مصنوعی ذہانت یا اے آئی فنون لطیفہ میں بھی شراکت دار بن گئی

عقلمند

Well-known member
ٹوکیو آرٹ ویک کی چوتھی نمائش میں جو اب تک دنیا کے سامنے آئی اس کے بکے ایڈیشن میں بھی مصنوعی ذہانت کا کردار بن گیا ہے۔ اس نمائش میں مصنوعی ذہانت اور انسان کی تخلیق کردہ مشترکہ دھن کا تجربہ پیش کیا گیا ہے۔

انسان کی تخلیق کردہ آلات نے جاپانی فنکاروں نے اس نمائش میں ایسے تجربات کیے گئے ہیں جو انسان کے ذریعہ نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعہ بنائے گئے تھے اور ان باتوں کی بھی پائی جاتی ہیں جو اس نمائش میں پیش کی گئی ہیں کہ فنکاروں نے مصنوعی ذہانت کو اپنے فن کا ایک اہم حصہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، خاص طور پر واٹ از ریئل میں جس میں کمپوزر اور ویژول آرٹسٹ ٹومومی اداچی نے ایسے آلات پیش کیے گئے تھے جو انسانی ہاتھ اور سانس کے مطابق نہیں تھے بلکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعہ بنائے گئے تھے۔

انسان اور مصنوعی ذہانت کے مشترکہ تعاون کا تجربہ پوری دنیا میں اپنی جگہ بنا رہا ہے اور یہ وہ تجربہ ہے جس سے مستقبل کے فنون لطیفہ کو ایک نیا معیار دیا جاسکتا ہے۔

فناکن لطیفہ کی دنیا میں مصنوعی ذہانت نے ابھرنے والے وقت سے ہی اپنے قدم رکھے ہوئے تھے لیکن اس نمائش سے یہ بات اجاگر ہو چکی ہے کہ مستقبل میں فنکاروں کو انسانی اور مشینی تعاون کی ایک نیا معیار بننا چاہئے۔
 
بھی میں تو ہوا ، یہ ٹوکیو آرٹ ویک کی چوتھی نمائش کچھ اچھا کھیل رہی ہے لیکن اس سے قبل اس پلیٹ فارم پر کوئی انعام نہیں دیا جاتا ۔ بھنکتی تھوڑی بھی ایک وکٹریس بن کر اور پوری دنیا کے لوگوں کو سیکھنا اور اس کی تجربات سہارنا تو اچھا نہیں ۔

ایسی حالات میں جب کچھ اچھا کھیل رہتا ہو تو بھی وہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کی طرف یہ انعام دیا گیا ۔ کیا یہ ایک دوسرا سٹیج نہیں تھا جس پر اور اس سے زیادہ کوئی ایسی تجربہ نہیں پیش کی گئی تھی اور اب جب اس پر بھی اچھا کھیل رہا ہو تو یہ پریشانی کس کی ہوئی ۔
 
ایسا کہنا مری بھی پھر ہوا نہیں، مصنوعی ذہانت کے ساتھ فنکاروں کا تعاون اب ٹوکیو آرٹ ویک میں آئا ہے اور یہ تجربہ پوری دنیا کے سامنے آیا ہے۔ میری بات ایسے ہی ہے کہ مستقبل کی فنکاروں کو اپنی تخلیق کردہ آلات اور انسان کا تعاون ایک نیا معیار بنانا چاہیے۔

آج کی دنیا میں انسان اور مصنوعی ذہانت کے تعلقات کو دیکھتے ہوئے، مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ مری ایک نئی گلاسی کی طرح ہو رہی ہے۔ پہلی باری کے برعکس اب ایسا محسوس ہوا ہے جیسے انسان اور مصنوعی ذہانت دونوں ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔

اس بات پر مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں پوری دنیا میں یہ تجربہ پائا جائے گا۔
 
