ آف لیمبنگ کی تازہ ترین خبروں میں یہ بھی شامل ہے کہ ان 60 اہلکاروں اور ماہرین نے جان جما کر اس ملبے کو تلاش کیا ہے جو پہنچتے ہی تمام سوار افراد کی جان بچا سکتی ہے۔

لیکن یہ بات قابل توجہ ہے کہ ایئر ٹریفک کنٹرول نے اس ایرپورٹ کو جوڑنے میں ایسے اہم کردار کا ادا کیا تھا، لیکن ابھی تک انہوں نے بھی اس ملبے کی تلاش میں ایک جانب ہی ركھا ہے۔

اس طرح کی یہ حادثات ہوتی ہیں جس پر دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ کسی چھوٹے سے بڑے پیمانے پر ناکام ہونے کی طرف وہدھا ہے، لیکن یہ حادثات کبھی نہیں ٹل سکتے، کبھی ان میں توسیع اور کبھی ان میں ترقی دیکھنی پڑتی ہے۔
 
یہ بات کچھ لگتا ہے کہ انڈونیشیا کی ایئر ٹرانسپورٹ نے اس چھوٹے مسافر طیارہ کو اتنا ہیں اور یہ بات کیسے پھیلائے گی کہ یہ ٹرانزٹ کیا جا سکتا ہے؟ 42 500 کی قیمت کا ایک طیارہ جو صرف چار مسافروں اور 18 عملے تک ہی پہنچتا ہے، اب بھی ایئر ٹریفک کنٹرول نے اسے اچھی طرح سے توجہ نہ دی تو کیا اس کی فائدے میں کیسے فائدہ ہوا؟ اور یہاں تک پہنچتے ہی ایک چار یا پانچ افراد کی جان بھی نکل سکیں گئیں، یہ تو ایسا لگتا ہے کہ انڈونیشیا میں ایئر ٹرانزٹ کو ایسے ڈھانچے کی ضرورت ہے جو اسے سیکھنے کا موقع دیتے ہیں۔
 
یہ چورچرہ ٹرین لانے والوں کو انڈونیشیا میں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہ ہار ہوجائیں، اس وقت کھل کر کہا جائے کہ ایئر ٹریفک کنٹرول کو اپنی قیمتی جانوں پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں، انہیں کہیں یہی رہنے والا ہوں جو کسی چھوٹے چورچرہ میں اپنی زندگی کہلانے کی اجازت دیتا ہے؟
 
امید کیا جائے کہ اس چورچرہ میں سوار ہونے والے تمام لوگ اپنی جانوں کو بچای گئے ہوں اور اب تک نکلنے کی صورت حال کو دیکھتے رہنا ہی بہترین ہوگا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ انڈونیشیا ایئر ٹرانسپورٹ کے ڈائریکٹر کو بتایا گیا ہے کہ یہ طیارہ اپروچ میں نہیں تھا، لیکن ایر ٹریفک کنٹرول نے اسے درست سمت میں لانے کی ہدایات دیں، جو وہی ہدایت ہے جس کا نہیں ہونا چاہیے۔ اچھا، ابھی تک ٹیکسموٹس کے اس عمل میں بھاگنے والے 60 افراد بھی رپورٹ سے پہلے اپنی جانوں کو نکلانے کی صورت میں ہیں۔
 
اس نوجوانوں کو وہ سفر نہیں مل سکا جو ان کا اہداف تھا۔ ہمیں اپنے خطرات کو سمجھنا چاہئے اور ایسے سفر سے بچنا چاہئے جو حتماً ان کا خاتمہ لے گا۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں ایک اور پلیٹ فارم کو تیار کرنا چاہئے جس پر لوگ اپنی محنت سے سفر کر سکیں اور ان کے لئےSafety کی کوئی بھی صورت حال نہ ہو۔
 
اس حادثے سے پہلے بھی چیرٹرڈ ایرلیفٹ نہیں ہوتا؟ یہ سوالEveryone کی کھڑکی میں آ گیا ہے، اس حادثے نے سارے اٹھارہ عملے اور چار مسافروں کو جان بھی جما لی۔

اس حادثے کی وجوہیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مسافران کو ایر ٹریفک کنٹرول سے رہائی کی ہدایت کر دی گئی تھی، لیکن انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا، جس کی وجہ سے اسی راستے پر ایک اور طیارہ لینے والا ان کی ریکا پہنچ گیا تھا۔

اس حادثے سے پہلے بھی کبھی کبھر چیرٹرڈ ایرلیفٹ نہیں ہوتے؟ یہ سوالEveryone کی کھڑکی میں آ گیا ہے، اس حادثے نے سارے اٹھارہ عملے اور چار مسافروں کو جان بھی جما لی۔

سفارن سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے اس حادثے میں کیا کردار ادا کیا تھا؟ کیا وہ وقت پر ایرپورٹ آفیسر کے ساتھ رابطہ اورٹا کر سکتیں ہیں? اس حادثے کی وجوہیت کو جاننے والے 60 اہلکار اور ماہرین نے بھی پوچھتے ہیں کہ وہ کیسے کر سکتیں ہیں؟
 
یہ دیکھ کر میں بہت متاثر ہوا، اس چورچرے میں پانچ افراد نکل سکیں گئے؟ یہ کیسے Possible tha? وہاں ایسے بہت زیادہ مظلوم رہ گئے تھے، اس کے لیے صحت کے مہمات کی بھی مدد لینا چاہیے؟
 
یہ طویلا ماحول میں رکاوٹ کیسے پڑتے ہیں؟ یہ چوٹی چوٹی آئرپورٹ آف لیمبنگ میں ایک چھوٹا سا چورچرہ گر کر تمام مصلحین کے قتلی ہوجانے پر کوئی آجاز نہیں کیا؟ یہ طربا کی وہ پالیسی جو سائنس اور ٹیکنالوجی کے نام پر چل رہی ہے، اس پر ہمیں کوئی دیکھ بھال نہیں کرتا؟
 
تمام افراد ہلاک ہونے سے کیا منzar ہوا گا؟ یہاں تک کہ چار یا پانچ افراد جان کی صورت میں نکل سکیں تو بھی ایسا نہیں ہو گا!

میری والدہ نے کہا تھا کہ اگر میرا لگبگ دو سال پہلے مسافرت کرنا تھا تو وہ کتنی اچھی ہوئی تھی، اب یہ چورچرہ ایک اچھی نہیں بن سکا!

میری خواہش یہ ہے کہ اس حادث میں اچھا لگنے والا یہ ایرپورٹ اب بھی بنا رہ جائے!
 
اب تک کچھ نہیں ہوا ہے... کیا انڈونیشیا میں ایئر ٹریفک کی پلیٹ فارم پر بھی کوئی کنٹرول کر رہا تھا? یہ اس بات سے اچھی نہیں ہوگا کہ ان ہلاکتوں میں سے کسی کی تکلیف کے لئے کوئی ذمہ دار نہیں ہوا تھا... اور اب اس چورچرے کو تلاش کرنے والی صحت کے مہموں کتنی بہت دیر میں آئیں گی؟
 
واپس
Top