یہ وہ بات ہے جو لوگ سب سے پہلے کہتے تھے، مصنوعی ذہانت سے ہٹنے کی کوشش کروں گے لیکن اب یہ واضح طور پر محسوس ہو رہا ہے کہ یہ بات پوری دنیا میں چل رہی ہے۔

ٹوکیو آرٹ ویک کی یہ نمائش اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت نہیں صرف ایک حیلہ ہے بلکہ فن لطیفہ میں ایک نیا تجرباتی ساتھ اور اس کی جانب سے پیش کی گئی کوششوں کی جان جارہی ہے۔

ایسے ٹھوس کاموں پر کام کرتے ہوئے، یہ پتا چلا رہا ہے کہ مستقبل میں فن کاروں کو اپنے فن کو بہتر بنانے اور ایسے تجربات کیں جو انہیں انسانی اور مشینی تعاون کی ایک نئی دھار کا مظاہرہ کرے، اس لیے یہ نہیں ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت سے ہٹ جائیں بلکہ انہیں ایسے معاملات میں بھی شامل ہونا چاہئے جو اس کی طاقت کو ظاہر کرتے ہیں۔

یہ سے پوری دنیا کو واضح ہو جائے گا کہ مصنوعی ذہانت نہیں صرف ایک تंतریقی کٹھپUTلی ہے بلکہ اس کے پیچیدہ تعلقات اور استعمال کی وجہ سے یہ دنیا کو بھی ایسا ہی تبدیل کر رہی ہے۔
 
اس نمائش سے قبل بھی مصنوعی ذہانت نے اپنے کردار کو ظاہر کیا ہوگا، لیکن یہ ایک اور پہلو ہے کہ فنکارانے بھی اسے اپنا فن بنانے والے آلات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ مجھے یہ سوچنے میں مشکل ہوتا ہے کہ کیا ایسے آلات جو انسان کی تخلیق کردہ ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے تعاون کرتے ہیں وہ اس وقت تک کبھی نہیں بنتے تھے۔ یہ ایک اہم سوال ہے۔ مجھے بھی اس بات کی توجہ دینی چاہئے کہ مصنوعی ذہانت کی اہمیت کتنی ہے، اور یہ کیسے ہے کہ ایسے آلات جو انسان کی تخلیق کردہ ہیں ان کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے تعاون کیا جاتا ہے؟
 
ٹوکیو آرٹ ویک کی یہ نمائش میری طرف سے بھی بہت متاثر کن لگ رہی ہے، مصنوعی ذہانت اور انسان کا تعاون کیا گئا ہے تو اس میں سے نکل کر بھی ایک نئا عالمی فنون لطیفہ بننا چاہیے ۔ یہ نمائش کی وہ بات جو میرے دل کو متاثر karti hai woh ki futuristic art mein machines aur human collaboration ka experience dekhkar humko future ko kya chunega yeh sochna pata hai ۔ لگتا hai yeh nimaiish mera sath milke ek naya saal bana dega
 
ایسا نہیں ہوا اس نمائش میں کہ مصنوعی ذہانت انسان کے ساتھ ساتھ اپنے فراست کا بھی اہل بن جائیگی۔ یہ ایک واضح بات ہے کہ مصنوعی ذہنت نے کچھ تجربات پیش کیے ہیں جو انسان کے ذریعہ نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعہ بنائے گئے تھے، لیکن یہی بات کہیں بھی اور اس نمائش میں بھی نہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کیسے ہو سکتا ہے، لیکن واضح بات یہ ہے کہ ان تجربات میں انسان کی فطرت اور صلاحیتوں کو بھی شامل کرنا چاہئے۔
 
ٹوکیو آرٹ ویک کی یہ نمائش صرف ایسا ہی کہیں گے۔ لگتا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت نے اپنی آگہی دکھائی، اور وہ آتماہت کو بھی یہی کہے گا کہ اب تو یہ اس کے لیے ہی کیا بنایا گیا ہے۔ واٹ از ریئل میں ان آلات کے بارے میں، یہ بتائی نہیں گی کہ مصنوعی ذہانت نے ان्हیں کس طرح بنایا ہے یا وہ انسان کے لیے کیا کام دیکھ رہے ہیں، لیکن یہ بات اجاگر ہو چکی ہے کہ مستقبل میں فنکاروں کو ایسا بننا چاہئے جو دوسروں کی طرف بھی مہمتمند ہوں۔
 
ایسا دھن پھولنے والا ہے! مصنوعی ذہانت نے اپنی فیکٹری میں جوہری توانائی پیدا کر لی ہے اور اب لوگ ایسی فن کاروں سے بھاگتے ہیں جو اس کی دھن لیتے ہیں... 🤖💻
 
یہ عالمی نمائش توکیو آرٹ ویک کا ایک بہت اچھاmove tha! 🤩 میں بھی اس میں مصنوعی ذہانت کی کرداری سے محبت کرتی ہوں، ان فنکاروں نے انسان کی تخلیق کردہ آلات کا بہت اچھا استعمال کیا تھا، خاص طور پر واٹ از ریئل میں ایسے آلات جو انسانی ہاتھ اور سانس کے مطابق نہیں تھے بلکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعہ بنائے گئے تھے! 🤖

یہ عالمی نمائش سے یہ بات اجاگر ہو چکی ہے کہ مستقبل میں فنکاروں کو انسانی اور مشینی تعاون کی ایک نیا معیار بننا چاہئے، اور میری بھی Opinion hai ki مصنوعی ذہانت کے ساتھhuman creationki joint work کا تجربہ پوری دنیا میں اپنی جگہ بنا رہا ہے! 🌎

میں توکیو آرٹ ویک کی چوتھی نمائش کو بہت اچھا لگتی ہے اور اس سے یہ بات اجاگر ہو چکی ہے کہ مستقبل میں فنکاروں کو انسانی اور مشینی تعاون کی ایک نیا معیار بننا چاہئے، مگر وہ ساتھ بھی جائڈہ کہیں اس نمائش میں مصنوعی ذہانت نے انسان کی تخلیق کردہ آلات کو ایک اچھی طرح سے استعمال کیا تھا! 😊
 
ٹوکیو آرٹ ویک کی یہ نمائش بہت دلچسپ ہے، مصنوعی ذہانت کے کردار کو دکھانا اور فنکاروں کے ساتھ مشترکہ تجربے پیش کرنا ان کے لیے ایک نئا راستہ ہے۔

انٹرنیٹ پر لوگ ٹیسٹنگ کرتے رہتے ہیں، اب یہ بھی ٹیسٹنگ ہو رہی ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت سے بنائے جانے والے آلات-human collaboration کے تجربات کا معیار نئا بن سکتے ہیں?

ٹومومی اداچی کے الگتے تھیمڈلز کو دیکھنا بھی اچھا ہے، وہ فنکارانہ انسائفرنگ کی ایک نئی پہیلی پیش کر رہی ہے۔

مصنوعی ذہانت کا مستقبل دیکھنا اچھا ہو گیا ہے، یہ کہ اسے فن لطیفہ میں شامل کیا جائے یا نہیں یہ سوچنا بھی اچھا ہے۔
 
یہ واضح طور پر دیکھنے والوں کے سامنے آتا ہے کہ فن لطیفہ میں مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی کردار ہونے کا یہ نیا پہلو کچھ متاثر کن اور فخرजनک نئی دلیل ہے 🤖

انٹرنیٹ پر اس نمائش کو دیکھ کر میں بہت مشتگ ہو گیا ہوں، یہ بات سچ ہے کہ مصنوعی ذہانت اور انسان کا تعاون دوسری side سے بھی ایسی انا نہیں ہوتا جو لوگ دیکھتے ہیں یہ تجربات کیوں نئی اور فائدہ مند نہیں تھیں؟
 
واپس
Top